نئے ایرانی صدر ابراہیم سے دنیا خائف کیوں ہے؟

ایران کے نئے صدر ابراہیم رئیسی ایک سابق چیف جسٹس ہونے کے باوجود امریکی پابندیوں کا شکار ہیں اور انہیں ایک سخت گیر شیعہ رہنما سمجھا جاتا ہے جن کی صدارتی الیکشن میں کامیابی نے مغرب میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔
آخر ابراہیم رئیسی کی شخصیت میں ایسا کیا ہے جس سے ان کے حریف اتنے خائف ہیں۔ عالمی امور پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار آصف شاہد کے مطابق دراصل ایران میں اصلاح پسندوں اور قدامت پسندوں کے مابین انتظامی اختیارات اور قانون سازی کے اختیارات کے لیے ہونے والی کشمکش اس الیکشن میں قدامت پسندوں کے مکمل کنٹرول پر منتج ہوئی ہے جس سے ایران کے اندر اور باہر بے چینی پائی جاتی ہے۔ ایران میں طاقت کی کشمکش کے اس دور میں سابق صدر خاتمی کی اصلاح پسند حکومت نے بڑے بڑے وعدے کیے لیکن عملی طور پر زیادہ کچھ نہیں کر پائی تھی۔ صدر خاتمی نے ایرانی معاشرے میں ثقافتی گھٹن کو قدرے کم کیا تھا لیکن ان کی حکومت کے ختم ہونے کے ساتھ ہی انکی یہ کامیابی بھی رول بیک ہوگئی تھی۔
اس سے پہلے 2005ء میں احمدی نژاد کی صدارتی الیکشن میں کامیابی کے ساتھ قدامت پسندوں نے ایران کو دوبارہ انقلابی راستے پر ڈالنے کی کوشش کی لیکن دوسری مدت صدارت میں احمدی نژاد کی ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہی لڑائی سروع ہو گئی اور متنازع الیکشن کے نتیجے میں ایرانی عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ دراصل 2013 میں صدر روحانی کا اقتدار میں آنا اصلاح پسندوں اور ریاستی طاقتوں کے اتحاد کا نتیجہ تھا جس کی سرپرستی سابق صدر رفسنجانی نے کی تھی۔ 2013 میں اقتدار لینے کے بعد صدر روحانی کی حکومت نے پچھلی اصلاح پسند حکومتوں کی طرح بڑے بڑے وعدے کیے لیکن عملی طور پر زیادہ کچھ کر نہیں پائے اور یوں انکے دور میں درمیانے طبقات معاشی طور پر زیادہ متاثر ہوئے۔ انکے دور میں لگنے والی امریکی پابندیوں کے ساتھ ساتھ بُری گورننس نے ایرانیوں کا یہ حال کیا کہ تیل کی قیمتیں بڑھنے پر نومبر 2019ء میں پُرتشدد مظاہرے ہوئے اور نیم فوجی دستوں نے مظاہرین پر گولی چلائی، جس کے نتیجے میں ڈیڑھ ہزار افراد کے مرنے کی رپورٹس منظرِ عام پر آئیں۔
ان واقعات کے بعد ابراہیم رئیسی کا صدر بننا ایران کے قدامت پسندوں کی نہ صرف بڑی فتح ہے بلکہ لگتا ہے کہ اصلاح پسند اب پہلے جیسی مزاحمت کے قابل بھی نہیں رہے، یہی وہ خدشہ ہے جس پر ایران کے اندر اور باہر بے چینی پائی جاتی ہے۔ ایران کے صدارتی انتخابات میں اس بار قدامت پسندوں کا زور ابتدائی نامزدگیوں سے ہی ظاہر ہوگیا تھا جب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ریٹائرڈ کمانڈروں کی نمایاں تعداد سامنے آئی تھی۔ شوریٰ نگہبان نے بھی اس بار اصلاح پسندوں کو الیکشن سے باہر رکھنے کی کوشش کو ڈھکا چھپا نہیں رکھا لیکن اصلاح پسندوں کو نااہل قرار دیتے ہوئے پاسدارانِ انقلاب کے امیدوار بھی نااہل قرار دیے گئے تاکہ تنقید کرنے والوں کو جواب دینے کا راستہ رکھا جاسکے۔
پاسدارانِ انقلاب کے امیدوار نااہل ہوئے یا پھر ابراہیم رئیسی کے حق میں دستبردار، لیکن پولنگ سے پہلے ہی واضح ہو گیا تھا کہ ابراہیم رئیسی اگلے صدر بننے والے ہیں۔ تاہم اس الیکشن میں ٹرن آؤٹ 49 فیصد سے کم رہا اور یوں عوام نے من پسند نتائج والے اس الیکشن میں عدم دلچسپی ظاہر کی۔ اس سے پہلے ایران کے صدارتی انتخابات میں ٹرن آؤٹ 60 فیصد سے زیادہ اور 77 فیصد تک رہنے کا ریکارڈ موجود ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر کے قریبی ساتھی تصور کیے جانے والے ابراہیم رئیسی کون ہیں؟ اور ان کی ایران کے مستقبل کے منظرنامے میں کیا اہمیت ہے؟ اس سوال کا جواب مغربی دنیا میں پائی جانے والی بے چینی کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ یاد رہے کہ 1979 کے انقلاب سے چار سال پہلے، 15سالہ رئیسی نے اپنے آبائی شہر مشہد سے قم کا سفر کیا اور وہاں کے مشہور مدرسے میں داخلہ لیا۔ 1981ء میں ابراہیم رئیسی نے تعلیم چھوڑ کر ایرانی دارالحکومت کے نواحی قصبے کرج کا پراسیکیوٹر بننے کا فیصلہ کیا۔ 10 سال سے بھی کم عرصے میں ابراہیم رئیسی ایرانی عدلیہ میں اہم عہدوں پر ترقی پاتے چلے گئے اور ایران کی اس سیاسی و عدالتی کمیٹی کے رُکن بن گئے جو ‘موت کمیٹی’ کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس کمیٹی نے 1988 میں سیاسی قیدیوں کو پھانسی کی سزائیں دیں۔ پھانسی پانے والوں میں زیادہ تر بائیں بازو کے کارکنان اور منحرف گروپ مجاہدین خلق کے ارکان تھے۔ انسانی حقوق کے گروپوں کا اندازہ ہے کہ تب ایران میں قریباً 5 ہزار افراد کو پھانسی دی گئی تھی جبکہ مجاہدین خلق یہ تعداد 30 ہزار بتاتی ہے۔
ان پھانسیوں کے وقت ابراہیم رئیسی ایران کے چیف پراسیکیوٹر تھے۔ 2019ء میں امریکا نے ابراہیم پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزام عائد کرتے ہوئے ان پر پابندیاں عائد کر دیں۔ اسی لیے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اب مطالبہ کیا ہے کہ رئیسی کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔
ابراہیم رئیسی کے بارے میں عام خیال ہے کہ وہ ایران کے موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے عقیدت مند ہیں اور ان کے حکم بجا لاتے ہیں لیکن ابراہیم ایک زمانے میں سپریم لیڈر کے بیانات پر تنقید بھی کرتے رہے۔ تاہم ابراہیم کی قسمت ان کا ساتھ دیتی رہی اور ایرانی اسٹیبلشمنٹ نے انہیں ملک کا صدر بنانے کے لیے تیار کرنا شروع کردیا۔ کہا جاتا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر ملک کے صدر کو تابع فرمان دیکھنا پسند کرتے ہیں اسی لیے اصلاح پسند صدر ان کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوتا۔ احمدی نژاد کو بھی ایرانی اسٹیبلشمنٹ نے صدر بنوایا تھا اور ان کے بارے میں خیال تھا کہ وہ تابع فرمان رہیں گے لیکن انہوں نے دوسری مدت صدارت میں نافرمانی شروع کردی۔ احمدی نژاد کا تجربہ سپریم لیڈر کے لیے ایک تلخ یاد بن گیا، اسی بنا پر سپریم لیڈر کی ٹیم نے ایسا فرد تلاش کرنا شروع کیا جس میں نافرمانی کے جراثیم صفر ہوں اور وہ عوام میں بھی منفی تاثر نہ رکھتا ہو، یوں نظرِ انتخاب ابراہیم رئیسی پر ٹِک گئی۔
یوں 2019ء میں ایران کے سپریم لیڈر نے ابراہیم کو ملک کا چیف جسٹس نامزد کردیا۔ انہون نے بحیثیتِ چیف جسٹس ابراہیم خود کو میڈیا کی آزادی کا حامی اور سماجی نیٹ ورکس کی بندش کا مخالف بناکر پیش کیا اور نوجوان طبقے میں ساکھ بہتر بنانے کی کوشش کی۔ ھالیہ صدارتی انتخابات میں ایرانی اسٹیبلشمنٹ نے اصلاح پسندوں کو نااہل کیا اور انکی صدارت کے راستے کے تمام کانٹے چن دیے۔ یوں وی صدر بن گے۔ ابراہیم رئیسی بذاتِ خود معتدل مزاج اور خوش گفتار ہیں لیکن یہ طے ہے کہ ان کی پالیسیاں پسِ پردہ بیٹھے سخت گیر اور قدامت پسند بنائیں گے۔ چنانچہ مغربی دنیا کا ابراہیم رئیسی کے اقتدار سے خائف ہونا بنتا ہے۔
