نئے پاکستان میں اقلیتوں اور عبادت گاہوں پر حملے جاری

پاکستان میں اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں پر شدت پسند مذہبی عناصر کی جانب سے حملے جاری ہیں اور اب ایک تازہ واقعہ رحیم یار خان میں پیش آیا ہے جہاں ایک ہندو مندر کو حملہ کر کے تباہ کر دیا گیا یے۔ اس حملے کی وجہ یہ الزام بنا کہ اس مندر میں ہندو اور مسلمان اکٹھے کھانا کھاتے ہیں۔
اس واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے یہ از خود نوٹس رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد لیا جس میں انہیں اس واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ یاد رہے کہ 4 اگست کو رحیم یار خان کے علاقے بھونگ شریف میں ایک مندر پر مشتعل افراد نے حملہ کر کے مندر میں توڑ پھوڑ کی تھی اور وہاں موجود قیمتی سونے کی مورتیاں اٹھا کر فرار ہوگئے تھے۔ اس واقعے کے بعد علاقے کی ہندو برادری نے شدید احتجاج کیا تھا اور کشیدہ صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے رینجرز کو طلب کرنا پڑ گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے از خود نوٹس کیس میں پنجاب کے چیف سیکریٹری اور پنجاب پولیس کے سربراہ کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا اور واقعہ سے متعلق تفصیلی رپورٹ بھی مانگی تاکہ حملہ آوروں کی نشان دہی ہو سکے۔ عدالت میں ہندو برادری کی نمائندگی پاکستان ہندو کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر رمیش کمار نے کی۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کے حوالے سے وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا تھا کہ درجنوں افراد ڈنڈوں، پتھروں اور اینٹوں کے ساتھ مندر کی کھڑکیوں، دروازوں اور وہاں موجود مورتیوں کو توڑ رہے ہیں۔ لیکن پولیس نے بتایا ہے کہ فوری طور پر ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ۔ ڈی پی او رحیم یار خان اسد سرفراز کا کہنا ہے کہ اس وقت صادق آباد کے علاقے بھونگ شریف میں پولیس کا آپریشن جاری ہے اور امن عامہ برقرار رکھنے کے لیے رینجرز اور پولیس کے اہلکار علاقے میں تعینات کر دیئے گئے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ جہاں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا وہاں ہندو برادری کے 80 مکانات موجود ہیں جو کہ متائثرہ مندر کے ارد گرد ہی واقع ہیں۔ علاقے میں اکثریتی آبادی مسلمانوں کی ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کا کوئی واقعہ یہاں اس سے پہلے پیش نہیں آیا۔ اس حوالے سے قومی اسمبلی کے رُکن اور ملک میں ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر رمیشں کمار نے بتایا کہ 4 اگست کے روز بارہ بجے علاقے میں حالات کشیدہ ہونے کی ابتدا ہوئی۔ علاقے میں موجود ایک جیولر نے فیس بک پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں لکھا کہ اس مندر میں مسلمان اور ہندو اکٹھے کھانا کھاتے ہیں اور انھیں اس عمل سے روکا جائے۔ اس پوسٹ کے فوری بعد وہاں جھگڑا شروع ہو گیا اور یہ جسکے بعد قریبی کچے کے علاقے سے شرپسند عناصر بھی وہاں پہنچ گئے۔
پولیس کے مطابق اسکے بعد مندر میں مشتعل افراد نے شدید توڑ پھوڑ کی۔ جب پولیس موقع پر پہنچی تو اس پر بھی پتھراؤ کیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ ابھی واقعے کی ایف آئی آر تو درج نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی گرفتاری ہوئی ہے تاہم حالات کنٹرول میں ہیں اور رینجرز بھی یہاں موجود ہے۔پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر رمیش نے اس واقعے کو علاقے میں 23 جولائی کو پیش آنے والے ایک واقعے سے جوڑا جس میں ایک آٹھ سالہ بچے پر توہین مذہب کا الزام لگا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ 24 تاریخ کو ہم نے ایک آٹھ سال کے بچے کے خلاف 295 اے کے تحت مقدمہ درج کیا۔ مقامی مدرسے کی انتظامیہ نے الزام لگایا تھا کہ لائبریری میں ایک بچے نے آ کر پیشاب کیا ہے۔پولیس کی جانب سے واقعے کی ایف آئی آر درج ہوئی اور بچے کو گرفتار کیا گیا۔اے ایس آئی کے مطابق چونکہ بچہ نابالغ تھا ، اس لیے قانون کے مطابق 295 اے کی سخت سزا اسے نہیں دی جا سکتی تھی۔ مجسٹریٹ صاحب نے 28 تاریخ کو بچے کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔
ڈاکٹر رمیشں نے بتایا کہ رحیم یار خان کے ڈی پی او نے اس بچے کو اٹھایا اور وہ پوسٹ ڈیلیٹ کروائی اور پھر اسے چھوڑ دیا، بچے کو چھوڑنے کے بعد علاقے میں دوبارہ سے ایکٹیویٹی شروع ہو گئی۔ شام کو چار بجے سی پیک کو روڈ 25 کے قریب لوگوں نے بلاک کیا جس کی اطلاع میں نے ایڈیشنل آئی جی کو دی، ساڑھے چھ بجے مظاہرین نے مندر پر حملہ کیا ، گھروں میں گھسنے کی کوشش کی ، صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے رینجرز کو طلب کرنا پڑا تھا۔
