سہیل آفریدی کے دورہ لاہور کی اچانک منسوخی کی اصل وجہ کیا؟

پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئے ہیں، جب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا مجوزہ لاہور دورہ اچانک منسوخ کر دیا گیا۔ یہ دورہ نہ صرف سیاسی سرگرمیوں بلکہ مینارِ پاکستان پر ایک بڑے جلسے کی تیاریوں کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا تھا، تاہم اچانک فیصلے نے پارٹی کے اندر موجود تقسیم اور اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
مبصرین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی سیاسی حالات ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئے ہیں، جب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا لاہور دورہ، جو پارٹی کی تنظیمی اور احتجاجی سرگرمیوں کے لیے اہم سمجھا جا رہا تھا، اچانک منسوخ کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی نے رواں ماہ لاہور میں مینارِ پاکستان کے مقام پر ایک بڑے جلسے کا منصوبہ بنایا تھا، جس کا مقصد عمران خان کی رہائی کی مہم کو تیز کرنا اور پنجاب میں پارٹی کارکنان کو متحرک کرنا تھا۔ تاہم اب یہ دورہ اچانک ملتوی کر دیا گیا۔
ابتدائی طور پر پارٹی کی جانب سے بتایا گیا کہ یہ فیصلہ خیبرپختونخوا میں سکیورٹی صورتحال اور قبائلی علاقوں میں جرگے کی مصروفیات کے باعث کیا گیا ہے۔ تاہم بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ دورہ دوبارہ کب ہوگا یا اس کا نیا شیڈول کیا ہے۔پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق اصل مسئلہ سکیورٹی سے زیادہ تنظیمی اختلافات اور مشاورت کا فقدان ہے۔ کئی رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ پنجاب میں پارٹی کی تنظیمی طاقت کمزور ہے اور وہاں سے مطلوبہ تعداد میں کارکنان کو متحرک کرنا مشکل ہے۔ اسی وجہ سے جلسے کے لیے مطلوبہ تیاری مکمل نہ ہو سکی۔ اس کے ساتھ ساتھ پارٹی کے بعض حلقوں میں سہیل آفریدی کی قیادت اور فیصلوں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ رہنما سمجھتے ہیں کہ پنجاب میں سیاسی سرگرمیاں بڑھانے کے لیے بہتر حکمت عملی اور مکمل تنظیمی تعاون کی ضرورت ہے، جو فی الحال موجود نہیں۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پارٹی کے مختلف گروپس کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان ہے، جس کے باعث بڑے سیاسی پروگرامز کی منصوبہ بندی متاثر ہو رہی ہے۔ بعض رہنماؤں کے مطابق احتجاجی مہم کا زیادہ انحصار خیبرپختونخوا کے کارکنوں پر کیا جا رہا ہے، جبکہ دیگر صوبوں میں متوقع سپورٹ نہیں مل رہی۔
واضح رہے کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ بننے کے بعد لاہور اور سندھ کے دورے کر چکے ہیں، تاہم ان دوروں میں بڑے جلسے منعقد نہیں کیے گئے تھے۔ ان مواقع پر ملاقاتیں اور محدود ریلیاں تو ہوئیں، مگر بڑے عوامی اجتماعات کا منصوبہ مکمل نہ ہو سکا۔پارٹی ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی مستقبل میں دوبارہ لاہور جانے کے خواہشمند ہیں، لیکن اس حوالے سے کوئی حتمی تاریخ طے نہیں کی گئی۔ دوسری جانب پارٹی کے اندر بعض رہنما اس بات پر بھی زور دے رہے ہیں کہ آئندہ سیاسی فیصلے باقاعدہ مشاورت سے کیے جائیں تاکہ ایسی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر اس وقت قیادت، حکمت عملی اور تنظیمی ڈھانچے کے حوالے سے واضح اختلافات موجود ہیں، جو مستقبل میں پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
