سہیل آفریدی نے ایک بار پھر عسکری قیادت کو نشانے پر کیوں لے لیا؟

گزشتہ کچھ عرصے سے گڈبوائے بن کر اسٹیبلشمنٹ کی قربت حاصل کرکے اپنی کرسی بچانے والے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ نے ایک بار پھر عسکری قیادت کو اپنے نشانے پر لے لیا۔ سہیل آفریدی نے دہشتگردی کی حالیہ لہر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ صوبے پر گزشتہ 78 برسوں سے ’’بند کمروں میں کیے گئے فیصلے‘‘ مسلط کیے جا رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے ملک مسلسل بامنی کی زد میں ہے۔ خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں ہونے والے ہولناک خودکش حملے کے بعد صوبے کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے سامنے آنے والے بیان نے ملکی سیاست اور سکیورٹی معاملات میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔مبصرین سہیل آفریدی کے اس بیان کو سکیورٹی پالیسی، فوجی آپریشنز اور وفاق و صوبے کے درمیان بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کے تناظر میں انتہائی اہم قراردے رہے ہیں۔
مبصرین کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس چوکی پر ہونے والے خونریز خودکش حملے کے بعد صوبے کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال ایک بار پھر قومی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ حملے میں 15 پولیس اہلکاروں کی شہادت اور متعدد اہلکاروں کے زخمی ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے بیان نے وفاقی حکومت اور صوبائی قیادت کے درمیان پائی جانے والی خلیج کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ بنوں میں متاثرہ اہلکاروں کے اہلخانہ سے ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت مسلسل خبردار کرتی رہی کہ دہشتگرد دوبارہ منظم ہو رہے ہیں، مگر 78 برسوں سے بند کمروں میں فیصلے کرنے والوں نے ان کی معروضات پر کان نہیں دھرے۔ جس کا خمیازہ آج عوام دہشتگردی کی صورت میں بھگت رہے ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس نے دہشتگردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں، لیکن اب وقت ٓ گیا ہے کہ بند کمروں کے فیصؒے عوام پر مسلط کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ پائیدار امن کے لیے عوام کو بھی اپنے حقوق اور سلامتی کے لیے آواز بلند کرنا ہوگی۔
خیال رہے کہ سنیچر کی شب بنوں کے علاقے فتح خیل پولیس چیک پوسٹ پر شدت پسندوں نے پہلے بارود سے بھرے رکشے کے ذریعے دھماکہ کیا تھا، جس کے بعد چیک پوسٹ پر بھاری ہتھیاروں سے بھی حملہ کیا گیا تھا۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ پوری عمارت زمین بوس ہوگئی اور متعدد اہلکار ملبے تلے دب کر جان سے گئے۔ اس حملے کی ذمہ داری ’اتحاد المجاہدین‘ نامی شدت پسند گروہ نے قبول کی، جبکہ پاکستانی حکام کا دعویٰ ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی۔ تاہم اب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے اس دہتگردانہ کارروائی کی مکمل ذمہ داری عسکری قیادت پر ڈال دی ہے۔
ناقدین وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے بیان کو تجزیہ کار سکیورٹی اداروں اور صوبائی حکومت کے درمیان جاری اختلافات کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کی صوبائی حکومت طویل عرصے سے فوجی آپریشنز کی مخالفت کرتی آئی ہے اور مذاکرات، جرگہ سسٹم اور سیاسی مشاورت کو مسئلے کا حل قرار دیتی رہی ہے۔پشاور میں مقیم سینئر صحافی ارشد عزیز ملک کے مطابق ’’بند کمروں میں فیصلوں‘‘ سے مراد وہ سکیورٹی پالیسیاں ہیں جو صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر تشکیل دی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلیٰ بارہا ایسے بیانات دیتے رہے ہیں جن میں صوبے میں فوجی کارروائیوں اور پالیسی سازی پر تنقید شامل ہوتی ہے۔
اس سے قبل بھی سہیل آفریدی وادی تیراہ میں مبینہ فوجی آپریشنز اور عوام کی نقل مکانی پر سخت ردعمل دے چکے ہیں۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ دو دہائیوں پر مشتمل آپریشنز اور ہزاروں انٹیلیجنس بیسڈ کارروائیوں کے باوجود اگر بدامنی ختم نہیں ہوئی تو صرف طاقت کا استعمال مسئلے کا مستقل حل نہیں ہو سکتا۔دوسری جانب وفاقی حکومت اور عسکری حلقے اس مؤقف سے اختلاف رکھتے ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف خیبرپختونخوا نہیں بلکہ پورے پاکستان کی جنگ ہے، اور تمام اداروں کو مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے میں جاری سکیورٹی اقدامات دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ناگزیر ہیں۔ماہرین کے مطابق خیبرپختونخوا میں بڑھتی ہوئی بدامنی، سیاسی کشیدگی اور وفاق و صوبے کے درمیان اعتماد کے فقدان نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بڑے دہشتگرد حملے کے بعد سکیورٹی پالیسی، فوجی آپریشنز اور اختیارات کی تقسیم سے متعلق سوالات دوبارہ شدت اختیار کرجاتے ہیں۔
