یو اے ای سے پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیوں کیا جا رہا ہے؟

پاکستان کی جانب سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں نے خلیجی اتحادیوں، خصوصاً متحدہ عرب امارات کو ناراض کر دیا ہے، جس کے بعد یو اے ای میں پاکستانیوں کیلئے مشکلات بڑھنے اور انہیں بڑی تعداد میں واپس پاکستان بھیجنے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز کے مطابق حالیہ ہفتوں میں یو اے ای میں پاکستانی شہریوں کے خلاف اچانک کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ متعدد پاکستانیوں کو حراست میں لینے، پوچھ گچھ کرنے، ویزے منسوخ کرنے اور بعد ازاں انہیں پاکستان واپس بھیجنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ بعض کاروباری اداروں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستانی ملازمین کے ورک ویزوں کی تجدید روک دی گئی یا نئی بھرتیوں میں غیر معمولی سختی اختیار کی جا رہی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان ڈی پورٹ کیے جانے والے زیادہ تر افراد شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔
یاد رہے کہ مئی 2025 میں پاک بھارت جنگ کے بعد سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ کیا تھا جسکے رد عمل میں متحدہ عرب امارات نے بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر لیا تھا۔ ایران اور امریکہ کے مابین پاکستانی سفارت کاری کی کوششوں سے نالاں ہو کر متحدہ عرب امارات نے پچھلے ماہ پاکستان کو دیا گیا تین ارب ڈالرز کا قرضہ بھی اچانک واپس مانگ لیا تھا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور بیک ڈور مذاکرات کی کوششوں میں سرگرم کردار کو خلیجی ممالک نے شک کی نگاہ سے دیکھا۔ ان رپورٹس کے مطابق یو اے ای کو یہ تاثر ملا کہ پاکستان ایران کے حوالے سے “غیر جانبدار” رہنے کے بجائے تہران کے قریب ہوتا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے میں ایران کی جانب سے میزائل حملوں پر عرب ریاستیں سخت تشویش کا اظہار کر رہی تھیں۔ رپورٹس کے مطابق یو اے ای کی قیادت اس بات پر بھی ناخوش دکھائی دیتی ہے کہ پاکستان نے ایران کی جانب سے خطے میں ہونے والی بعض فوجی کارروائیوں کی کھل کر مذمت نہیں کی، جبکہ دوسری طرف وہ خود کو امریکا اور ایران کے درمیان ثالث کے طور پر پیش کرتا رہا۔
خلیجی سفارتی حلقوں میں اسے “دوہری پالیسی” کے طور پر دیکھا گیا، جس کے بعد پاکستان پر غیر اعلانیہ دباؤ بڑھنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ متعدد غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حالیہ دنوں میں ہزاروں پاکستانی کارکن یا تو ڈیپورٹ کیے گئے یا انہیں نوکریوں اور اقاموں کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض رپورٹس میں کہا گیا کہ خاص طور پر کم آمدنی والے مزدور، ڈرائیورز اور چھوٹے کاروبار سے وابستہ پاکستانی زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی ایسی ویڈیوز اور بیانات گردش کرتے رہے جن میں پاکستانی شہریوں نے اچانک گرفتاریوں، ویزا منسوخی اور ملک بدری کے خدشات کا ذکر کیا۔
تاہم پاکستانی حکومت نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔ وزارتِ خارجہ اور وزارتِ داخلہ کے حکام کے مطابق یو اے ای سے پاکستانیوں کی واپسی معمول کی امیگریشن کارروائیوں کا حصہ ہے اور صرف ان افراد کے خلاف ایکشن لیا گیا جنہوں نے مقامی قوانین یا ویزا شرائط کی خلاف ورزی کی۔ حکام کا مؤقف ہے کہ اس معاملے کو سیاسی رنگ دینا درست نہیں اور پاکستان و یو اے ای کے تعلقات بدستور مضبوط ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق یو اے ای میں تقریباً 18 سے 20 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں جو ہر سال اربوں ڈالر کی ترسیلات زر پاکستان بھیجتے ہیں، اس لیے دونوں ممالک کے تعلقات پاکستان کی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے اسلام آباد اس معاملے پر محتاط سفارتی حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہے تاکہ خلیجی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات مزید خراب نہ ہوں۔
دوسری جانب بعض سابق سفارتکاروں اور علاقائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت ایک نہایت نازک سفارتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب اور یو اے ای جیسے روایتی اتحادی ہیں، جبکہ دوسری طرف ایران کے ساتھ طویل سرحد، سیکیورٹی تعاون اور خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست پاکستان کو مکمل طور پر کسی ایک بلاک کے ساتھ کھڑا ہونے سے روکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہی “توازن کی پالیسی” اب پاکستان کے لیے سفارتی مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ایران۔امریکا کشیدگی مزید بڑھی تو خلیجی ممالک پاکستان سے زیادہ واضح مؤقف کا مطالبہ کر سکتے ہیں، اور اس کے اثرات نہ صرف سفارتی تعلقات بلکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے روزگار اور ترسیلات زر پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
سیز فائر وینٹی لیٹر پر، ٹرمپ نے ایران کو بڑی دھمکی دےدی
تاحال نہ تو یو اے ای حکومت نے ان خبروں کی باضابطہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی امریکا کی جانب سے اس معاملے پر کوئی واضح بیان سامنے آیا ہے، تاہم میڈیا رپورٹس، کمیونٹی شکایات اور سفارتی حلقوں میں جاری بحث نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ ایران۔امریکا تنازع میں پاکستان کی ثالثی کی کوششیں اب اس کے لیے ایک نئے علاقائی امتحان کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔
