نور خان ایئربیس پر ایرانی طیاروں کی موجودگی، حقیقت کیا ہے؟

امریکی نشریاتی ادارے کی جانب سے ایرانی طیاروں کی پاکستانی نور خان ائیربیس پر موجودگی سے متعلق خبروں نے عالمی سطح پر ہلچل مچا دی ہے، تاہم پاکستان نے امریکی ٹی وی کی جانب سے کیے گئے دعوؤں کو من گھڑت، گمراہ کُن اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ امریکی ٹی وی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے اپنے فوجی طیارے ممکنہ امریکی حملوں سے بچانے کے لیے پاکستان کی نور خان ایئربیس پر منتقل کر دئیے تھے جن میں سے کئی طیارے اب بھی پاکستانی ائیرپیس پر موجود ہیں تاہم اب پاکستانی دفتر خارجہ نے ان رپورٹس کو ’’بے بنیاد، سنسنی خیز اور گمراہ کُن‘‘ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، مکالمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے،تاہم امریکی ٹی وی چینل ’سی بی ایس نیوز‘ کی رپورٹ میں کئے گئے دعوے حقائق کے منافی، قیاس آرائیوں پر مبنی اور خطے میں جاری امن و استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ اگرچہ ایک ایرانی طیارہ پاکستان میں موجود ہے، تاہم اس کی آمد جنگ بندی کے دوران ہوئی تھی اور اس کا کسی بھی عسکری یا دفاعی انتظام سے کوئی تعلق نہیں۔
واضح رہے کہ امریکی میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد تہران نے متعدد طیارے پاکستان بھیجے، جن میں ایک خصوصی آر سی-130 جاسوسی طیارہ بھی شامل تھا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطہ کار کے طور پر کردار ادا کرتے ہوئے ایرانی طیاروں کو عارضی طور پر اپنی فضائی حدود اور ایئربیسز پر جگہ دی۔تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے سفارتی وفود، سکیورٹی اہلکاروں اور انتظامی عملے کی نقل و حرکت کے لیے مختلف طیارے اسلام آباد پہنچے تھے۔ انہی انتظامات کے تحت ایرانی وفد اور ان کے معاون عملے کو بھی سہولت فراہم کی گئی تھی۔پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ خطے میں امن، مکالمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے اپنا مثبت اور متوازن کردار جاری رکھے گا۔
وزارت خارجہ کے مطابق مذاکرات کے مختلف ادوار کی توقع کے باعث بعض طیارے اور عملہ عارضی طور پر پاکستان میں مقیم رہے، جبکہ اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطے مسلسل جاری رہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ اس پورے عمل میں مکمل شفافیت برقرار رکھی گئی اور تمام متعلقہ فریقوں سے مسلسل رابطہ رکھا گیا۔پاکستانی حکام نے اس امر پر بھی زور دیا کہ نور خان ایئربیس راولپنڈی شہر کے وسط میں واقع ہے، جہاں کسی بھی غیر معمولی فوجی سرگرمی یا بڑی تعداد میں طیاروں کی موجودگی کو عوام کی نظروں سے چھپانا ممکن نہیں۔رپورٹ میں افغانستان سے متعلق بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے بعض مسافر طیارے وہاں بھی منتقل کیے تھے، تاہم افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو ایسی کسی ضرورت کا سامنا نہیں تھا۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے پہلے مرحلے سے قبل امریکی اور ایرانی وفود کے سکیورٹی و پروٹوکول عملے کے کئی طیارے اسلام آباد پہنچے تھے۔ امریکی وفد کے لیے مخصوص گاڑیاں اور حفاظتی سامان بھی بڑے فوجی طیاروں کے ذریعے لایا گیا تھا تاکہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے انتظامات مکمل کیے جا سکیں۔
