امریکہ اور ایران کا ایک دوسرے پر فوری حملے روکنے پر اتفاق

امریکہ اور ایران نے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران فوری ایک دوسرے پر حملے روک کر مذاکراتی عمل شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایک امریکی نیوز ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران نے ایک دوسرے کے خلاف فوری فوجی حملے روکنے پر اتفاق کر لیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے رواں ہفتے دوحہ میں مذاکرات بھی متوقع ہئں۔
رپورٹ میں ایک سینئر امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دونوں فریقوں نے فی الحال تمام فوجی کارروائیاں روکنے کا فیصلہ کیا ہے اور آبنائے ہرمز سے متعلق تنازع کے حل کے لیے منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اہم ملاقات پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔امریکی عہدیدار کے مطابق دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت، بحری تنازع اور دیگر اہم سکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ مذاکرات میں امریکی تکنیکی ٹیم کے سربراہ نک اسٹیورٹ کی شرکت بھی متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی، تاہم آبنائے ہرمز سے متعلق شقوں کی مختلف تشریحات کے باعث حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق امریکا نے ایران کی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کے لیے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی ہم آہنگی کے لیے براہِ راست رابطہ (ہاٹ لائن) قائم کرنے پر اصولی اتفاق ہو چکا ہے، تاہم یہ نظام تاحال فعال نہیں ہو سکا۔
خیال رہے کہ اس سے قبل ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے کہا تھا کہ حالیہ امریکی حملوں اور مفاہمتی یادداشت کی بعض شقوں کی مبینہ خلاف ورزی کے باعث ایران نے اتوار کو ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں شرکت نہیں کی تھی۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو 11 روز گزر چکے ہیں، تاہم اس دوران دونوں جانب سے حملوں کے دعوؤں کے باعث جنگ بندی کی صورتحال غیر یقینی ہو گئی تھی۔
تاہم ابھی تک وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے بھی اس دعوے کی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
