کراچی حملہ: جماعت الاحرار کا دہشتگرد نیٹ ورک کب ٹوٹے گا؟

کراچی میں سندھ رینجرز کے ہیڈکوارٹر پر ہونے والے خوفناک دہشت گرد حملے نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی تمام تر کوششوں اور دعوؤں کے باوجود جماعت الاحرار کا دہشت گرد نیٹ ورک کیوں نہیں ٹوٹ پا رہا؟ دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ جماعت الاحرار مسلسل پاکستانی سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ریاستی تنصیبات کو ہی کیوں نشانہ بناتی ہے؟
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں پاکستان رینجرز سندھ کے کیمپ پر دہشت گردوں نے حملہ کیا، جس میں تین رینجرز اہلکار شہید جبکہ تین حملہ آور ہلاک کر دیے گئے۔ کارروائی کے دوران ایک زخمی دہشت گرد کو گرفتار بھی کیا گیا، جس کی شناخت ایک افغان شہری کے طور پر کی گئی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق حملہ آوروں نے پہلے مرکزی گیٹ پر زور دار دھماکہ کیا اور پھر حفاظتی حصار توڑ کر کیمپ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم رینجرز کے اہلکاروں نے فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن بھی کیا۔
عینی شاہدین کے مطابق ابتدائی طور پر ایک زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی جس کے فوراً بعد خودکار ہتھیاروں سے شدید فائرنگ شروع ہو گئی۔ حملے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تمام داخلی اور خارجی راستے بند کر کے آپریشن مکمل کیا۔
دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق تنظیم کی جانب سے ریاستی اداروں پر حملے کوئی نئی حکمت عملی نہیں بلکہ گزشتہ ایک دہائی سے یہی اس کی بنیادی عسکری پالیسی رہی ہے، جس کے ذریعے وہ ریاستی طاقت کو چیلنج کرنے اور عوام میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔
سکیورٹی ماہرین کے مطابق جماعت الاحرار کی بنیادی حکمت عملی پاکستانی ریاست کے سکیورٹی ڈھانچے کو کمزور کرنا، خوف و ہراس پھیلانا، ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا اور اپنے حامیوں کو یہ تاثر دینا ہے کہ وہ ریاستی اداروں کے خلاف کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تنظیم کے زیادہ تر حملوں کا رخ فوج، رینجرز، پولیس، ایف سی، حساس تنصیبات اور ریاستی اداروں کی جانب رہا ہے۔
جماعت الاحرار اگست 2014 میں تحریک طالبان پاکستان سے علیحدہ ہونے والے مختلف شدت پسند دھڑوں کے اتحاد کے نتیجے میں سامنے آئی۔ بعد ازاں اس نے مختلف مراحل میں دوبارہ ٹی ٹی پی سے الحاق کا اعلان بھی کیا، تاہم اس کے مختلف دھڑے اور نیٹ ورک مختلف ناموں کے ساتھ سرگرم رہے اور تنظیمی ڈھانچہ مسلسل تبدیل ہوتا رہا۔ تنظیم کے قیام کی بنیادی وجہ تحریک طالبان پاکستان کے اندر قیادت اور اختیارات کے حوالے سے پیدا ہونے والے اختلافات تھے۔
تحریک طالبان پاکستان کے بانی بیت اللہ محسود کی ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد اس کی جگہ حکیم اللہ محسود کو نیا امیر بنایا گیا تھا۔ لیکن ایک اور امریکی ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود کی موت کے بعد جب ایک غیر محسود، یعنی مولوی فضل اللہ کو تحریک طالبان کا نیا امیر بنایا گیا تو کئی اہم کمانڈرز نے قیادت کے انتخابی طریقہ کار پر اعتراضات اٹھائے اور افغان طالبان کی طرز پر ایک مضبوط شوریٰ کے قیام کا مطالبہ کیا، ان کوششوں کے نتیجے میں جماعت الاحرار وجود میں آئی۔
تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے نومبر 2025 میں بی بی سی پشتو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ متعدد پاکستانی طالبان دھڑوں، وسطی ایشیائی جنگجوؤں اور غیر ملکی عسکریت پسندوں نے ایک اتحاد قائم کیا تھو جسے جماعت الاحرار کا نام دیا گیا۔ ان کے مطابق تنظیم کی قیادت کے لیے شوریٰ تشکیل دی گئی جس نے عمر خالد خراسانی کو سربراہ منتخب کیا، جبکہ بعد میں علامتی طور پر قیادت مولانا قاسم خراسانی المعروف "ناظم” کے سپرد کی گئی، جو میڈیا اور مشاورتی معاملات میں بھی متحرک رہے۔ احسان اللہ احسان کے مطابق جماعت الاحرار کا بنیادی مقصد "پاکستانی ریاست کے خلاف پہلے سے جاری مسلح جدوجہد کو مزید مضبوط بنانا” تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب ہزاروں افراد نے اس تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور اس کی سرگرمیوں کو وسعت دینے میں کردار ادا کیا۔
دستیاب معلومات کے مطابق اس تنظیم نے ابتدا میں اپنی سرگرمیوں کا مرکز مہمند ایجنسی اور اس سے ملحقہ علاقوں کو بنایا کیونکہ اسکی قیادت کا تعلق انہی علاقوں سے تھا۔ بعد ازاں خیبر، باجوڑ، اورکزئی، پشاور، چارسدہ، اسلام آباد اور کراچی سمیت مختلف علاقوں کے عسکریت پسند بھی اس نیٹ ورک کا حصہ بنتے گئے، جبکہ کئی اہم ٹی ٹی پی کمانڈر بھی بعد میں جماعت الاحرار میں شامل ہوئے۔
سکیورٹی ماہرین کے مطابق جماعت الاحرار کی دہشر فرد کارروائیوں کا بڑا ہدف ہمیشہ پاکستانی فوج، رینجرز، پولیس، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تنظیم نے خودکش حملوں، مذہبی اجتماعات، عوامی مقامات اور حساس تنصیبات پر بھی متعدد دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن میں عام شہریوں کی بڑی تعداد بھی جاں بحق ہوئی۔
لاہور میں 2016 کے ہائی پروفائل دہشت گرد حملے سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں ہونے والی کئی خونریز کارروائیوں کی ذمہ داری بھی جماعت الاحرار قبول کرتی رہی۔ ان حملوں کا مقصد صرف جانی نقصان پہنچانا نہیں بلکہ ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو متاثر کرنا اور خوف کی فضا پیدا کرنا بھی تھا۔
انسداد دہشت گردی کے ماہرین کے مطابق اس تنظیم کا مکمل خاتمہ اس لیے مشکل ثابت ہوا کیونکہ اسکا نیٹ ورک روایتی تنظیمی ڈھانچے کے بجائے چھوٹے اور خودمختار سیلز، سرحد پار محفوظ ٹھکانوں، مسلسل بدلتی قیادت اور مختلف ناموں سے دوبارہ منظم ہونے کی صلاحیت پر قائم رہا۔ ایک دھڑے کے کمزور ہونے پر اس کے ارکان دوسرے گروہوں میں شامل ہو جاتے یا نئے نام سے سرگرمیاں شروع کر دیتے تھے۔ سکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں، علاقائی نیٹ ورک، پراپیگنڈا مشینری، بھرتی کے نظام اور مختلف شدت پسند گروہوں کے ساتھ روابط نے جماعت الاحرار کو طویل عرصے تک فعال رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق کراچی میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر حالیہ حملہ بھی اسی وسیع حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے جس کا مقصد پاکستانی ریاست کے سکیورٹی اداروں کو براہ راست نشانہ بنا کر ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا اور دہشت گردی کے خلاف جاری ریاستی کارروائیوں کو متاثر کرنا ہے، تاہم سکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی نے حملہ آوروں کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔
