سندھ طاس معاہدہ ایک بار پھر عالمی سطح پر زیر بحث آ گیا

سندھ طاس معاہدے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پانی کے تنازعات کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ جنوبی ایشیا میں امن، غذائی تحفظ اور خطے کے مستقبل کیلئےانتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے اپریل 2025 میں پہلگام حملے کے بعد سندھ طاس معاہدہ معطل رکھنے کے اعلان نے اس دیرینہ آبی معاہدے کے مستقبل پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ یہ معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی سے پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا تھا، جو دونوں ممالک کے درمیان کئی جنگوں اور کشیدگی کے باوجود قائم رہا۔
رپورٹ کے مطابق معاہدے کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانیوں پر پاکستان جبکہ راوی، بیاس اور ستلج کے پانیوں پر بھارت کو بنیادی حقوق حاصل ہیں۔ تاہم دونوں ممالک کو مشترکہ دریائی نظام سے متعلق مخصوص ذمہ داریاں بھی دی گئی ہیں۔
پاکستان کیلئےسندھ طاس نظام صرف ایک سفارتی معاہدہ نہیں بلکہ معیشت، زراعت، خوراک کے تحفظ اور توانائی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دریاؤں کے بہاؤ میں کسی بھی طویل رکاوٹ کے اثرات زرعی پیداوار، صنعت اور عوامی زندگی پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پانی کا مسئلہ دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کو بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان نے بھی ماضی میں واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔
ماہرین کے مطابق اگر بھارت اور پاکستان کے درمیان آبی تنازع شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی غذائی تحفظ اور موسمیاتی استحکام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کسی بڑے تنازع یا جنگ کی صورت میں عالمی سطح پر بھی سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں، جن میں زرعی بحران اور بڑے پیمانے پر انسانی نقصان شامل ہیں۔
