بنوں خودکش حملے میں ملوث اتحاد المجاہدین کون چلا رہا ہے؟

خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ایک پولیس چوکی پر ہونے والے خودکش حملے میں 15 پولیس اہلکاروں کی شہادت کے بعد پاکستان میں ایک مرتبہ پھر حافظ گل بہادر اور ان کے زیر قیادت شدت پسند اتحاد ’اتحاد المجاہدین پاکستان‘ پر توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔ حافظ گل بہادر وہ شخصیت ہیں جو ماضی میں پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر تحریک طالبان پاکستان کے خلاف سرگرم رہے اور ایک عرصے تک انھیں ’گڈ طالبان‘ کہا جاتا تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ان کے تعلقات ریاست کے ساتھ خراب ہوئے اور اب وہ ’بیڈ طالبان‘ کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔
حافظ گل بہادر پاکستان چھوڑ کر افغانستان کے سرحدی علاقے میں منتقل ہو چکے ہیں اور وہیں سے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گرد کاروائیوں کی پلاننگ کرتے ہیں۔ بنوں حملے کے بعد اسلام آباد نے افغانستان کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے سخت احتجاجی مراسلہ دیا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خودکش حملے کے بعد پاکستانی فضائیہ کی جانب سے دوبارہ افغانستان میں تحریک طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری شروع ہونے کا امکان ہے۔ شدت پسند تنظیموں پر نظر رکھنے والے محققین کے مطابق ’اتحاد المجاہدین‘ دراصل تین عسکریت پسند تنظیموں کا ایک اتحاد ہے، جس کی وابستگی حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ سمجھی جاتی ہے۔ یہ گروہ پہلی بار 11 اپریل 2025 کو منظر عام پر آیا اور اسکے بعد سے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کرتا رہا ہے۔
اس اتحاد میں حافظ گل بہادر گروپ، لشکر اسلام اور حرکتِ انقلابِ اسلامی پاکستان شامل ہیں۔ گروہ خود کو ایک پاکستانی مزاحمتی تنظیم قرار دیتا ہے، تاہم اس کی سرگرمیاں زیادہ تر خیبر پختونخوا، خصوصاً شمالی وزیرستان، بنوں اور خیبر کے اضلاع تک محدود دیکھی گئی ہیں۔
اس گروپ کا باضابطہ ٹیلیگرام چینل 12 اپریل 2025 کو بنایا گیا جہاں اردو، پشتو اور انگریزی زبانوں میں بیانات، حملوں کی ذمہ داریوں اور پراپیگنڈا مواد کی اشاعت شروع ہوئی۔ بنوں حملے کے بعد بھی ذمہ داری قبول کرنے کا بیان اردو اور پشتو دونوں زبانوں میں جاری کیا گیا۔
شدت پسند گروہوں پر تحقیق کرنے والے محقق عبدالسید کے مطابق ’اتحاد المجاہدین‘ کو دراصل پاکستانی طالبان کے ایک نئے دھڑے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کی قیادت حافظ گل بہادر کے ہاتھ میں ہے۔ ان کے بقول، کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے برعکس اس اتحاد کی کارروائیاں مخصوص جغرافیائی علاقوں تک محدود ہیں اور اس کے حملے زیادہ تر شمالی وزیرستان، بنوں اور خیبر کے علاقوں میں دیکھے گئے ہیں۔ عبدالسید کا کہنا ہے کہ حافظ گل بہادر دو دہائیوں سے زائد عرصے سے شمالی وزیرستان اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ایک مضبوط عسکری نیٹ ورک رکھتے ہیں، جبکہ اتحاد میں شامل لشکر اسلام ماضی میں خیبر ضلع میں سرگرم ایک سخت گیر تنظیم رہی ہے۔
محققین کے مطابق ’اتحاد المجاہدین‘ کے القاعدہ برصغیر کے ساتھ روابط بھی زیر بحث ہیں، اگرچہ دونوں گروہوں نے کبھی باضابطہ طور پر اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔تجزیہ کار احسان ٹیپو محسود کے مطابق جماعت الاحرار سمیت کالعدم ٹی ٹی پی سے منسلک بعض عناصر کی ہمدردیاں بھی اس اتحاد کے ساتھ دیکھی جا رہی ہیں۔
ان کے مطابق مختلف بیانات، پروپیگنڈا ویڈیوز اور سوشل میڈیا سرگرمیوں میں القاعدہ برصغیر اور اتحاد المجاہدین کے درمیان مماثلت پائی جاتی ہے۔ عبدالسید کے مطابق اتحاد میں شامل ’حرکتِ انقلابِ اسلامی پاکستان‘ خاص طور پر توجہ کا مرکز ہے، جو مارچ 2025 کے وسط میں سامنے آئی۔ ان کے بقول یہ تنظیم بظاہر القاعدہ برصغیر کا ایک فرنٹ گروپ محسوس ہوتی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ براہ راست تعلق کے شواہد محدود ہیں، تاہم شدت پسند حلقوں کے غیر رسمی سوشل میڈیا چینلز اور بیانات اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ دونوں تنظیموں کے درمیان نظریاتی اور تنظیمی روابط موجود ہو سکتے ہیں۔ اتحاد المجاہدین کے مرکزی رہنما حافظ گل بہادر کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ایک بااثر عسکری شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ سکیورٹی امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق وہ ماضی میں پاکستانی ریاست اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے لیے نسبتاً قابل قبول شخصیت سمجھے جاتے تھے، تاہم بعد میں ان کے گروہ کے رویے میں تبدیلی آئی اور وہ پاکستانی فوج کے خلاف ہو گئے۔
احسان ٹیپو محسود کے مطابق حافظ گل بہادر 1961 میں شمالی وزیرستان میں پیدا ہوئے اور انھوں نے ملتان کے ایک مدرسے سے دینی تعلیم حاصل کی۔ وہ سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ میں بھی شریک رہے اور فقیرِ ایپی مرزا علی خان کے پوتے بتائے جاتے ہیں۔ افغان جہاد میں شرکت کے باعث ان کے افغان طالبان کے ساتھ قریبی روابط رہے۔ مبصرین کے مطابق 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد حافظ گل بہادر نے القاعدہ اور افغان طالبان کے جنگجوؤں کو شمالی وزیرستان میں پناہ بھی فراہم کی۔
صحافی رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق حافظ گل بہادر ایک عرصے تک پاکستان میں ریاست مخالف کارروائیوں سے گریز کرتے رہے اور زیادہ توجہ افغانستان میں سرگرمیوں پر مرکوز رکھی۔ تاہم 2014 میں آپریشن ضربِ عضب کے بعد صورت حال تبدیل ہوئی اور حافظ گل بہادر افغانستان منتقل ہو گئے، جس کے بعد ان کے گروہ کی جانب سے پاکستان میں حملوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ انے مطابق اتحاد المجاہدین نے روایتی حملوں کے ساتھ ساتھ جدید جنگی حکمت عملی بھی اختیار کی ہے۔ احسان ٹیپو محسود کے مطابق حالیہ مہینوں میں اس گروہ نے کواڈ کاپٹر اور ڈرون حملوں کے ذریعے بھی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔
وزیر اعظم نے دہشت گرد کو روکنے والے شہری لیاقت کو قومی ہیرو قرار دے دیا
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ گروہ کی سوشل میڈیا مہم بھی غیر معمولی طور پر منظم دکھائی دیتی ہے۔ ٹیلیگرام چینلز، خفیہ مواصلاتی نیٹ ورکس اور پراپیگنڈا ویڈیوز کے ذریعے یہ تنظیم اپنے بیانیے کو پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ 15 مئی کے بنوں خودکش حملے نے ایک مرتبہ پھر خیبر پختونخوا میں شدت پسند نیٹ ورکس کی موجودگی اور ان کی بڑھتی صلاحیتوں کے حوالے سے خدشات کو تقویت دی ہے۔ سکیورٹی ماہرین کے مطابق اتحاد المجاہدین جیسے نئے اتحاد اس بات کی علامت ہیں کہ مختلف عسکریت پسند دھڑے باہمی تعاون اور نئے پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی سرگرمیوں کو منظم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ اتحاد واقعی حافظ گل بہادر نیٹ ورک، لشکر اسلام اور القاعدہ برصغیر سے منسلک عناصر کو یکجا کر رہا ہے تو یہ پاکستان کی داخلی سلامتی کے لیے ایک پیچیدہ چیلنج ثابت ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع پہلے ہی مسلسل حملوں کی زد میں ہیں۔
