بھاری ٹیکسز نافذ، حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا

ملک میں مسلسل بڑھتی ہوئی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں نے عوام کی مشکلات میں خطرناک حد تک اضافہ کر دیا ہے،تاہم پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے سامنے آنے والی وجوہات نے حکومت کی نام نہاد عوام دوست پالیسوں کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کو اپنی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بنا لیا ہے، جہاں فی لیٹر قیمت کا بڑا حصہ مختلف ٹیکسز، لیویز اور اضافی چارجز پر مشتمل ہے۔ عوام ہر روز مہنگا پیٹرول خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ حکومتی خزانے اور آئل کمپنیوں کی آمدن میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

اس حوالے سے سامنے آنے والی تازہ تفصیلات کے مطابق ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی بڑی وجہ بھاری ٹیکسز اور مختلف مدات میں عائد کی جانے والی لیویز ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عوام سے فی لیٹر پیٹرول پر تقریباً 198 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 113 روپے 71 پیسے تک ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول کی اصل فی لیٹر قیمت تقریباً 216 روپے 68 پیسے بنتی ہے، مگر اس پر مختلف ٹیکسز اور اضافی چارجز شامل ہونے کے بعد عوام تک اس کی قیمت کئی گنا بڑھ کر پہنچتی ہے۔ پیٹرول پر 117 روپے 41 پیسے فی لیٹر پٹرولیم لیوی عائد کی گئی ہے جبکہ 22 روپے 74 پیسے کسٹم ڈیوٹی کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔اس کے علاوہ فی لیٹر 29 روپے پریمیم بھی شامل ہے، جو عالمی مارکیٹ میں فی بیرل 17 ڈالر 41 سینٹ بنتا ہے۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا منافع 8 روپے 64 پیسے اور ڈسٹری بیوشن مارجن 7 روپے 87 پیسے مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح فریٹ مارجن، کلائمٹ سپورٹ لیوی اور ایکسچینج ایڈجسٹمنٹ سمیت متعدد اضافی اخراجات بھی عوام سے وصول کیے جا رہے ہیں۔

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی صورتحال بھی مختلف نہیں۔ رپورٹ کے مطابق ڈیزل کی فی لیٹر قیمت تقریباً 301 روپے تک پہنچ چکی ہے، جس میں 42 روپے 60 پیسے لیوی، 32 روپے 48 پیسے کسٹم ڈیوٹی اور دیگر متعدد چارجز شامل ہیں۔ ڈیزل پر بھی آئل کمپنیوں کے منافع اور ڈسٹری بیوشن مارجن کی مد میں بھاری رقم وصول کی جا رہی ہے۔رپورٹ میں یہ اہم انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ پیٹرول پر حکومت فی لیٹر 143 روپے 63 پیسے جبکہ آئل ڈسٹری بیوشن کمپنیاں 54 روپے 38 پیسے تک وصول کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات پر بڑھتے ہوئے ٹیکسز نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ اشیائے خورونوش سمیت ہر شعبے میں مہنگائی کا باعث بن رہے ہیں، جس کا براہِ راست بوجھ عام شہری برداشت کر رہے ہیں۔معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت عوام کو حقیقی ریلیف دینا چاہتی ہے تو اسے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد غیر ضروری ٹیکسز اور اضافی لیویز میں کمی کرنا ہوگی، کیونکہ انھی عوامل کی وجہ سے مہنگائی آسمان کی بلندیوں کو چھوتی نظر آ رہی ہے۔

دوسری جانب حکومت کی جانب سے گزشتہ 9 ماہ کے دوران صارفین سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 12 کھرب روپے سے زائد کی خطیر رقم وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔دستاویز کے مطابق صارفین سے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی مد میں 12 کھرب 5 ارب 18 کروڑ روپے وصول کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی مد میں بھی صارفین سے 35 ارب روپے کی اضافی رقم وصول کی گئی ہے۔ جولائی 2025 میں صارفین سے 1 کھرب 45 ارب جبکہ اگست میں 1 کھرب 15 ارب روپے پیٹرولیم لیوی کی مد میں لیے گئے۔ اسی طرح ستمبر میں صارفین سے لیوی کی مد میں 1 کھرب 11 ارب اور اکتوبر میں 1 کھرب 45 ارب روپے کا ٹیکس وصول کیا گیا ہے۔نومبر 2025 میں صارفین سے 1 کھرب 51 ارب اور دسمبر میں 1 کھرب 57 ارب پیٹرولیم لیوی کی مد میں لیا گیا۔ اسی طرح جنوری 2026 میں صارفین سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1 کھرب 24 ارب روپے پیٹرول لیوی وصول کی گئی۔ فروری میں 1 کھرب 20 ارب اور مارچ میں 1 کھرب 37 ارب پیٹرولیم لیوی وصول کی گئی ہے۔


Back to top button