ایران امریکہ کشیدگی سے خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانی مشکل میں کیوں؟

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران جنگ کے اثرات صرف خطے کی سیاست اور عالمی معیشت تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کے براہِ راست اثرات لاکھوں پاکستانی خاندانوں کی زندگیوں پر بھی پڑنے لگے ہیں۔ خلیجی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانی مزدوروں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر پر انحصار کرنے والے گھرانے اب شدید بے یقینی، مالی دباؤ اور مستقبل کے خوف کا شکار ہیں۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور بحران مزید شدت اختیار کرتا ہے تو پاکستان کی معیشت اور لاکھوں خاندانوں کا نظامِ زندگی متاثر ہو سکتا ہے۔

مبصرین کے مطابق پاکستانی معیشت میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، لیکن مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران جنگ کے اثرات نے ان رقوم پر انحصار کرنے والے لاکھوں پاکستانی خاندانوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی 34 سالہ ثمینہ بی بی بھی انہی متاثرہ افراد میں شامل ہیں، جن کے شوہر گزشتہ دس برس سے سعودی عرب میں مزدوری کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ دنوں میں شوہر کی تنخواہ میں تاخیر اور کام کے اوقات میں کمی نے ان کے پورے گھر کے بجٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ثمینہ کہتی ہیں کہ ان کے خاندان کا مکمل انحصار شوہر کی جانب سے بھیجے جانے والے ماہانہ اسی ہزار روپے پر ہے۔ یہ رقم گھر کے اخراجات، بچوں کی تعلیم اور روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ مگر اب مشرق وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال نے ان کی زندگی کو خوف اور بے چینی میں مبتلا کر دیا ہے۔

دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کو 38.3 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات موصول ہوئیں، جن میں سب سے بڑا حصہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے آیا تھا۔ یہی ترسیلات پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دیتی اور ملکی معیشت کو استحکام فراہم کرتی ہیں۔تاہم معاشی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ خلیجی ممالک میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، معاشی دباؤ، آٹومیشن اور مقامی شہریوں کو روزگار میں ترجیح دینے کی پالیسیوں کی وجہ سے لاکھوں پاکستانی مزدوروں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔

معاشی تجزیہ کار خرم حسین کے مطابق اگر متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے ممالک سے ترسیلات میں کمی واقع ہوئی تو نہ صرف پاکستانی خاندان متاثر ہوں گے بلکہ ملکی زرمبادلہ ذخائر پر بھی شدید دباؤ بڑھے گا کیونکہ پاکستان کی معیشت حد سے زیادہ بیرونی ترسیلات پر انحصار کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ وہ صرف ترسیلات زر پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی اندرونی معیشت کو مستحکم کرے ورنہ  عالمی اور علاقائی بحران آنے والے دنوں میں ملکی معیشت کا کباڑہ کر دینگے۔

Back to top button