اسلام آباد ہائی کورٹ ایمان مزاری کی اپیل پر فیصلہ کرے، سپریم کورٹ

 

 

 

سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں پر فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کو فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔

جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کی،عدالتی آرڈر میں کہاگیا ہےکہ اسلام آباد ہائی کورٹ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کا فیصلہ کرے،ہائی کورٹ کے فیصلے تک معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِ التواء رہےگا۔

ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سزا کی اپیلوں پر صرف نوٹس کیا، 2 ماہ سے زیادہ عرصے سے اپیلوں پر دوبارہ سماعت نہیں ہوئی،اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہمارےلیے کوئی ریلیف نہیں ہے۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیےکہ ہائی کورٹ سے آپ کےخلاف کوئی آرڈر نہیں ہے،سزا معطلی کی درخواست ہائی کورٹ نے خارج نہیں کی۔جسٹس شاہد وحید نےکہا کہ آبزرویشن دےدیتے ہیں 2 ہفتوں میں اپیل کا فیصلہ کردیں۔

پاکستان روس سے تیل اور گیس کی درآمد پر غور کررہا ہے: پاکستانی سفیر

وکیل فیصل صدیقی نے استدعا کی کہ عدالت سزا معطلی کی درخواست پر فیصلے کاحکم دے، اسلام آباد ہائی کورٹ سےکوئی ریلیف نہیں ملا،کہاں جائیں؟

جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیاکہ سزا معطل کرنے کےکیا پیرامیٹر ہوتے ہیں؟ سزا معطل کب ہوتی ہے؟ اگر ہائی کورٹ نے سزا معطلی کی درخواست مسترد کی ہوتی تو ہم میرٹ پر جاسکتے تھے۔

 

 

Back to top button