نئے پاکستان میں غداروں کا ٹرن آؤٹ اتنا تیز کیوں ہوگیا؟

https://youtu.be/Tcsgd32uwVw
بلوچستان کے علاقے مچھ میں قتل ہونے والے 11 غریب ہزارہ کارکنوں کی تدفین کے موقع پر حکومت اور ریاست کے خلاف جو نعرے لگائے گئے وہ ہمارے ٹی وی چینلز پر تو سنائی نہیں دیئے لیکن سوشل میڈیا پر ضرور سنائی دیئے۔ محب وطن عناصر نے ایسے قابل اعتراض نعرے بلند کرنے والوں کو غدار وطن قرار دیا ہے۔ جنازے میں شریک ان ہزاروں ’’غداروں‘‘ کے خلاف شوق سے مقدمے قائم کریں لیکن کوئی یہ بتانے کی زحمت کرے گا کہ اس ملک میں اتنی تیزی سے حب الوطنی کا بریک ڈاؤن کیوں ہو رہا ہے اور غداروں کا ٹرن آؤٹ دن بدن بڑھتا کیوں چلا جا رہا ہے؟
یہ اہم سوال سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے اپنے تازہ تجزیے میں اٹھایا یے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں ریاست کو ماں کا درجہ دیا جاتا تھا لیکن آج لگتا ہے کہ ماں کو اس کے بچوں سے کسی نے چھین لیا ہے۔ حامد میر کے مطابق سال 2021ء کا آغاز صرف ہمارے پاور ٹرانسمیشن سسٹم میں بریک ڈاؤن سے نہیں ہوا ۔اس سال کے آغاز میں ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کے رشتے میں بریک ڈاؤن بھی بے نقاب ہو گیا ہے۔ تین جنوری کو بلوچستان کے علاقے مچھ میں کوئلے کی کان میں کام کرنے والے گیارہ مزدوروں کو ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ذبح کر دیا گیا۔ ان غریبوں کے لواحقین نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم عمران خان خود کوئٹہ آکر انہیں قاتلوں کی گرفتاری کی تحریری یقین دہانی کرائیں اور جب تک وہ خود نہیں آئیں گے، ہزارہ والے اپنے پیاروں کی لاشیں دفن نہیں کریں گے۔ جواب میں وزیر اعظم نے وزیر اعلیٰ اور کچھ وفاقی وزراء کو کوئٹہ بھیج دیا اور پیغام دیا کہ سانحہ کے مظلوموں کو انصاف ضرور ملے گا۔ تاہم ہزارہ برادری اس بات پر مصر رہی کہ عمران خان خود کوئٹہ آیئں جیسا کہ وہ ماضی میں بھی آئے تھے۔ دوسری طرف وزیر اعظم نے ضد لگالی کہ وہ اسی صورت کوئٹہ جائیں گے جب لاشوں کو دفنایا جائے گا۔ چنانچہ مچھ میں قتل ہونے والوں کے لواحقین کے حق میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت ملک کے کئی شہروں میں دھرنے شروع ہو گئے۔
آٹھ جنوری کو وزیراعظم نے اعلان کیا کہ میں بلیک میلنگ میں نہیں آؤں گا اور آپ جس دن لاشیں دفنائیں گے میں اسی دن کوئٹہ آؤں گا۔ آخر کار چھ دن کے احتجاجی دھرنے کے بعد نو جنوری کو ہزارہ برادری نے اپنے پیاروں کی لاشیں دفنائیں اور اسی دن وزیر اعظم کوئٹہ چلے گے۔ یہ اور بات کے عمران خان نے ہزارہ برادری کی العصر
امام بارگاہ جانے کی بجائے شہدا کے لواحقین کو سردار خان بہادر خان وومن یونیورسٹی بلا بھیجا۔
حامد میر کہتے ہیں کہ یوں وزیر اعظم جیت گئے اور مقتولین کے مظلوم وارث ہار گئے۔ لیکن گیارہ لاشوں کے ساتھ ساتھ احترام اور اعتماد کا وہ رشتہ بھی کہیں دفن ہو گیا جو ریاست اور عوام کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے رکھتا ہے۔ حامد میر کے مطابق اس رشتے کی اصل حقیقت وہ باتیں نہیں ہیں جو وزیر اعظم عمران خان نے کوئٹہ میں مقتولین کے وارثوں سے کہیں۔ اس رشتے کی اصل حقیقت وہ نعرے ہیں جو مقتولین کے جنازے میں بلند کئے گئے۔ یہ نعرے ٹی وی چینلز پر تو سنائی نہیں دیئے لیکن سوشل میڈیا پر ضرور سنائی دیئے اور محب وطن عناصر نے نعرے لگانے والوں کو غدار قرار دیا۔ حامد میر ریاست پاکستان سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ جنازے میں شریک ان ہزاروں ’’غداروں‘‘ کے خلاف شوق سے مقدمے قائم کرو لیکن کوئی یہ بتانے کی زحمت تو کرے کہ اس ملک میں حب الوطنی کا بریک ڈاؤن کیوں ہو گیا ہے اور یہ کہ غداروں کا ٹرن آؤٹ دن بدن بڑھتا ہی کیوں چلا جا رہا ہے؟
حامد میر کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں ریاست کو ماں کا درجہ دیا جاتا تھا لیکن آج ماں کو اس کے بچوں سے کسی نے چھین لیا ہے۔ اصلی ماں کسی قید خانے میں پڑی ہے اور جو خود کو زبردستی اس ریاست کی ماں قرار دیتی ہے اسے بچے اپنی ماں تسلیم کرنے سے انکاری ہیں کیونکہ بچوں کو ماں کے روپ میں ممتا نظر نہیں آتی۔بچے اپنی ماں کے خلاف نہیں ہیں وہ تو اپنی اصلی ماں کی رہائی اور بحالی چاہتے ہیں۔ اصلی ماں کی رہائی آئین و قانون کی بالادستی سے مشروط ہے لیکن افسوس کہ آئین و قانون کا بھی بریک ڈاؤن کسی سے چھپا ہوا نہیں۔ اس بریک ڈاؤن کے باعث طاقتور کے لئے الگ قانون ہے اور کمزور کیلئے الگ قانون ہے۔ اس بریک ڈاؤن کی وجہ سے سیاست اخلاقیات اور صحافت سچائی سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔ معاملہ صرف سیاست و صحافت تک محدود نہیں۔
معاشرے کی اخلاقی قدروں کا بلیک آؤٹ ہو رہا ہے۔ حامد میر کہتے ہیں کہ ہر طرف اندھیرا چھا رہا ہے اور جو ان اندھیروں کی نشاندہی کرے اور بریک ڈاؤن کی اصل وجوہات بتانے کا مطالبہ کرے اسے ریاست کا دشمن قرار دیدیا جاتا ہے۔غریبوں کی زمینوں پر قبضے کرنیوالے، ہاؤسنگ اسکیموں کے نام پر فراڈ کرنیوالے، ہسپتال اور یونیورسٹیاں بنا کر بزنس کرنے والے اور مذہب کے نام پر نفرتیں پھیلانے والے محب وطن ہیں اور جو دہشت گردوں کی گرفتاری کی تحریری یقین دہانی مانگے وہ بلیک میلر بھی ہے‘ غدار بھی ہے۔ لیکن اس بریک ڈاؤن اور بلیک آؤٹ میں امید کی کچھ کرنیں باقی ہیں۔وہ سب پاکستانی جو ریاست کے وجود میں ممتا تلاش کر رہے ہیں انہیں آئین و قانون کی بالادستی کیلئے متحد ہونا ہو گا اور اپوزیشن کے ان نام نہاد جمہوریت پسند لیڈروں سے بھی ہوشیار رہنا ہو گا جنہیں ماں نہیں بلکہ اپنا ذاتی مفاد عزیز ہے۔ حامد میر کہتے ہیں کہ ایک بڑے بریک ڈاؤن سے بچنا ہے تو ماں یعنی ریاست کو رہا کرانا ہو گا اور ماں کی رہائی کے لئے بچوں یعنی عوام کو آپس میں متحد ہونا ہو گا۔
