ہزارہ شہدا کے 9 خاندانوں نے وزیراعظم کا بائیکاٹ کیوں کیا؟


معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی سابقہ روایت کے مطابق ہزارہ برادری سے کیے گئے اس وعدے سے یوٹرن لے لیا تھا کہ اگر وہ اپنے شہدا کی لاشوں کو دفنا دیں گے تو وہ خود چل کر ان کے پاس آئیں گے۔ شہداء کی تدفین کے بعد وزیراعظم کی جانب سے ہزارہ برادری کو یہ پیغام دیا گیا کہ وہ آ کر ان سے ملیں۔ لیکن شہدا کے خاندانوں نے خود جاکر وزیراعظم سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا جسکے بعد بلوچستان حکومت نے جیسے تیسے ایک شہید کے خاندان کو راضی کر کے وزیر اعظم سے ملوایا جسکی فوٹیج ٹی وی پر چلا کر یہ تاثر دیا گیا کہ عمران خان نے شہداء کے خاندانوں سے ملاقات کر لی ہے۔
ذرائع کے مطابق 8 جنوری کی رات ہزارہ برادری کے ساتھ معاہدہ کرتے وقت وزیر اعلی بلوچستان جام کمال اور وفاقی وزیر علی زیدی نے یہ وعدہ کیا تھا کہ لاشیں دفنانے کے فورا بعد وزیراعظم عمران خان کوئٹہ کے ہزارہ ٹاؤن کی امام بارگاہ ولی العصر پہنچ کر شہداء کے خاندانوں سے ملاقات کریں گے۔ لیکن جب 9 جنوری کو لاشوں کی تدفین کے بعد وزیراعظم کوئٹہ پہنچے تو شہدا کے لواحقین کو یہ پیغام دیا گیا کہ وہ سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی پہنچ کر وزیراعظم سے ملاقات کریں۔ یہ پیغام ملنے پر ہزارہ برادری کی قیادت ناراض ہو گئی اور انہوں نے اسے وزیر اعظم کی وعدہ خلافی قرار دے دیا۔ چنانچہ ہزارہ قیادت اور شہدا کے خاندانوں نے بھی خود جاکر وزیراعظم سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا اور جوابی پیغام بھیجا کہ اگر وہ ملاقات کرنا چاہتے ہیں تو انکو امام بارگاہ آنا ہوگا۔ لیکن وزیر اعظم نے امام بارگاہ جانے سے انکار کر دیا۔ جواب میں ہزارہ قیادت اور شہدا کے خاندانوں نے بھی بھی سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی جانے سے انکار کر دیا۔
ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کا موقف تھا کہ وزیر اعظم کا مچھ میں قتل کیے جانے والے کان کنوں کے لواحقین سے افسوس کے لیے ہزارہ ٹاؤن کی امام بارگاہ ولی العصر آنا ہی بنتا تھا جیسا کہ ایک روز پہلے طے ہوا تھا اور جہاں وہ فاتحہ کے لیے بیٹھے تھے۔ مگر ان کے وہاں آنے کے بجائے لواحقین اور دھرنا کمیٹی کے اراکین کو ان سے ملاقات کے لیے کہیں اور لے بلایا گیا۔ اس بلاوے پر ہزارہ قیادت نے وزیراعظم کو یہ جوابی پیغام بھیجا کہ آیا جس گھر سے جنازے اٹھے ہوں اس کے مکینوں کے پاس جا کر تعزیت کی جاتی ہے یا انہیں تعزیت کے لئے بلوایا جاتا ہے۔ تاہم وزیر اعظم کا موقف تھا کہ وہ اب ملک کے سربراہ ہیں اور ان کو سکیورٹی خدشات لاحق ہیں چنانچہ وہ بارگاہ نہیں جاسکتے۔ چنانچہ وزیراعظم کی خواہش پر بلوچستان حکومت کے اعلی حکام نے شہدا کے ایک خاندان کو جیسے تیسے کرکے بہادر خان یونیورسٹی پہنچایا جہاں ان کی ملاقات کی فوٹیج تیار کر کے ٹی وی پر جاری کر دی گئی اور یوں ریاست مدینہ کے اناپرست اور ضدی حاکم نے اپنا وعدہ بھی پورا کر دیا اور ذمہ داری بھی۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق جب صحافی کان کنوں کی تدفین کے بعد امام بارگاہ میں پہنچے تو وہاں ہزارہ برادری کے لوگ استفسار کرتے دکھائی دئیے کہ کیا وزیر اعظم اپنے لوگوں سے اتنے خائف ہیں کہ وہ ہزارہ ٹاؤن کا دورہ نہیں کر سکتے؟ ان لوگوں میں پیپلز پارٹی کے پرانے کارکن دُر محمد ہزارہ بھی شامل تھے جن کا کہنا تھا کہ 2013 میں اس وقت کے وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف علمدار روڈ پر ہونے والے دو خودکش حملوں کے بعد دھرنے کے شرکا کے پاس آئے تھے اور ان کے مطالبے پر بلوچستان میں اپنی حکومت کو معطل کیا تھا، لیکن عمران خان نے یہاں آنے کے بجائے لواحقین کو اپنے پاس بلانے کا حکمنامہ جاری کر دیا۔ ید ریے کہ کوئٹہ دھرنے کے شرکا کا پہلے یہ مطالبہ تھا کہ وزیر اعظم عمران خان ان کے پاس آئیں تو اس کے بعد لاشوں کی تدفین کی جائے گی، مگر چھٹے روز حکام اور دھرنے کے شرکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دھرنا کمیٹی نے حکومت کی یہ بات مان لی کہ پہلے میتوں کی تدفین کی جائے، پھر وزیر اعظم انکے پاس آئیں گے۔ چنانچہ 9 جنوری کی دوپہر جب ہزارہ ٹاؤن میں میتوں کی تدفین مکمل ہوئی تو اس کے تھوڑی دیر بعد وزیر اعظم بھی کوئٹہ پہنچ گے۔ پہلے وہ گورنر ہاؤس گئے جہاں انھوں نے ایک اجلاس میں شرکت کی جس کے بعد وہ سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی پہنچے جہاں قتل ہونے والے کان کنوں کے لواحقین کو ان سے ملاقات کے لیے بلایا گیا تھا۔ یہ یونیورسٹی ہزارہ ٹاؤن سے متصل بروری روڈ پر واقع ہے۔ تاہم شہدا کے لواحقین نے وزیراعظم کی وعدہ خلافی پر ان سے ملاقات کا بائیکاٹ کر دیا اور دس میں سے صرف ایک خاندان کے افراد کو یونیورسٹی جانے پر منایا جا سکا۔ یہ وہی خاندان تھا جس کی پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی مچھ میں ذبح کر دیا گیا تھا اس لیے لئے مرحوم کی چھوٹی چھوٹی بہنوں کو منانے میں بلوچستان حکومت کے اعلی حکام کو کوئی زیادہ مشکل پیش نہیں آئی۔
تاہم وزیراعظم کے کوئٹہ سے واپس چلے جانے کے بعد دھرنا کمیٹی کے ہزارہ رہنما علامہ ڈاکٹر موسی حسینی نے عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ کی طرح وعدہ خلافی کی اور کاروائی ڈال کر اسلام آباد واپس چلے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہداء کے خاندانوں نے وزیراعظم کی طرف سے یونیورسٹی میں ملاقات کے لیے بلائے جانے پر یہ فیصلہ کیا کہ وہ وہاں نہیں جائیں گے اور اگر وزیراعظم نے ان سے ملنا ہے تو وہ امام بارگاہ آئیں گے۔ چنانچہ وزیراعظم کے حواریوں نے ان کو شرمندگی سے بچانے کے لیے ایک شہید کے خاندان کو بہلا پھسلا کر ان سے ملوا دیا جس سے ملاقات کی فوٹیج ٹی وی پر چلا کر وزیراعظم نے ہمیشہ کی کارروائی ڈال دی۔ علامہ موسی حسینی کا کہنا تھا کہ انہیں ویسے بھی وزیراعظم سے کسی اچھے فیصلے کی امید نہیں تھی کیونکہ وہ شہیدوں کی لاشوں کے ساتھ زد لگا کر اپنا آپ پہلے ہی بتا چکے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب شہدا نے اپنے پیاروں کی تدفین کر لی تو پھر وزیراعظم کوئٹہ آتے نہ آتے، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تاہم یہ ضرور ہوا کہ وزیراعظم کا اصلی چہرہ بے نقاب ہوگیا۔
دوسری طرف وزیراعظم سے ملاقات سے انکار کرنے والے شہداء کے خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ تو دھرنا ختم کرنے پر بھی آمادہ نہیں تھے لیکن مجلس وحدت المسلمین کی قیادت نے ان سے بالا بالا انکے پیاروں کی لاشوں کا سودا کردیا۔ دوسری طرف کوئٹہ دھرنا کمیٹی کے رکن اور مجلس وحدت المسلمین کے رہنما آغا رضا کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ شہدا کے لواحقین حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے مطمئن ہیں، اسی لیے دھرنے کو ختم کیا گیا۔ آغا رضا نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ دھرنے کے شرکاء کے جو مطالبات تھے ان سب کو تسلیم کیا گیا ہے اور اس کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا۔ معاہدے کی جو شقیں ہیں ان میں سے زیادہ تر وہی ہیں جو کہ ماضی میں ایسے دھرنوں کے مواقع پر ہوتے رہے ہیں لیکن اس مرتبہ عمل درآمد کے حوالے سے منفرد بات لواحقین کو معاوضوں کی فوری ادائیگی تھی۔ آغا رضا نے بتایا کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے ہر ہلاک ہونے والے کان کُن کے لواحقین کو پندرہ پندرہ لاکھ روپے کا معاوضہ دیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button