ناراض اتحادیوں نے عمران سرکار خطرے میں ڈال دی

سات اراکین قومی اسمبلی رکھنے والی جماعت ایم کیو ایم کے بعد پانچ نشستوں والی مسلم لیگ ق اور چار نشستوں والی بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کی جانب سے تحریک انصاف حکومت پر تحفظات کے اظہار اور اتحاد سے نکلنے کے اشاروں کے بعد حکومتی کشتی ہچکولے کھاتی نظر آ رہی ہے۔ اسوقت کپتان کو حکومت بچانے کے لئے جو سترہ کلیدی ووٹ درکار ہیں، وہ ہاتھ سے نکلنے کی صورت میں کپتان کے اقتدار کی کشتی ڈوب جائے گی۔
یاد رہے کہ اس وقت مرکز میں تحریک انصاف حکومت کو قومی اسمبلی میں عددی اکثریت برقرار رکھنے کا کڑا چیلنج درپیش ہے خصوصاً جبکہ حکومت عملی طور ہر صرف چار ووٹوں کی اکثریت پر قائم ہے۔ سیاسی حلقے تو ایم کیو ایم کے وزارت چھوڑنے کے فیصلے کو حکومت کے خاتمے کا آغاز قرار دے رہے تھے لیکن بالترتیب پانچ اور چار نشستوں والی مسلم لیگ ق اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ نے بھی ایک مرتبہ پھر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے اتحاد کے فیصلے پر نظر ثانی شروع کر دی ہے۔ اس صورتحال سے سخت پریشان وزیراعظم عمران خان نے اپنے دست راست جہانگیر ترین کو ٹاسک دیا ہے کہ کسی بھی طرح اتحادیوں کو رام کیا جائے مگر ایم کیو ایم کی جانب سے انکار کے بعد لگتا ہے کہ کم از کم مینگل گروپ بھی اب مزید حکومت کاساتھ نہیں دے گا۔
ان حالات میں اگر ق لیگ بھی ڈٹ گئی تو مرکز کے ساتھ ساتھ پنجاب حکومت بھی تحریک انصاف کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ دوسری جانب خبر آئی ہے کہ لندن میں مقیم میاں نواز شریف نے اپنی جماعت کو عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے حوالے سے سوچ بچار کی ہدایت کی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی صورت میں تحریک انصاف پارلیمنٹ میں اکثریت ثابت نہیں کر سکتی کیونکہ گذشتہ چار ماہ کے دوران تحریک انصاف کی دو وکٹیں گر چکی ہیں۔
تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے اراکین قومی اسمبلی کی تعداد سکڑ کر 155 تک آگئی ہے۔ قومی اسمبلی میں مختلف جماعتوں کے تناسب کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس وقت اتحادی جماعتوں کے 26 مستعار یعنی مانگے تانگے کے ووٹوں کی بنیاد پر وزیراعظم کے عہدے پر موجود ہیں۔ تحریکِ عدم اعتماد کی صورت میں وزیراعظم کو اپنی جماعت کے تمام 155 اراکین کے علاوہ کم از کم 17 اتحادی اراکین کے ووٹ بھی درکار ہیں یعنی اگر ایم کیو ایم جیسی سب سے بڑی سابق اتحادی جماعت نے مخالفت میں ووٹ دیا تو عمران خان وزیراعظم نہیں رہیں گے۔
یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ بلوچستان سے اختر مینگل بھی آجکل حکومت سے نالاں ہیں اور علیحدہ ہونے کی دھمکی دے چکے ہیں اور مسلم لیگ ق کے رہنما بھی اپنے تحفظات کا کھلے عام اظہار کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ 25 جولائی 2018 کے انتخابات کے نتیجے میں تحریک انصاف نے 158 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ وزیراعظم عمران خان تین نشستوں پر کامیاب رہے، الیکشن کمیشن کے قانون کے مطابق عمران خان نے دو نشستیں خالی کردیں۔ ایک نشست پر ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف نے پھر سیٹ جیت لی تاہم لاہور کے حل کا این اے 131 میں عمران خان کی جیتی ہوئی نشست مسلم لیگ ن کے خواجہ سعد رفیق لے اڑے۔ چند ماہ قبل گھوٹکی سے تعلق رکھنے والے علی محمد مہر ہر انتقال کرگئے، اس نشست پر ضمنی انتخاب ہوا اور اس مرتبہ اپوزیشن جماعت پیپلزپارٹی نے تحریک انصاف کی یہ وکٹ اڑا دی۔ الیکشن ٹرائبیونل نے تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کا انتخاب بھی کالعدم قرار دے دیا ہے۔ یہ معاملہ عدالت میں ہے اور تحریک انصاف کی یہ وکٹ بھی کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔
جب تحریک انصاف نے اگست 2018 میں سات جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرکے اپنی حکومت قائم کی تو اسے 26 اراکین قومی اسمبلی کی حمایت حاصل تھی۔ اٹھارہ ماہ قبل وزیراعظم عمران خان 176ووٹ لے کر پاکستان کے 22 ویں وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔ آئین کی رو سے عمران خان کو اپنا عہدہ برقرار رکھنے کے لئے 172 ووٹ درکار ہیں جبکہ تحریک انصاف کی اپنی نشستوں کی تعداد محض 155 ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وزیراعظم کو اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے لئے اتحادی جماعتوں کے کم ازکم 17ووٹ درکار ہیں۔ اگر مستقبل قریب میں سات نشستوں والی متحدہ قومی موومنٹ کے بعد پانچ پانچ نشستوں والی پاکستان مسلم لیگ ق اور بلوچستان عوامی پارٹی، چار نشستوں والی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ، تین اراکین قومی اسمبلی پر مشتمل گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس جیسی جماعتیں بھی حکومتی اتحاد سے نکل گئیں تو پھر تحریک انصاف کی حکومت شیخ رشید اور شاہ زین بگٹی کی حمایت کے باوجود بچ نہیں پائے گی۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایم کیو ایم کی جانب سے تحریک انصاف کو ٹف ٹائم دینا اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے لئے الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ اگر مینگل گروپ اور مسلم لیگ ق جیسے اتحادی بھی کپتان کا ساتھ چھوڑ گئے تو تحریک انصاف حکومت کا بچنا تقریباً ناممکن ہو گا۔
