ننکانہ صاحب میں کشیدگی کی وجہ سکھ لڑکی اور مسلمان لڑکے کی شادی

ننکانہ صاحب میں سکھ لڑکی کی مسلمان لڑکے کے ساتھ شادی کو شہر میں مسلمانوں اورسکھ کمیونٹی کے مابین کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ 28 اگست 2019کواسلام قبول کر کے اپنا نام جگجیت کور سے بدل کر عائشہ بی بی رکھنے والی سابق سکھ لڑکی نے لاہور ہائیکورٹ کے روبرو بیان ریکارڈ کرا دیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے مسلمان ہو کر شادی کی ہے اور یہ کہ وہ اپنے گھر والوں کی بجائے اپنے شوہر کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہتی ہے۔
ننکانہ صاحب کی سکھ لڑکی کے واضح بیان کے باوجود لڑکی کے اہلخانہ کا مسلسل دعویٰ ہے کہ جگجیت کور نے مرضی سے اسلام قبول نہیں کیا بلکہ اس سے زبردستی مذہب تبدیل کروایا گیا یے اور یہی کشیدگی کی بنیادی وجہ بھی ہے۔
نکانہ صاحب میں سکھ لڑکی کے قبول اسلام اور مسلمان لڑکے سے نکاح کا معاملہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی میڈیا پر خوب زیر بحث رہا۔ لڑکی کے والدین کا دعویٰ تھا کہ ان کی کم سن بیٹی کواغوا کر کے زبردستی قبول اسلام کے بعد حسان نامی لڑکے سے نکاح کروایا گیا۔ دوسری جانب مسلمان لڑکے کے خاندان کے مطابق جگیجت کور کی عمر 20 سال ہے اسے کسی نے اغوا نہیں کیا بلکہ اپنی مرضی سے جگجیت کور نے قبول اسلام کے بعد حسان سے نکاح کیاہے۔ سکھ اور مسلم کمیونٹی کے مابین تنازع جنم لینے کے بعد واقعہ کی تحقیقات کیلیے وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ بعد ازاں گورنرپنجاب چودھری سرور نے دونوں خاندانوں کے افراد کو بٹھا کر صلح کروا دی لیکن اسی واقعہ کی بنیاد پرننکانہ صاحب میں رواں ماہ پانچ جنوری کو مشتعل ہجوم نے گردوارہ ننکانہ صاحب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاج کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی جس میں عمران چشتی نامی شخص کو سکھ مذہب کے خلاف نفرت انگیز تقریر کرتے اور ہجوم کے ساتھ سکھ برادری کو دھمکیاں دیتے دیکھا جا سکتا تھا۔
پولیس نے سکھ برادری کے خلاف تقریر کرنے والے شخص عمران چشتی کو واقعے کے ایک روز بعد گرفتار کر لیا تھا۔ عمران چشتی کے گھر والوں کا الزام ہے کہ سکھ لڑکی جگجیت کور کے عمران کے بھائی حسان سے نکاح کی وجہ سے سکھوں کے دباؤ پر انتظامیہ انہیں وقتاً فوقتاً تنگ کرتی رہتی ہے اور پولیس کی طرف سے بے جا تنگ کرنے پر انہوں نے احتجاج کیا تھا۔
یاد رہے کہ نو اگست 219 کو جگجیت کور نے لاہور میں اسلام پورہ کے علاقہ مجسٹریٹ کو درخواست دی تھی کہ انہیں کسی نے اغو نہیں کیا بلکہ مجسٹریٹ محمد فاروق نے نو اگست 2019 کو ہی جگجیت کور کا بیانِ حلفی ریکارڈ کیا۔ دستاویزات کے مطابق، جگجیت کور کسی کے بہلاوے یا ورغلانے پر اپنے گھر سے نہیں بھاگی، بلکہ وہ بالغ ہے اور اپنی مرضی سے آئی ہے۔ جگجیت کور نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ "میرے بھائی اور گھر والوں نے میرے اغوا کا جھوٹا مقدمہ درج کرایا ہے۔ میں نے محمد حسان سے شریعتِ محمدی کے تحت شادی کر لی ہے۔ میرے سابقہ مذہب کے لوگوں کو میرا مذہب تبدیل کرنا گوارہ نہیں ہے، جس پر وہ میری جان کے دشمن ہو گئے ہیں۔ وہ مجھے اور میرے خاوند کو مارنا چاہتے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق، سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والی جگجیت کور نے گزشتہ سال 28 اگست کو اسلام قبول کیا تھا۔ جگجیت کور کی دستاویزات کے مطابق، ان کا نیا نام عائشہ بی بی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button