ننکانہ صاحب واقعے کے ذمے داروں کیخلاف سخت کارروائی ہو گی

وزیر اعظم عمران خان نے ننکانہ صاحب میں رونما ہونے والا واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ ان کی سوچ کی نفی کرتا ہے اور اس کے ذمہ داروں کو پولیس اور عدلیہ سمیت حکومت سے کسی قسم کی رعایت یا تحفظ نہیں ملے گا اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
The major difference between the condemnable Nankana incident & the ongoing attacks across India on Muslims & other minorities is this: the former is against my vision & will find zero tolerance & protection from the govt incl police & judiciary;
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) January 5, 2020
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ننکانہ کے قابل مذمت واقعے اور پورے ہندوستان میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف جاری حملوں میں نمایاں فرق ہے۔
In contrast, Modi's RSS vision supports minorities oppression & the targeted attacks against Muslims are part of this agenda. RSS goons conducting public lynchings, Muslims being violated by mobs are all not only supported by Modi Govt but Indian police leads anti-Muslim attacks
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) January 5, 2020
انہوں نے مزید کہا کہ مودی کی آر ایس ایس کا نظریہ اقلیتوں کو کچلنے کی حمایت کرتا ہے اور مسلمانوں کے خلاف ٹارگیٹڈ حملے اس کے ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس کے غنڈے سرعام مارپیٹ کرتے ہیں جبکہ مودی سرکار مسلمانوں کے خلاف حملوں کی سرپرستی ہی نہیں کرتی بلکہ بھارتی پولیس ان حملوں میں پیش پیش رہتی ہے۔
یاد رہے کہ جمعہ کو ننکانہ صاحب میں چائے کی دکان سے شروع ہونے والی بحث پر شروع ہونے والا جھگڑا اس قدر بڑھ گیا تھا کہ امن و عامہ کی صورتحال کے لیے خطرہ بن گیا اور پولیس کو مداخلت کرنی پڑی۔
اطلاعات کے مطابق گردوارہ جنم استھان کے سامنے قائم زمان نامی شخص کے چائے کے اسٹال پر 4 افراد چائے پی رہے تھے جنہوں نے اس کے بھیتجے محمد احسان کے بارے میں بات کرنی شروع کی۔
واضح رہے کہ محمد احسان کا نام کچھ ماہ قبل اس وقت خبروں میں آیا تھا جب اس پر ایک سکھ لڑکی سے مبینہ طور پر جبراً مذہب تبدیل کروانے کے بعد شادی کا الزام لگایا تھا جس کے بعد اسے گرفتار بھی کرلیا گیا تھا۔
چائے اسٹال پر موجود افراد کی باتوں پر زمان کو غصہ آگیا اور اس کی جانب سے غصے کے اظہار کے نتیجے میں 2 گروہوں میں تنازع کھڑا ہوگیا جس کے بعد لوگوں نے جمع ہو کر نعرے بازی شروع کردی اور ننکانہ صاحب پولیس کو فوری طور پر مداخلت کر کے صورتحال پر قابو پانا پڑا۔
واضح رہے کہ جمعہ کی رات وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں وضاحت کی تھی کہ ننکانہ صاحب میں رونما ہونے والا واقعہ دونوں مسلمان گروہوں کے درمیان تکرار کے نتیجے میں کھڑا ہوا اور اسے مذہبی تنازع کا رنگ دینا غلط ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ پنجاب کے صوبائی حکام نے بتایا کہ ننکانہ صاحب میں دو مسلمان گروپوں کے درمیان جھگڑا ہوا، یہ جھگڑا چائے کے اسٹال پر معمولی تنازع پر کھڑا ہوا اور ضلعی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرلیا تھا جو اب زیر حراست ہیں۔
