پاکستانی ہندوؤں کے مردے بھارت جانے کے منتظر

سینکڑوں پاکستانی ہندوؤں کی استیاں یا لاشوں کی راکھ گنگا میں بہائے جانے کی منتظر ہیں کیونکہ ان کے عزیزواقارب کو بھارت جانے کے لئے ویزہ نہیں مل پارہا۔
پاکستان میں مقیم ہندوؤں کے لیے آخری رسومات کے لیے انڈین ویزے کا حصول ہمیشہ سے ہی مشکل تھا لیکن پلوامہ واقعہ نے مرنے والے پاکستانی ہندووں کے اہل خانہ کے لیے اپنے پیاروں کی آخری خواہش کو پورا کرنا ناممکن بنا دیا ہے۔
صوبہ سندھ کے ضلع کشمور سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شریواستو چاولااپنی بھابھی آشاکی آخری رسومات کے لیے ہریدوار کا سفر کرنا چاہتا ہے تاکہ اس کی روح کو سکون حاصل ہو تاہم ویزا کے مسائل کے باعث وہ ابھی تک ایسا نہیں کر پائے۔ ڈاکٹر شریو کا کہنا ہے کہ’پچھلے دو سالوں میں ہم نے تین بار ویزا کے لیے درخواست دی ہے لیکن انڈین حکام نے ہماری درخواست مسترد کردی۔ یہ خاندان آشا ۔ ڈاکٹر شریواستو کہتے ہیں کہ انھیں ویزا مسترد کرنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ ہم نے ویزا کی درخواست کے ساتھ ان کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی جمع کروایا اور انھیں بتایا کہ ہم ان کی راکھ انڈیا لے جانا چاہتے ہیں۔ ہم نے رسومات کروانے والے پنڈت کا تعارفی کارڈ بھی جمع کروایا تھا۔ لیکن انھوں نے ہمیں دوبارہ درخواست جمع کروانے کے لیے کہا۔‘
ڈاکٹر شریواستو کے مطابق سینکڑوں ہندوؤں کی استیاں پاکستان کے مختلف مندروں میں محفوظ ہیں۔’ان دنوں ویزا حاصل کرنا بہت مشکل ہے، لوگ بہت پریشان ہیں اسی لیے وہ اپنے پیاروں کی استیاں مندروں میں جمع کرا جاتے ہیں۔ اس امید پر کہ وہ ایک دن ہریدوار پہنچ سکیں گی۔
کراچی کے شمشان گھاٹ کا چیمبر جہاں راکھ کو ذخیرہ کیا جا رہا ہے، کچھ سال پہلے یہاں عارضی کمرے تھے۔ نگرانی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں زیادہ بارشوں کے باعث کئی ہندوؤں کی استیاں ضائع ہوگئیں۔
کراچی کی کارروباری شخصیت سنی گھنشیام کمیونٹی کارکن ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’اپنے پیاروں کی آخری خواہش پوری کرنا پاکستانی ہندوؤں کا بنیادی حق ہے۔ مذہب سیاست اور تقسیم سے زیادہ اہم ہے اور مجھے لگتا ہے کہ آخری رسومات کے لیے ہندوؤں کے دریائے گنگا جانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئے، یہ ان کا بنیادی مذہبی حق ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔سنی گھنشیام اس معاملے کو انڈین ہائی کمشن تک لے جانا چاہتے ہیں۔
انھوں نے انڈین ہائی کمیشن سے درخواست کی ہے کہ وہ پاکستانی ہندوؤں کے لیے ویزا کے عمل کو زیادہ آسان بنائیں، بلکہ اس مقصد کے لیے انھیں ایک علیحدہ ویزا کیٹیگری تشکیل دینی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جن ہندوؤں کے خاندان سرحد پار رہتے ہیں ان کے لیے یہ آسان ہے کیونکہ اس طرح ویزا ملنے کے امکانات بہتر ہوتے ہیں۔ پاکستانی ہندو بھی یاترا کے لیے ہندوستان جا سکتے ہیں۔‘
تاہم دوسری طرف انڈین ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ ’ہائی کمشن ان افراد کے لیے ویزا درخواستوں کی فعال سہولت فراہم کرتا ہے جو اپنے خاندان کے افراد کی آخری رسومات ادا کرنے کے لیے ہریدوار کا سفر کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی ویزا درخواستوں کے ساتھ مطلوبہ دستاویزات منسلک کرنا ہوں گی۔ ہائی کمیشن کے مطابق ’جو شخص انڈیا جا کر اپنے خاندان کے کسی فرد کی آخری رسومات ادا کرنا چاہتا ہے اسے مرنے والے کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے ساتھ اپنے نادرا کارڈ کی کاپی، بجلی یا گیس کے بل کی کاپی اور پولیو سرٹیفکیٹ جمع کرانا ہوگا۔
