قاسم سلیمانی کے قتل پر امریکا بھر میں احتجاج

امریکہ کی جانب سے عراق میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کرنے کے اقدام کے خلاف امریکا بھر میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ امریکا کے جنگ مخالف تنظیم ‘کوڈ پنک’ اور ‘ایکٹ ناؤ ٹو اسٹاپ وار’ اور ‘اینڈ ریسزم’ سمیت دیگر گروہوں نے مل کر 70 سے زائد احتجاج منعقد کیے۔
ٹامپا سے فلاڈلفیا اور سان فرانسسکو سے نیو یارک تک پلے کارڈز اٹھائے مظاہرین نے جنگ مخالف نعرے بازی کی۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو روز قبل بغداد کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے نزدیک فضائی حملے کی اجازت دی تھی جس میں ایران کے ایلیٹ قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی مارے گئے تھے۔
ایران نے جوابی کارروائی کی امریکا کو دھمکی دی ہے جس کی وجہ سے جنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ ایران کا رد عمل کب اور کیسے سامنے آئے گا۔
مظاہروں کے منتظمین کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتطامیہ نے قاسم سلیمانی کا قتل کرکے جنگ کا آغاز کردیا ہے۔
میامی میں 50 سے زائد مظاہرین اکٹھا ہوئے اور ‘نو مور ڈرون مرڈرز’ (ڈرون سے قتل مزید نہیں)، ‘وی وانٹ پیس ناؤ (ہمیں فوری امن چاہیے)، ‘واٹ ڈو وی وانٹ؟ پیس ان ایران’ (ہم کیا چاہتے؟ ایران میں امن) کے نعرے لگائے۔
نیو یارک کے ٹائمز اسکوائر پر بھی کئی مظاہرین جمع ہوئے اور ‘نو جسٹس، نو پیس، یو ایس آؤٹ آف دی مڈل ایسٹ!’ (نہ انصاف، نہ امن، امریکا مشرق وسطیٰ سے باہر نکلو) کے نعرے لگائے۔
مظاہرے میں شامل 72 سالہ رسل برانکا کا کہنا تھا کہ امریکا عراق کو پروکسی جنگ کےلیے استعمال کر رہا ہے، اگر امریکا اور ایران جنگ کرنے لگے ہیں تو یہ امریکا میں یا ایران میں نہیں بلکہ دیگر مقامات پر ہوگی اور یہ پاگل پن ہے کیونکہ اس کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ایک اور 47 سالہ شخص آبے کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں عراق سے باہر آنا چاہیے نہ کہ وہاں مزید ہزاروں فوج بھیجیں، ہمیں ایران کے ساتھ مسئلے کو حل کرنا چاہیے نہ کہ اس پر مزید تیل ڈالنا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button