نواز شریف خاموش کیوں ہیں اور عمران خان چپ کیوں نہیں کرتے؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ ایک جانب سیاسی محاذ پر نواز شریف نے مسلسل خاموشی کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے جب کہ دوسری جانب عمران خان مسلسل شعلہ بیانی سے فوج کو دباؤ میں لانے کی کوشس میں مصروف ہیں۔ لیکن بظاہر وقتی طور پر چپ کا روزہ رکھنے والے میاں صاحب فائدے میں ہیں جب کہ خان صاحب کو اپنی زبان درازی کی وجہ سے نقصان ہو رہا ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ مقدس بائبل کے مطابق ’’بولنے اور چپ رہنے کا ایک وقت ہوتا ہے‘‘۔ پاکستانی سیاست میں لوگ ایک طرف کی لمبی چپ اور دوسری طرف کی مسلسل آتش بیانی سے حیران و پریشان ہیں۔ تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے اور سب سے زیادہ سیاسی تجربہ رکھنے والے نواز شریف نے مسلسل چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے۔ ہر کوئی ٹامک ٹوئیاں مارتا ہے کہ وہ دراصل کیا سوچ رہے ہیں؟ دوسری طرف جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان ہر روز مسلسل آتش بیانی کرتے ہیں۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ان ہر بیان پہلے سے مختلف ہوتا ہے جس سے کنفیوژن میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ آیئے آج جائزہ لیں کہ دو بڑی جماعتوں کے رہنماؤں کا یہ رویہ کیوں ہے اور اس سے سیاست پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔

سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ مشہور امریکی صحافی ران سسکنڈ نے اپنی کتاب ’’وے آف دی ورلڈ‘‘ میں لکھا ہے کہ امریکی نائب صدر ڈک چینی نے اصول پسندی کو چھوڑ کر عملیت پسندی کو ترجیح دی اور وعدے کے باوجود بے نظیر بھٹو کا ساتھ نہ دیا۔ انہوں نے جنرل مشرف کی طاقت کو مانتے ہوئے اسی کا ساتھ دیا۔ آج بھی دنیا بھر میں یہی صورتحال ہے۔ عالمی ادارے اخلاقی اصولوں پر نہیں عملیت پر چلتے ہیں؟ کیا آئی ایم ایف نے تحریک انصاف کی جانب سے قرض دیتے ہوئے اتحادی حکومت پر کڑی شرائط لگانے کی جو بات کی تھی، کسی نے سنی؟ کیا امریکی ایوانِ نمائند گان کی بھاری اکثریت سے منظور کردہ قرار داد کا عالمی ادارے آئی ایم ایف پر کوئی اثر ہوا؟ نہیں، ایسا نہیں ہوا۔ وجہ یہ یے کہ آج کی دنیا اخلاقی اصولوں پر استوار نہیں ہے اور آج بھی عملیت پسندی ہی کا راج ہے۔ وگرنہ غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کے ساتھ جو کچھ ہو چکا ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے کیا ایسا ممکن تھا؟۔

سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے معروف صوفی دانشور اشفاق احمد سے انٹرویو کرتے ہوئے سوال کیا کہ وہ نواز شریف کو تاریخ کے کس کردار کے قریب سمجھتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ میاں صاحب چینی فلسفی شین تائو سے متاثر لگتے ہیں جو دانش مندی اور خاموشی کے درمیان تعلق جوڑتے ہیں۔ شاید اسی لئے نواز شریف پاکستانی سیاست کے مسٹر چُپ بنے یوئے ہیں۔ وہ خاموشی کے لمبے لمبے وقفے لیتے ہیں۔ کبھی بولیں بھی تو بہت ہی کم بولتے ہیں، اس مثبت خاموشی یا منفی گونگے پن سے ان کی سیاست پر صحت مند اور نقصان دہ دونوں اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

سہیل وڑائچ کے بقول خاموشی الفاظ سے کہیں بلند تر ہوتی ہے۔ نواز شریف اپنی اسی خاموشی کی پناہ لے کر بہت سے بحرانوں اور بہت سارے فکری تضادات کو عبور کر لیتے ہیں۔ جنرل ضیاءالحق کے بارے میں اپنائی خاموشی کی وجہ سے انہیں جمہوریت کا چیمپئن بننے میں کوئی دشواری نہ ہوئی، وگرنہ کہاں ایک فوجی آمر کی ہمراہی اور کہاں جمہوریت کے دعویدار میاں صاحب۔ مگر نواز شریف اپنی اسی خاموشی سے ان خطرناک گھاٹیوں تک سے گزر جاتے ہیں، آج کل وہ فوج کے ساتھ ہیں جب کہ ماضی میں وہ اس کے سیاسی کردار کے سب سے بڑے ناقد رہے ہیں۔ اپنی پالیسی میں تبدیلی بارے وہ آج تک ایک لفظ نہیں بولے، شاید وہ سمجھتے ہیں کہ خاموشی ہی ان کی کامیاب ترین پالیسی اور ہتھیار ہے۔ شاید وہ اپنی پارٹی کے عمل کو ہی اپنے سیاسی بیانیے کا متبادل سمجھتے ہیں۔

لیکن سہیل وڑائچ کے خیال میں آج کی ابلاغی دنیا میں یہ لمبی چپ، یہ سیاسی گونگا پن اور واضح بیانیے کی عدم موجودگی نے ان کا اور ان کے پیروکاروں کے مابین رابطہ توڑ دیا ہے جس کا ان کی جماعت کو شدید سیاسی نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان کی سیاست کے دوسرے اہم ترین فریق عمران خان مسلسل آتش بیانی کے قائل لگتے ہیں شاید وہ امریکی صدر جان ایف کینڈی کے اس قول سے متاثر ہیں کہ ’’تقریر کرنے کا واحد مقصد دنیا کو تبدیل کرنا ہے‘‘۔ جتنا نواز شریف چپ رہتے ہیں اتنے ہی زیادہ عمران بولتے ہیں۔ تقریر پر تقریر اور پھر آئے دن نئے سے نیا موقف۔ مسلسل بیانات اور شعلہ بیانی نے ان کو ایک مضبوط سیاسی بیانیہ بنانے میں مدد کی ہے۔ ان کے اپنے مخالفین کے خلاف جارحانہ بیانات نے ان کے سیاسی مخالفوں کےلیے زمین تنگ کردی ہے۔ بظاہر ان کے تند و تیز بیانیے نے ان کی جماعت میں جارحانہ رنگ بھر رکھا ہے، مگر سچ یہ ہے کہ اسی آتش بیانی نے انہیں جیل تک پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ یاد رہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر تو ان کے فین ہوا کرتے تھے، لیکن عمران خان نے نہ صرف انہیں آئی ایس آئی چیف کے عہدے سے ہٹایا بلکہ ہمیشہ کےلیے ان کے خلاف ہو گئے، انہیں آرمی چیف بننے سے روکنے کےلیے لانگ مارچ تک کر ڈالا اور پھر خود اور اپنی جماعت کے ذریعے وہ زہر اگلا کہ مذاکرات کے راستے تک بند کر دیئے۔ جنرل باجوہ بھی اس آتش بیانی کا شکار ٹھہرے، عمران نے انہیں آرمی چیف ہوتے ہوئے میر جعفر کا خطاب دے ڈالا، پھر کسی کو ڈرٹی ہیری، کسی کو مسٹر ایکس کا نام دیا۔ ان کا ہر مخالف مولانا ڈیزل ہے اور ان کا ہر دوست دنیا کا بہترین آدمی ہے۔ ان کی سوچ میں صرف سیاہ اور سفید رنگ ہیں جبکہ دنیا کے لوگوں کی اکثریت نہ سیاہ ہے نہ سفید بلکہ سرمئی ہے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ جب تک اپنے مخالف کو تسلیم نہ کیا جائے، حمایت بھی فائدہ مند نہیں ہوتی۔ جس حکومت کی اپوزیشن نہ ہو تو وہ حکومت نہیں آمریت ہوتی ہے۔ آتش بیانی نے جو فتوحات دلوانی تھیں وہ حاصل ہو چکیں، اب اس کے منفی اثرات کا دور ہے، کہا جاتا ہے کہ ماضی کے پلے بوائے خان صاحب آج عالم اسلام کے بڑے لیڈر ہیں، مگر حقیقی صورتحال یہ ہے کہ بھٹو گرفتار ہوئے تو دنیا کے ہر دارالحکومت نے ضیا حکومت سے احتجاج کیا۔ نہ صرف اسلامی بلکہ مغربی ممالک نے بھی بھٹو کی پھانسی روکنے کےلیے ہر طرح کے جتن کیے۔ نواز شریف گرفتار ہوئے تو سعودی عرب ضمانت دے کر انہیں اپنے ملک لے گیا اور یوں جنرل مشرف کے مشکل دور سے انہیں بچا لیا۔ بے نظیر بھٹو کے لیے بھی دنیا کے ہر ملک سے آواز اٹھتی تھی۔ لمبی ترین جیل کاٹنے والے آصف زرداری کےلیے بھی خلیجی ملک سے دباؤ آتا رہا، مگر عمران خان کی حمایت میں ایسی سفارتی سرگرمی نہ کسی اسلامی ملک نے دکھائی ہے اور نہ کسی مغربی ملک نے۔ اگر ان کے حق میں کوئی آوازیں آ بھی رہی ہیں تو وہ انکی دوستی اور محبت سے زیادہ انسانی حقوق کی بحالی کی ہیں۔ گویا بین الاقوامی طور پر عمران خان کےلیے کسی ایک بھی ملک سے ان کی ذاتی ہمدردی میں آواز نہیں آئی۔ تحریک انصاف اور عمران خان کو اپنی اس بین الاقوامی تنہائی پر ضرور غور کرنا چاہیے وگرنہ تو مشرف کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد ان کی مدد کےلیےبھی سعودی عرب، دوبئی اور امریکہ آ گئے تھے۔

الیکشن کمیشن نے جسٹس منصور شاہ اینڈ کمپنی کو کیسے چارج شیٹ کیا؟

سپیل وڑائچ کے بقول، مسلسل آتش بیانی کی حکمت عملی اختیار کرنے والی تحریک انصاف کو تلخ حقائق کی ایک سخت خوراک بطور دوا لینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ افسانوں اور خواہشوں کی دنیا سے باہر آئے۔ 9 مئی اور اس کے بعد تک یہ خیال کیا جاتا رہا کہ فوج کے اندر بغاوت ہو جائے گی، اور انقلاب آ جائے گا لیکن ایسا نہ ہو سکا، بلکہ سب اس کے الٹ ہوا۔ پھر عدالتوں سے توقعات وابستہ کرلی گئیں، لیکن نہ جسٹس عمر عطاء بندیال کچھ کر سکے اور نہ ان کے دوسرے حمایتی جج کپتان کو جیل سے نکال سکے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے اتحادی حکومت کےلیے سات ارب ڈالرز کے تاریخی امدادی پیکج کے اعلان کے بعد عمران کا ملکی معیشت تباہ ہونے کا خواب بھی ٹوٹ چکا ہے۔ انہیں پاکستان کو بین الاقوامی طور پر رسوا کرنے اور تنہا کرنے میں کوئی خاص کامیابی نہیں ملی۔ انہیں فوج سے براہ راست مذاکرات میں بھی کامیابی نہیں ملی۔ اب عمران خان کے پاس سب سے طاقتور اور مضبوط ایک ہتھیار باقی بچا ہے اور وہ ہے ان کی مقبولیت، لیکن بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بھائی لوگوں میں قبولیت حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔ لہازا انکے پاس واحد راستہ سیاسی جدوجہد اور سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کا ہے، ان کے پاس اخلاقی برتری کو عملی فتح میں بدلنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔

Back to top button