نواز شریف لاہور سے پہلے اسلام آباد کیوں آ رہے ہیں؟

سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے وطن واپسی پر لاہور آنے کی بجائے اسلام آباد میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن اس حوالے سے کوئی یہ بتانے کیلئے تیار نہیں کہ اس کے مقاصد کیا ہیں۔اس حوالے سے پارٹی رہنما کبھی یہ کہتے سنائی دیئے کہ یہ ایک تکنیکی لینڈنگ ہوگی، کبھی کہا گیا کہ سفر کے دوران پیوند لگایا جائے گا، کبھی اسے قانونی تقاضا قرار دیا گیا۔ایک تاثر یہ بھی دیا گیا کہ نواز شریف کی اسلام آباد میں بھی اہم ملاقات ہو رہی ہے، لیکن ن لیگ اس کی بھی تصدیق نہیں کر رہی۔
نواز شریف ابھی لندن میں موجود تھے تو ذرائع سے یہ خبریں آنا شروع ہوگئی تھیں کہ وہ لندن سے سعودی عرب، وہاں سے دبئی، دبئی سے اسلام آباد اور پھر لاہو روانہ ہوں گے لیکن ن لیگ کی جانب سے سرکاری طور پر ان کے شیڈول کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی جو بات کی جاتی رہی وہ یہی تھی کہ نواز شریف شام پانچ بجے کے بعد مینار پاکستان پر جلسے سے خطاب کریں گے۔
نواز شریف کے ساتھ دبئی سے آنے والے ایک صحافی نے اردو نیوز کو بتایا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی کے لیے غیرملکی ایئرلائن کی خصوصی فلائٹ ایف زیڈ 4525 پاکستانی وقت کے مطابق صبح ساڑھے 9 بجے دبئی سے اُڑان بھرے گی اور طیارہ دوپہر ساڑھے بارہ بجے اسلام آباد ایئرپورٹ پر لینڈ کرے گا۔ خصوصی پرواز سہ پہر اڑھائی بجے اسلام آباد سے لاہور کے لیے روانہ ہوگی۔
مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب سے اردو نیوز نے متعدد مرتبہ نواز شریف کی اسلام آباد آمد اور یہاں پر ان کی مصروفیات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ’بتا دیا جائے گا۔دوسری جانب معلوم ہوا ہے کہ نواز شریف ایئرپورٹ سے باہر نہیں آئیں گے اور ڈیڑھ گھنٹہ ایئرپورٹ کے اندر قیام کرنے کے بعد لاہور روانہ ہو جائیں گے۔ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ اسلام آباد ایئرپورٹ کے رن وے اور وی آئی پی لاؤنج میں کوریج کے لیے پاکستان ٹیلی ویژن کو ہدایات جاری ہو چکی ہیں۔
اس ساری صورت حال پر سوشل میڈیا پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ن لیگ کی لیگل ٹیم کے ذرائع نے اس حوالے سے اردو نیوز کو بتایا ہے کہ فی الوقت نواز شریف کی اسلام آباد میں لینڈنگ کی واحد وجہ یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کے جس ٹکٹ کی کاپی دی گئی تھی وہ اسلام آباد کا تھا۔ عدالت میں اس اعتراض سے بچنے کے لیے کہ ٹکٹ اسلام آباد کا تھا تو یہاں لینڈ کیوں نہیں کیا۔دوسری جانب اس بات کا بھی امکان ہے کہ عین وقت پر نواز شریف کے طیارے کا رخ اسلام آباد کے بجائے لاہور کی طرف موڑ دیا جائے۔
