نواز شریف نے اپنے ساتھ غلام اسحاق خان کو کیسے ڈبویا؟

18 اپریل 1993 کو صدر غلام اسحاق خان کی جانب سے اپنی حکومت برطرف کئے جانے پر نواز شریف کا مزاحمتی چہرہ پہلی مرتبہ تب سامنے آیا جب انہوں نے قوم سے خطاب میں واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ ‘میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا’۔ اس کے بعد اگرچہ 26 مئی کو سپریم کورٹ نے ان کی حکومت بحال کردی تاہم اپوزیشن اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے دبائو کے نتیجے میں 18 جولائی کو نواز مجبوراً مستعفی ہوگئے لیکن آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ کے فارمولے کے مطابق انکے ساتھ صدر غلام اسحاق خان کو بھی گھر جانا پڑا۔ یوں نواز شریف خود تو ڈوبے ہی لیکن غلام اسحاق خان کو بھی لے ڈوبے۔
غلام اسحاق خان کی جانب سے صدارتی اختیار کے ذریعے آئین کی متنازعہ شق 58 (2) بی کے تحت نواز شریف حکومت کی برطرفی کا پروانہ عوام کی اکثریت کے لیے ایک سیاسی دھماکہ تھا۔ لیکن ملک کے دو بڑوں میں انتہا پر پہنچی ہوئی کشیدگی سے آگاہی رکھنے والے سیاسی حلقوں کے لیے یہ خبر غیر متوقع نہ تھی۔ یاد رہے کہ 17 اپریل کو ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی اپنی لائیو تقریر میں وزیراعظم نواز شریف نے کسی کمزوری، کوتاہی اور پسپائی کا مظاہرہ نہ کرنے اور ڈکٹیشن نہ لینے کا اعلان کر کے گویا غلام اسحاق اور انکے بڑوں کے خلاف طبل جنگ بجا دیا تھا، دراصل یہ نواز شریف کے مزاحمتی بیانیے کا آغاز تھا۔ تاہم اگلے ہی روز 18 اپریل 1993 کو صدر غلام اسحاق خان نے نوازشریف کی حکومت کو بدعنوانی، اقربا پروری، مخالفین کو ڈرانے دھمکانے، آئین کی خلاف ورزی اور مسلح افواج کی اتھارٹی کو نقصان پہنچانے کے الزامات لگا کر چلتا کر دیا۔ قومی اسمبلی تحلیل کر دی گئی اور 14 جولائی 1993 کو ملک میں نئے انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا گیا تھا۔ نواز شریف اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ چلے گئے تھے۔ عدالت عظمی نے اگرچہ قومی اسمبلی اور نوازشریف کی کابینہ بحال کرنے کا غیرمعمولی قدم اٹھایا لیکن اس فیصلے کے ڈیڑھ ماہ کے اندر ہی نواز شریف اور صدر اسحاق خان کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔ یہ دونوں فریقین کے درمیان تصادم اور محاذ آرائی کے انتہا پر پہنچ جانے والا ڈرامے کا ڈراپ سین تھا جو سپریم کورٹ کے فیصلے بعد ایک نئے ڈھنگ سے شروع ہوا تھا۔
تب کے چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 11 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی اور پانچ ہفتوں بعد 26 مئی کو فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت صدارتی حکم کو خلاف قانون قرار دیتی ہے، یوں نواز حکومت بحال ہوگئی۔ یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے جب نواز شریف حکومت کو اپنی پیش رو بے نظیر بھٹو کے برعکس صوبوں میں اپوزیشن کی حکومت کے چیلنج کا سامنا نہ تھا۔ سندھ میں وفاق کی سرپرستی اور سیاسی جوڑ توڑ سے معمولی عددی برتری کی بنیاد پر جام صادق علی بلامقابلہ وزیر اعلٰی بن گے۔ صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف میں قدر مشترک ضیاء الحق کی ہمنوائی اور سرپرستی تھا۔ ان دونوں کے مشترکہ ماضی اور سیاسی میراث کی تال میل کو خوشگوار ذاتی تعلق اور مثالی سیاسی نظام کا موجب ہونا چاہیے تھا مگر حکومت سازی کے دوسرے برس سے ہی کھچاؤ اور بدگمانی کے سائے بڑھتے چلے گئے۔ پے در پے ایسے واقعات رونما ہوئے جن کا اختتام سیاسی بحران پر ہوا۔ نواز شریف کی معاشی پالیسیوں کا محور ڈی نیشنلائزیشن، سرمائے کی آزادانہ نقل و حمل اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے موافق ماحول کی فراہمی تھا۔ وہ اپنی افتاد طبع کے باعث نظم و ضبط کی ادارہ جاتی باریکیوں اور مالیاتی امور کی جکڑ بندیوں کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ دوسری طرف قانونی موشگافیوں میں مشاق غلام اسحاق خان نے اس روش کو مالیاتی نظم و ضبط کی خلاف ورزی قرار دے کر روک ٹوک شروع کر دی۔ جس سے طاقت کے دونوں مراکز میں بداعتمادی اور بد دلی جنم لینے لگی۔
دسمبر 1991 میں صدر نے پارلیمنٹ سے خطاب کیا۔ اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی نے اپنی سابقہ حکومت کی برطرفی کے ذمہ دار کو پارلیمنٹ میں آڑے ہاتھوں لیا۔ ’گو بابا گو‘ کے نعروں میں صدر کے خطاب کے دوران حکومتی اراکین خاموشی سے بیٹھے رہے۔ صدر کو یہ غیر جانب داری بری طرح کھٹکنے لگی۔ اس واقعے کے کچھ عرصہ بعد غلام اسحاق خان کے معتمد خاص جلال حیدر زیدی کو وزیراعظم نے منصب سے ہٹا دیا۔ جبکہ بے نظیر بھٹو کی حکومت میں غلام اسحاق خان کے نفس ناطقہ صاحبزادہ یعقوب علی خان کو خصوصی اہتمام اور اصرار کے ساتھ وزارت خارجہ کے منصب پر فائز رکھا گیا تھا۔ ان دونوں شخصیات کے ساتھ عزیز اے منشی اور روئیداد خان بھی صدر کے قریب تھے۔ نواز شریف نے انہیں بھی کاروبار حکومت سے دور کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ 1993 کے حکومتی بحران کے دنوں میں یہ دونوں شخصیات غلام اسحاق خان کو قانونی اور سیاسی قوت فراہم کرنے میں پیش پیش تھیں بلکہ روئیداد خان نے پیپلز پارٹی اور غلام اسحاق خان کے درمیان تعلقات کی استواری کی مہم کو ’پراجیکٹ مین ہٹن‘ کا نام دیا۔ یہیں سے نواز شریف کا غلام اسحاق خان کی انا سے ٹکراؤ کا آغاز ہوا جس میں شدت آئندہ صدارتی انتخابات کے بارے میں نواز شریف کے طرز عمل سے پیدا ہوئی۔
1992 کے اوآخر میں وزیراعظم نواز شریف نے کابینہ کے ممبران کو آئندہ صدارتی امیدوار کے بارے میں بحث اور بیانات سے گریز کرنے کی ہدایت کی تھی۔ لیکن دوسری بار صدارت کے متمنی غلام اسحاق کو اس احتیاط اور احتراز میں سازش کی بو آنے لگی۔ نواز شریف کی کابینہ کے ممبر سرتاج عزیز اپنی کتاب ’ ‘Between Dreams and Realities میں لکھتے ہیں کہ صدر نے ان سے ملاقات میں تلخ لہجے میں نواز شریف کے طرز عمل پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا اور برملا کہا کہ الہی بخش سومرو اور اعجاز الحق کے علاوہ کوئی بھی ان کے صدارتی امیدوار بننے کے بارے میں بات نہیں کرتا۔
سیاسی تناؤ اور کشیدگی کے ماحول میں تب کے آرمی چیف جنرل آصف نواز کی اچانک ہارٹ اٹیک سے موت نے بھی دونوں بڑوں کے درمیان اختیارات کی کھینچا تانی کو تیز کر دیا۔ غلام اسحاق خان کے ذاتی دوست اور سینیئر بیوروکریٹ روئیداد خان اپنی کتاب پاکستان انقلاب کے دہانے پر میں لکھتے ہیں کہ آرمی چیف کے جانشین کے لیے غلام اسحاق خان کا انتخاب جنرل فرخ تھے لیکن نواز شریف کو اس پر اعتراض تھا۔ بالآخر درمیانہ راستہ نکالا گیا اور جنرل عبدالوحید کاکڑ کو یہ منصب سونپا گیا۔ اس اہم تقرری کا اختیار صدر کو آٹھویں ترمیم کے تحت حاصل تھا۔ وزیراعظم نواز شریف اس اختیار کو منتخب عوامی نمائندوں کے ہاتھ میں دیکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے صدر کو کلی اختیار دینے والی آئینی شقوں میں تبدیلی کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔ 28 فروری 1993 کو سینیٹ میں ان کی تقریر میں اس بات کی خواہش اور اشارہ موجود تھا۔ پیپلز پارٹی سے مفاہمت اور مدد کے لیے انھوں نے بینظیر بھٹو کو امور خارجہ کی کمیٹی کا چیئرپرسن بنا کر اپنا مافی الضمیر واضح کر دیا تھا۔ آئینی ترمیم کا اشارہ کر کے گویا وزیراعظم نے صدر کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔
اسی چپقلش کے دوران مسلم لیگ میں نواز شریف مخالف ایک دھڑا تشکیل دے دیا گیا جس میں حامد ناصر چٹھہ نمایاں تھے۔ ان سمیت تین وفاقی وزراء نے کابینہ سے استعفی دے دیا۔ ان کے بارے میں تاثر تھا کہ یہ قدم ایوان صدر کی منشا سے اٹھایا گیا تھا، کیونکہ ان میں اسحاق خان کے داماد انور سیف اللہ بھی شامل تھے۔ نواز شریف نے افتخار گیلانی اور محمود خان اچکزئی کے ذریعے لندن میں مقیم بے نظیر بھٹو سے رابطہ کیا۔ دوسری جانب فاروق لغاری اور آفتاب شیر پاؤ، روئیداد خان کے ذریعے اسحاق خان سے رابطہ کیے ہوئے تھے۔ روئیداد خان کے بقول صدر اسحق نے انہیں اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لانے کی تاکید کی۔ مگر ان دونوں رہنماؤں کا اصرار 58 ٹو بی کے ذریعے نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ تھا۔
وزیراعظم ہاؤس اور ایوان صدر کے مابین کشیدگی مذید بڑھی تو 17 اپریل 1993 کو نوازشریف نے ٹی وی پر غلام اسحاق خان کے خلاف ایک سخت تقریر کر دی جس میں انھوں نے صدر پر انھیں اقتدار سے بیدخل کرنے کی سازش کرنے کا الزام لگاتے ہوئے یہ مشہور جملہ کہا کہ میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا۔ اگرچہ برطرفی کے پانچ ہفتوں بعد سپریم کورٹ نے نواز حکومت بحال کر دی لیکن گھاگ اسحاق خان کے ترکش میں نواز شریف کو گھائل کرنے کے تیر اب بھی موجود تھے۔ پنجاب اور سرحد کی صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل اور پنجاب میں وفاق اور صوبے کے درمیان قانونی چپقلش اور ٹکراؤ نے ملکی سیاست اور نظام حکومت کو بند گلی میں دھکیل دیا جس سے نکلنے کے لیے صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقات میں نواز شریف اور غلام اسحاق خان کے استعفے پر اتفاق نے ممکنہ تصادم کا راستہ روک دیا۔
18 جولائی کو غلام اسحاق خان، نوازشریف اور جنرل عبدالوحید کاکڑ حتمی سمجھوتے کے لیے ملے۔ اس ملاقات کے نتیجے میں قومی اسمبلی تحلیل کر دی گئی، نوازشریف نے استعفی دے دیا، نگران وزیراعظم کا تقرر ہوا اور غلام اسحاق خان کو بھی مستعفی ہونا پڑا۔ یوں نواز شریف خود تو ڈوبے ہی لیکن غلام اسحق خان کو بھی لے ڈوبے۔
