نواز شریف واپس آئیں نہ آئیں، PMLN واپس آرہی ہے
نواز شریف واپس آئیں
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار فہد حسین نے کہا ہے کہ نواز شریف پاکستان واپس آئیں نہ آئیں، لیکن انکی جماعت کا اقتدار میں واپس آنا طے ہو چکا ہے اور یہ آواز اب ہر جانب سے سنائی دے رہی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ یہ آواز اس جماعت کو سخت سیخ پا بھی کر رہی ہے جس کی ساری سیاست ہی شریفوں کی تباہی پر مرکوز تھی۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں فہد حسین کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی حکومت ایک پریشان کن صورتحال میں ہے۔ یہ مانے گی نہیں، لیکن جانتی ضرور ہے۔ 2022 پر ایک تفصیلی نظر ڈالی جائے تو یہ ایک ایسے پہاڑ کی طرح نظر آتا ہے جسے سر کرنا انتہائی دشوار ہے اور واضح خطرات موجود ہیں جو حکومت کے سامنے کھڑے ہیں۔ پہلا خطرہ منی بجٹ ہے جو کہ 30 دسمبر کو قومی اسمبلی میں پیش ہو چکا۔ اگر حکومت IMF کے پروگرام میں واپس داخل ہونا چاہتی ہے تو اس کا پاس ہونا لازمی ہے۔ لیکن اگر یہ بل پاس ہوتا ہے تو مہنگائی اور عوامی غیض و غضب کی ایک نئی لہر کا سامنا اس پہلے سے لڑکھڑاتی حکومت کو کرنا ہوگا۔ PTI کے ریوڑ میں بے چینی ہے۔ اگر وہ پارلیمان میں تعداد مکمل نہ کر سکے تو؟ منی بل کی ناکامی قائدِ ایوان کے لئے عدم اعتماد تصور کی جاتی ہے۔ حکومت تاش کے پتوں کی طرح زمین پر آ رہے گی۔
لیکن بقول فہد حسین، وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ وہ اتنی جلدی اور اتنی آسانی سے گھر نہیں جائیں گے۔ ریڈ زون میں موجود انکے ایک قریبی ساتھی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی باڈی لینگویج بہت مثبت ہے۔ وہ اپنے ‘گھبرانا نہیں’ کے نعرے پر پوری طرح عمل کر رہے ہیں۔ دوسری جانب حزب اختلاف باتیں تو بڑی بڑی کر رہی ہے لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کر رہی۔ ریڈ زون میں ہونے والی حرکات و سکنات سے لگتا یہی ہے کہ اپوزیشن کو بھی لگتا ہے کہ حکومت کے پیٹ میں چھری مارنے کا وقت ابھی نہیں آیا۔ ستاروں کی چال ابھی موافق نہیں۔ بات چیت ختم نہیں ہوئی۔ نیا خاکہ تیار نہیں ہوا۔ حکومت کی سانسیں فی الحال باقی ہیں۔ لیکن یہ مصنوعی آکسیجن پر ہے۔
فہد حسین کہتے ہیں کہ آج کل تحریک انصاف کے حلقوں میں نون لیگ بارے یہ دکھڑا سننے کو ملتا ہے کہ ہم نے ن لیگ والوں کو حکومت سے نکال دیا، ان پر مقدمات بنا دیے، جیلوں میں ڈال دیا، میڈیا میں گندا کر لیا، ریاست کے شکنجے میں بری طرح سے جکڑ دیا گیا۔ لیکن یہ پھر بھی واپسی کے لئے کمر کسے ہوئے ہیں، نہ انکے electables کم ہوئے، نہ کارکن، نہ حمایتی۔ لہذا PTI آج صرف PMLN سے نہیں بلکہ PMLN نامی سوچ سے بھی لڑ رہی ہے۔ جیسے جیسے حکومتی کارکردگی نیچے جا رہی ہے، یہ سوچ عوام میں مقبول تر ہو رہی ہے۔ سوچ کو قید نہیں کیا جا سکتا، خواہ وہ کتنی ہی اچھی یا بری ہو۔ PTI ترجمان سراب سے لڑ رہے ہیں۔ خطرہ کہیں زیادہ بڑا ہو چکا ہے اور حکومتی ترجمانوں کے روایتی غصیلے بیانات اب غیر متعلقہ ہو چکے ہیں۔
فہد حسین کے مطابق ریڈ زون ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ جس ادارے نے PTI کو ہر اچھے برے دور میں مدد فراہم کی، وہ اب فیصلہ کر چکے ہیں کہ PTI کو اب اپنی کفالت خود کرنی چاہیے۔ پنجاب میں عثمان بزدار حکومت بھی اب حفاظت کے لئے اپنے کمبل ڈھونڈ رہی ہے کیونکہ روایتی گرمجوشی کی جگہ اب بتدریج سردی لیتی جا رہی ہے۔ حکومتی جماعت میں بہت سے لوگ اب کپکپی کا شکار ہیں۔ اگر کپتان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد آ گئی اور خفیہ فون کالز نہ آئیں تو کیا ہو گا؟ یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ کیا وزیر اعظم آخری بال پر چھکا لگا دیں گے؟ درحقیقت وزیر اعظم اپنے تمام آپشنز پر غور کر رہے ہیں لیکن انکی آپشنز محدود ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں چند ماہ میں ایک اہم ترین تقرری کرنی ہے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس تقرری کے سنگین نتائج ہوں گے۔ بہت سے سیاسی لوگ اس تقرری کے ممکنہ نتائج پر غور کرتے ہوئے اپنے آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ آپ ان تمام آپشنز کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھیں اور ایک ٹائم لائن آپ کے سامنے ابھر کر آ جائے گی۔ یہ چند ماہ سے آگے نہیں جاتی۔ زیادہ سے زیادہ، چند ماہ۔ ایک تنگ گھاٹی میں دوبدو لڑائی کے دوران سارا معاملہ ہی پہلے وار کا ہوتا ہے۔ اور وار کاری ہونا چاہیے۔ اس بڑے اوور کو واقعی بڑا ہونا ہوگا۔ ایک انچ بھی آگے پیچھے ہوا تو چھکا باؤنڈری پر کیچ آؤٹ میں بدل سکتا ہے۔ اور کپتان سے بہتر یہ کون جانتا ہے؟
