نواز شریف پاکستان نہ آئے تو ن لیگ کی لٹیا ڈوب جائے گی؟

ملک میں اس وقت کسی کے علم میں نہیں ہے کہ عام انتخابات ہوں گے بھی یا نہیں؟ اور اگر ہوں گے تو کب ہوں گے ؟ بے یقینی اور نااُمیدی کی کیفیات نے ہر پاکستانی شہری کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے دوسری طرف مسلم لیگ نون کے قائد  نواز شریف، کی برطانیہ سے  پاکستان واپسی کا غلغلہ مچا ہے۔اب تو پی ٹی آئی حکومت کے بغض گزیدہ سابق مشیر، شہزاد اکبر، بھی نواز شریف کی تعریفیں کر رہے ہیں۔ اخبارات، ٹی وی چینلز  اور سوشل میڈیا میں نواز شریف کی متوقع  آمد کی ’’نویدیں‘‘ سنائی جا رہی ہیں۔  ٹاک شوز میں دو سوالات مسلسل پوچھے جا رہے ہیں کہ کیا اگست میں اسمبلیاں ٹوٹنے کے بعد واقعی نومبر 2023 میں عام انتخابات ہو جائیں گے ؟ اور دوسرا یہ کہ کیا واقعی میاں محمد نواز شریف مذکورہ انتخابات سے قبل پاکستان آ جائیں گے ؟. اگر نواز شریف عام انتخابات سے قبل پاکستان نہ آئے تو نون لیگ کی لُٹیا ڈُوبنے کے بے حد خدشات موجود ہیں۔

ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار تنویر قیصر شاہد نے اپنی ایک تحریر  میں کیا ہے . وہ کہتے ہیں کہ حکمرانوں اور اتحادی حکومت کی پیدا کردہ بے انتہا مایوسی اور نااُمیدی کے  ماحول میں نواز شریف سے منسوب یہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ  :’’ وطن واپسی پر جیل جانا پڑا تو پروا نہیں ۔‘‘نواز شریف کے اِس بیان نے نون لیگی عشاق کے قلوب میں اُمیدوں اور توقعات کی نئی شمعیں روشن کر دی ہیں ۔ نواز شریف کے پھر سے پاکستانی سیاست میں سرگرم ہونے سے اِن توقعات کو تقویت ملتی ہے کہ پاک بھارت تعلقات میں پھر سے گرمجوشی پیدا ہوگی۔ اگر دونوں ہمسایہ ممالک میں امن کے پرچم لہرا اُٹھتے ہیں تو توقع یہی ہے کہ ہماری بیٹھی تجارت پھر سے اُٹھ کھڑی ہوگی۔ واقعاتی حقیقتیں بھی یہی ہیں کہ نواز شریف جب جب پاکستان کے حکمران منتخب ہُوئے ، پاک بھارت تعلقات کو فروغ بھی ملا اور امن کے لیے کوششیں بھی تیز کی گئیں ۔پاک بھارت تعلقات کو بہتر بنانے اور جنوبی ایشیا کے اِن دونوں ممالک میں امن سازی کی کوششیں کرتے ہُوئے نواز شریف کو بھاری سیاسی قیمتیں بھی ادا کرنا پڑیں۔

تنویر قیصر شاہد لکھتے ہیں کہ اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف اور بھا رتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اپنے اپنے ممالک میں کئی عناصرکی سخت مخالفت کے باوجود، فروری1999میں، لاہور میں اکٹھے ہُوئے اور امن سازی کے لیے تاریخی ’’لاہور ڈیکلیریشن‘‘ پر دستخط کیے۔آج وقت نے مگر ثابت کیا ہے کہ نواز شریف کی  امن سازی کی یہ کوشش ہی پاکستان کی خوشحالی، امن اورتجارت کے لیے اصل ضرورتیں تھیں۔ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جب بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے تجاویز دیں ( جنہیں وزیر اعظم عمران خان نے مسترد کر دیا تھا) تو یہ بھی دراصل اِس امر کا غماز تھا کہ پاک بھارت تعلقات کو بہتر بنانے کی نواز شریف کی کوششیں اور اقدامات ہی حقیقت تھے ۔مگر ہمارے ’’بعض طاقتوروں ‘‘ کا اپنی طاقت کے زعم میں یہ خیال اور دعویٰ تھا کہ بھارت کے ساتھ اِٹ کھڑکّا کرکے ہی جیا جا سکتا ہے۔

نواز شریف جنوبی ایشیا کے دونوں مذکورہ ممالک میں مستحکم قیامِ امن کے لیے کسقدر مصمم ارادہ کیے ہُوئے تھے۔ اور اِس ضمن میں اٹل بہاری واجپائی نے بی جے پی کے سربراہ، کوشا بھاؤ ٹھاکرے(جو کٹر پاکستان مخالف تھا) کو پی ایم ہاؤس بلا کر تنبیہ بھی کی تھی کہ پاک بھارت امن ساز مساعی میں رکاوٹیں مت ڈالو۔ جب بھارتی وزیر اعظم لاہور میں نواز شریف سے ملنے پہنچے تو پاکستان کی جماعتِ اسلامی کے جتھوں نے اٹل بہاری واجپائی کے خلاف نعرے لگائے۔ اور جب لاہور کے شاہی قلعہ میں نواز شریف صاحب اٹل بہاری واجپائی کی کھانے پر عزت افزائی کررہے تھے، جماعتِ اسلامی والے قلعہ کے باہر سفارتکاروں کی گاڑیوں پر پتھراؤ کر رہے تھے۔

Back to top button