عمران نے 60 ارب کے سکینڈل میں کابینہ سے فراڈ کیسے کیا؟

 

سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کے مشیر احتساب مرزا شہزاد اکبر نے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کو ساٹھ ارب روپے کا غیر قانونی فائدہ پہنچانے کے لئے اس وقت کی وفاقی کابینہ سے کھلا دھوکہ کیا تین دسمبر 2019 کو عمران خان حکومت کی کابینہ کے اجلاس میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے پاکستان کو 190 ملین پاؤنڈز کی واپسی کے حوالے سے انتہائی متنازع معاملے پر غیر قانونی بحث اور فیصلہ کیا گیا سرکاری ریکارڈ کے مطابق مذکورہ معاملے پر قانون کے مطابق کابینہ ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ کسی سمری کا کوئی وجود نہیں اور ان معلومات کی تصدیق تمام متعلقہ سرکاری ذرائع بشمول نیب، کابینہ ڈویژن اور وزیراعظم آفس سے وابستہ افراد سے ہو چکی ہے. واضح رہے کہ یہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور عمران خان کی حکومت کے درمیان طے پانے والے ایک خفیہ معاہدے کا معاملہ ہے مبینہ طور پر ‘بحریہ ٹاؤن کی جو 190ملین پاؤنڈ یا 60 ارب روپے کی رقم برطانیہ میں منجمد ہونے کے بعد پاکستانی حکومت کے حوالے کی گئی وہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک ریاض کے ذمے واجب الادا 460 ارب روپے کی رقم میں ایڈجسٹ کر دی گئی تھی۔’ نیب کا دعویٰ ہے کہ اس کے عوض بحریہ ٹاؤن نےمارچ 2021 میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کو ضلع جہلم کے علاقے سوہاوہ میں 458 کنال اراضی عطیہ کی اور یہ معاہدہ بحریہ ٹاؤن اور عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے درمیان ہوا تھا۔ سینئرصحافی انصار عباسی کی ایک رپورٹ میں باخبر ذرائع کے حوالے بتایا گیا ہے کہ 190 ملین پاؤنڈز کی واپسی کے حوالے سے فیصلہ مہر بند ’’نوٹ فار دی پرائم منسٹر‘‘ پر کیا گیا اور کابینہ کے غور و خوص کیلئے وفاقی ڈویژنز میں سے کسی نے بھی اس ضمن میں کوئی سمری پیش نہیں کی . پی ٹی آئی حکومت کے اثاثہ ریکوری یونٹ کے اس وقت کے چیئرمین شہزاد اکبر نے رابطہ کرنے پر اصرار کیا کہ سمری کابینہ ڈویژن نے پیش کی تھی اور کابینہ کیلئے پیش کردہ اسی سمری کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا تھا۔ تاہم، سرکاری ریکارڈ میں ایسی کسی سمری کا کوئی وجود نہیں اور اس معلومات کی تصدیق تمام متعلقہ سرکاری ذرائع بشمول نیب، کابینہ ڈویژن اور وزیراعظم آفس سے وابستہ افراد نے کی ہے۔ قواعد کی رو سے کابینہ کے غور کیلئے سمری بھی کابینہ کے تمام اراکین کے ساتھ شیئر کی جاتی ہے لیکن اس معاملے میں بھی ایسا نہیں ہوا۔3 دسمبر 2019 کو کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعظم کے دفتر کے اثاثہ ریکوری یونٹ کی جانب سے کابینہ کے سامنے ایک مہر بند "نوٹ” پیش کیا گیا۔ یہ نوٹ کابینہ ارکان کے ساتھ شیئر نہیں کیا گیا لیکن اس کے باوجود کابینہ نے اسے منظور کر لیا اور "نوٹ” کو خفیہ رکھنے کی ہدایت کی گئی۔ کابینہ کے اجلاس کے باضابطہ منٹس میں کابینہ کی منظوری سے آگاہ کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ رازداری کو برقرار رکھنے کیلئے کابینہ نے کابینہ سیکریٹری کو نوٹ دیکھنے کی ہدایت کی اور اسے بوقت ضرورت کسی بھی عدالت میں پیش کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔‘‘

میٹنگ منٹس کے مطابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب اور داخلہ نے رازداری کی شق کی وجہ سے کابینہ کو، ان کیمرہ، اکاؤنٹس منجمد کرنے کے احکامات کے معاملے میں پاکستان کو رقوم کی واپسی پر بریفنگ دی۔ کابینہ نے اثاثہ ریکوری یونٹ کی جانب سے 2؍ دسمبر 2019ء کو پیش کیے گئے نوٹ کا جائزہ لیا اور پیرا نمبر 10؍ کی منظوری دی۔ رازداری کی شق کی وجہ سے کابینہ نے کابینہ سیکریٹری کو ہدایت کی کہ بوقت ضرورت وہ یہ نوٹ دیکھ سکتے ہیں اور عدالت میں پیش کر سکتے ہیں۔

ان کیمرا اجلاس سے قبل یہ نوٹ کابینہ ارکان کو دکھایا گیا اور نہ ہی اسے باضابطہ ایجنڈا کا حصہ بنایا گیا۔ اس پر اضافہ ایجنڈا آئٹم کی صورت میں بات کی گئی۔ وزراء کو بھی اس حوالے سے بس سرسری بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ برطانوی حکومت اور نیشنل کرائم ایجنسی کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی وجہ سے تفصیل نہیں بتائی جا سکتی، لیکن عدلیہ چاہے اور حکم دے تو اس نوٹ کو سیل کھول کر پیش کیا جا سکتا ہے۔
عمومی حالات میں قواعد یہ کہتے ہیں کہ ایسے کیس کو صرف رسمی سمری کے ذریعے کابینہ کے روبرو غور کیلئے پیش کا جانا چاہیے تھا۔ کیس کی نوعیت کے پیش نظر کابینہ ڈویژن اس معاملے کو کابینہ کے سامنے رکھنے سے قبل وزارت خزانہ، قانون، خارجہ امور اور اٹارنی جنرل آفس سے مشاورت کرنے کا پابند تھا۔ لیکن ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔ ایک سرکاری ذریعہ کے مطابق، یہ کابینہ کے ساتھ دھوکے کا کیس ہے۔

Back to top button