نواز شریف کے بغیر مریم ،نون لیگ کو الیکشن جتوا پائیں گی؟

ملک سے کئی ہفتوں کی غیر حاضری کے بعد مریم نواز  واپس وطن لَوٹ آئی ہیں اور سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائز کے طور پر  مسلم لیگ نون کو درپیش گمبھیر مسائل ان کے لیے چیلنج ہیں ۔ سر پر کھڑے عام انتخابات سے قبل اُنہیں بڑی ہمت اور جرأت کےساتھ نہ صرف ان مسائل پر قابو پانا ہے بلکہ انھیں مزید پھیلنے سے بچانا بھی ہے۔

 نون لیگ کی چیف آرگنائزر ہونے کے ناتے اُنہیں اژدہے کی طرح منہ کھولے اِن مہلک مسائل کو اکیلے ہی حل کرنا اور سمیٹنا ہے ۔ پارٹی کے اندر اور باہر کئی قوتیں امتحان کی اِن گھڑیوں میں مریم نواز کی قوتِ کار اور قوتِ فیصلہ کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں ۔ اگر نواز شریف جنرل الیکشنز سے قبل وطن واپس نہیں آتے تو مریم نواز کے کندھوں پر پڑا یہ بوجھ مزید بھاری بھر کم ہو جائیگا۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور تجزیہ کار تنویر قیصر شاہد نے اپنی ایک تحریر میں کیا ہے . وہ لکھتے ہیں کہ شاہد خاقان عباسی  نون لیگ اور نون لیگی قیادت کے کئی فیصلوں سے ناراض اور نالاں ہو چکے ہیں ۔ اِس حقیقت کو چھپانے اور اِس پر مٹی ڈالنے کی بھرپور کوششیں بھی کی گئی ہیں لیکن حقیقت چھپ نہیں رہی ۔ مبینہ طور پر یہ ناراضیاں اُس وقت زیادہ نمایاں ہُوئیں جب نواز شریف کی صاحبزادی،  مریم نواز شریف، کو نون لیگ کی چیف آرگنائزر کے منصب پر فائز کیا گیا ۔ شاہد خاقان عباسی غالباً واحد نون لیگی سینئر رہنما تھے جنہوں نے اِس فیصلے کے خلاف برسر عام اپنی ناراضی اور ناخوشی کا اظہار کیا ۔ اِس ناراضی کو نون لیگ کی اعلیٰ سطح کی قیادت میں پسند نہیں کیا گیا تھا۔ شاہد خاقان عباسی مگر اُصولوں کی بنیاد پر اپنے جذبات و احساسات کے اظہار سے دستکش نہ ہُوئے ۔ لندن میں ہونے والی نواز شریف، شاہد خاقان عباسی ملاقات میں کیا یہ ناراضی تحلیل ہو گئی تھی ؟ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔  کہیں بھی نظر نہیں آتا کہ شاہد خاقان عباسی کی مبینہ ناراضیاں تحلیل ہو گئی ہیں اور یہ کہ نون لیگ کے اندر وہ جن سے ناراض ہیں، اُن سے صلح ہو گئی ہے یا نہیں اور یہ کہ نون لیگ میں وہ کون لوگ ہیں کہ جن کی قیادت بدلنے پر شاہد خاقان عباسی پارٹی کے کسی عہدے پر رہنا نہیں چاہتے ۔ تنویر قصر شاہد کہتے ہیں کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی اتحادی حکومت میں نون لیگ کی حالت بھی مضبوط نہیں رہی ہے ۔ستم ظریفی مگر یہ ہے کہ اتحادی حکومت کے تمام عوام مخالف، معاشی فیصلوں کا سارا ملبہ نون لیگ پر گررہا ہے ۔ بظاہر سیاست کی بالائی پی پی پی کھا رہی ہے ۔نون لیگ کے ہاتھ میں سوائے ندامت کے کچھ نہیں لگ رہا ۔ نون لیگ کو آزاد کشمیر کے انتخاب میں بھی ، پیپلز پارٹی کے مقابل ، شکست و ندامت ملی اور کراچی میں بھی میئر کے انتخاب میں نون لیگ کو کچھ نہیں ملا ۔ ابھی جب  اتحادی حکومت کی مرکزی ٹوٹ پھوٹ سے جو ملبہ بکھرے گا، اِس کا زیادہ تر بوجھ نون لیگ کو اُٹھانا پڑے گا۔ یہ نوشتہ دیوار ہے ۔  پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور اتحادی حکومت کے وزیر خارجہ،جناب بلاول بھٹو زرداری ، نے برسر مجلس جناب شہباز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو دھمکی دے کر جس اسلوب اور لہجے میں سندھ کے سیلاب زدگان کے لیے 25ارب روپے حاصل کیے ہیں، یہ دراصل نون لیگ کی شکست اور پسپائی ہے ۔نون لیگی قیادت اِس پسپائی پر باطنی طور پر پیپلز پارٹی کے خلاف ’’زہر ‘‘ گھول رہی ہے لیکن وہ اپنے ایک مرکزی اتحادی کے خلاف لب کشائی کرنے کی جرأت نہیں رکھتی ۔ دباؤ سے اپنا 25 ارب روپے کا مالی مفاد سمیٹنے کے اِس عمل کے خلاف نون لیگ کے سیکریٹری جنرل، احسن اقبال، نے زیر لب احتجاج کیا ہے اور بس۔ یہ پسپائی نون لیگ کی کمزوریوں کو سارے ملک پر عیاں کر گئی ہے۔

تنویر قیصر شاہد کہتے ہیں کہ 9مئی کے سانحات کے پس منظر میں ملزموں کے خلاف کارروائی کرنے کے حوالے سے نون لیگی اور پیپلز پارٹی کی قیادت میں جو تفاوت اور شدید کشمکش نمایاں طور پر نظر آ رہی ہے ، اِس کا خسارہ بھی نون لیگ ہی کو برداشت کرنا ہے ۔ نون لیگ اپنے سخت موقف کی اساس پر شائد ’’کسی‘‘ کی نظر میں سرخرو ہو جائے مگر پیپلز پارٹی اِسی ضمن میں عوامی عدالت میں سرخرو ہو جائیگی ۔ خود نون لیگ کے متعدد باطنی دھڑے نون لیگی قیادت کی ہوشربائی کا موجب بن رہے ہیں ۔ اتحادی حکومت نے جس قیامت خیز مہنگائی اور بے روزگاری کو جنم دے رکھا ہے،اِس کا ملبہ بھی براہِ راست نون لیگ پر گررہا ہے ۔یہ احساس نون لیگی قیادت کے لیے مزید پریشانی اور پشیمانی کا باعث بن رہا ہے۔ 16جون 2023  کونون لیگ میں پارٹی انتخابات و نتائج کے بعدشہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا تھا: ’’ ڈار کی ٹانگیں کھینچنے والے پارٹی چھوڑ دیں‘‘۔ یہ اشارہ دراصل سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی طرف تھا جو وزارت سے فارغ کیے جانے کے بعد روزانہ کی بنیاد پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور اُن کی پالیسیوں کی ناکامیوں پر سخت تنقید کرتے آ رہے ہیں ۔ نون لیگ میں نئے انتخابات کے بعد شاہد خاقان عباسی ، مفتاح اسماعیل ، اقبال ظفر جھگڑا اور مہتاب عباسی ایسے پرانے ، کمٹڈ اور تجربہ کار نون لیگی رہنما مبینہ طور پر’’ فارغ‘‘ کر دیے گئے ہیں ۔ واقعی اگر ایسا ہو چکا ہے تو یہ اقدام نون لیگ کی مزید کمزوری کا باعث بنے گا۔اوپر سے حضرت مولانا فضل الرحمن، نواز شریف کی دبئی میں آصف زرداری سے ملاقاتوں پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔اگلے روز بٹگرام ( کے پی کے ) میں پریس کانفرنس کے دوران مریم نواز شریف کے شوہر نامدار، کیپٹن (ر) صفدر اعوان، نے اپنے ایم این اے بھائی، سجاد اعوان، کی موجودگی میں حضرت مولانا فضل الرحمن پر فنڈز کے حوالے سے جو الزام عائد کیا ہے۔ اِس نے بھی جے یو آئی ایف اور نون لیگ کے درمیان بد مزگی پیدا کی ہے ۔دو روز قبل نگران حکومت کے اختیارات بڑھانے پر حکمران اتحاد میں جو تقسیم دیکھنے میں آئی ہے،اِس نے بھی نون لیگ کو صدمہ پہنچایا ہے۔ .  اژدہے کی طرح منہ کھولے اِن مہلک مسائل کو  مریم نواز نے اکیلے ہی حل کرنا اور سمیٹنا ہےایسے میں  اگر نواز شریف جنرل الیکشنز سے قبل وطن واپس نہیں آتے تو مریم نواز کے کندھوں پر پڑا یہ بوجھ مزید بھاری بھر کم ہو جائیگا۔

Back to top button