نون لیگ نے فی الحال اقتدار نہ لینے کا اصولی فیصلہ کر لیا

تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں نون لیگ کی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر مستقبل قریب میں مرکز اور پنجاب میں حکومت کے خاتمے کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو وہ کسی بھی صورت میں مرکز یا پنجاب میں اقتدار نہیں لیں گے۔
آرمی ترمیمی ایکٹ کی منظوری کے بعد اسٹیبلشمنٹ اور نون لیگ کے مابین کسی ڈیل کی افواہوں کو رد کرتے ہوئے پارٹی کے اعلی سطحی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت ان ہاؤس تبدیلی کی صورت میں بھی مرکز یا پنجاب میں اپنا وزیراعظم یا وزیراعلی نہیں لائے گی۔ لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند مہینوں میں تحریک انصاف کے اقتدار کا سورج غروب ہو کر رہنا ہے لیکن ان کی جماعت اسکے باوجود اقتدار لیکر کسی سیاسی گند کا حصہ نہیں بننا چاہے گی۔
ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں افواہیں گرم ہیں کہ نون لیگ پنجاب میں اقتدار پر قبضے کے لیے راہ ہموار کر رہی ہے لیگی حلقوں نے یہ انکشاف کیا ہے کہ شریف برادران فوری طور پر مرکز یا پنجاب میں اقتدار حاصل کرنے کی بجائے تحریک انصاف حکومت کو مکمل فیل ہوتا دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔ لیگی حلقوں کے مطابق مسلم لیگ نون کی قیادت کی جانب سے حال ہی میں آرمی ترمیمی ایکٹ کی غیر مشروط حمایت یعنی ووٹ کے مقابلے میں بوٹ کو عزت دینے کے بعد عوامی اور سیاسی سطح پر پارٹی کو جس ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے، ان حالات میں لیگی قیادت سمجھتی ہے کہ فوری طور پر موجودہ اسمبلیوں کے ذریعے اقتدار میں آنا نون لیگ کے لیے زہر قاتل ہوگا اور یہ تاثر مضبوط ہوجائے گا کہ نون لیگ نے اقتدار حاصل کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ووٹ کو عزت دینے کے بیانیے پر سمجھوتا کیا ہے۔
لیگی ذرائع کے مطابق شریف برادران نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر مرکز یا پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی آتی ہے تو نون لیگ اقتدار پر حق ثابت کرنے کی بجائے چاہے گی کہ ایک بار پھر تحریک انصاف میں سے ہی دوبارہ کوئی وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بنے تاکہ تحریک انصاف دوسری مرتبہ بھی ناکام ہو کر نون لیگ کے لیے مستقبل میں مزید آسانیاں پیدا کردے۔
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ سیاسی حلقوں میں وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کو گھر بھجوا کر نون لیگ کی حکومت قائم ہونے کی جو باتیں ہو رہی ہیں ان سے لیگی قیادت کو قطعاً کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ نواز شریف یہ سمجھتے ہیں کہ فوری طورپر ملک کے سیاسی اور معاشی حالات ٹھیک ہوتے دکھائی نہیں دیتے لہٰذا بہتر یہی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت آئندہ چند مہینوں میں فطری انداز سے گھر چلی جائے یا عمران خان خود ہی حالات سے تنگ آکر اسمبلیاں توڑ دیں اور پھر ملک میں ہونے والے آئندہ الیکشن میں نون لیگ ہی واحد آپشن کے طور پر سامنے آئے۔
اندر کی خبر رکھنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ نون لیگ نے عثمان بزدار کی ناکام ترین حکومت کی جگہ خود اقتدار پر قبضے کرنے کے بارے میں بھی تاحال کوئی ذہن سازی نہیں کی۔ تاہم اگر قاف لیگ اقتدار پر قبضہ کرنے کی خواہشمند ہوئی تو نون لیگ کی جانب سے چوہدری پرویز الہی کی حمایت کی جا سکتی ہے۔ مگر ابھی مسلم لیگ نون اپنا وزیراعلیٰ لانے کی قطعاً کوئی خواہش نہیں رکھتی۔
مسلم لیگ نون کے اندرونی حلقے کہتے ہیں کہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں جب اسٹیبلشمنٹ بھی تحریک انصاف سے دور ہو رہی ہے اور عوام بھی حکومت سے تنگ آ چکے ہیں، مسلم لیگ نون کے لیے اقتدار حاصل کرنا خاصا آسان ہے۔ مگر ووٹ کی بجائے بوٹ کو عزت دے کر نون لیگ نے جس طرح اپنی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے، ایسے میں فوری طور پر اقتدار میں آنا اس کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
لیگی قیادت کا خیال ہے کہ چند مہینے گزرنے کے بعد ن لیگ کی جانب سے بوٹ کو عزت دینے کا معاملہ پس منظر میں چلا جائے گا اور تب تک تحریک انصاف حکومت بھی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہوگی۔ ایسے میں ن لیگ سے بہتر کوئی دوسری چوائس یا آپشن موجود نہیں ہوگا لہذا گرم گرم کھا کر منہ جلانے سے بہتر ہے کہ ٹھنڈا کر کے کھایا جائے۔
