نکے نے خود کو اپنا ابّا کیوں سمجھنا شروع کر دیا ہے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ اسلام آباد کا ”نکّہ‘‘ کسی اور کو نہیں بلکہ خود کو ہی اپنا ابّا سمجھنا شروع ہو گیا ہے جسکا نتیجہ اس کو جلد بھگتنا پڑے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے اپنے حالیہ رویے سے اس رائے کو تقویت فراہم کی ہے کہ انہیں کسی اور سے نہیں بلکہ سب سے زیادہ خطرہ اپنے ذات سے ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان نے ڈی جی آئی ایس آئی کے نوٹی فیکیشن کے معاملے میں تو بظاہر قانون کی بالادستی اور میرٹ کا مسئلہ بنایا لیکن آج تک یہ نہیں بتا سکے کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا وزیراعلیٰ کون سے میرٹ پر پورا اترتا ہے؟ اب وہ کراچی سے تعلق رکھنے والے شوکت ترین کو خیبرپختونخوا سے سینیٹر بنوانا چاہتے ہیں۔ شوکت ترین صاحب ذاتی طور پر بڑے اچھے آدمی ہیں لیکن ان کا میرٹ صرف یہ ہے کہ انہیں آصف علی زرداری نے اپنے دور حکومت میں وزیرخزانہ بنایا تھا اور آج عمران خان انہیں اپنا وزیرخزانہ بنائے رکھنے پر بضد ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ شاید کرکٹ میں عمران خان کسی حد تک میرٹ کا خیال رکھتے تھے لیکن سیاست و حکومت میں وہ میرٹ کا نہیں بلکہ صرف اور صرف اپنے ذاتی مفادات کا خیال رکھتے ہیں۔ عمران خان کی جانب سے آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کے نوٹی فیکیشن کے معاملے کو لٹکانا نہ تو قانون کی بالادستی کا معاملہ تھا اور نہ ہی میرٹ کا معاملہ تھا۔ وہ افغانستان کے حالات کی آڑ لے کر اس ادارےکے سربراہ کی تبدیلی کا معاملہ مؤخر کرنا چاہتے تھے کیوںکہ ان کے خیال میں میرٹ کا مطلب یہ ہے کہ جو میرے قریب ہے وہ قریب رہنا چاہیے۔ وہ کسی کو اپنے اتنے قریب رکھنے کی کوشش میں تھے کہ وہ اپنے ادارے کو بہت دور دور لگنے لگا۔ اسی حساس معاملے پر میڈیا میں کھلم کھلا بحث ہوئی۔ ایک طرف شیخ رشید احمد یہ دعوے کرتے رہے کہ جلد سب ٹھیک ہو جائے گا اور نوٹی فیکیشن بھی جاری ہو جائے گا دوسری طرف باخبر ذرائع کے حوالے سے دعوے کیے گئے کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو آئندہ سال آرمی چیف مقرر کرنے پر غور ہو سکتا ہے۔ ہر کسی کو نظر آ رہا ہے کہ وزیراعظم کی طرف سے آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری کا نوٹیفیکیشن افغانستان کے حالات کی وجہ سے نہیں بلکہ کچھ دیگر وجوہات کی بنا پر لٹکایا گیا۔ اس تخریب میں ایک تعمیر کا پہلو یہ تھا کہ عمران خان نے ان لوگوں کے مؤقف کو غلط ثابت کر دیا جو یہ سمجھتے تھے کہ وزیراعظم کے ہر صحیح یا غلط فیصلے کو جی ایچ کیو کی غیرمشروط حمایت حاصل ہوتی ہے یا تمام اہم سیاسی فیصلے عمران خان نہیں بلکہ فوجی قیادت کرتی ہے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ اسی تاثر کی وجہ سے کچھ عرصہ قبل پاکستان کی سیاست میں ”نکے دا ابّا‘‘ کی اصطلاح بھی متعارف ہوئی لیکن حالیہ واقعات سے پتا چلتا رہا ہے کہ ”نکّہ‘‘ کسی اور کو نہیں بلکہ اپنے آپ کو ہی اپنا ابّا سمجھتا ہے۔ عمران خان نے اپنے حالیہ رویے سے اس رائے کو تقویت دی کہ انہیں کسی اور سے نہیں بلکہ سب سے زیادہ خطرہ اپنے آپ سے ہے۔ وہ کبھی میڈیا سے لڑتے ہیں، کبھی الیکشن کمیشن سے لڑتے ہیں اور کبھی اپنے آپ سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ انہوں نے مہنگائی کے خاتمے پر توجہ دینے کی بجائے ’’ن میں سے ش‘‘ نکالنے پر زیادہ توجہ دی اور ابھی تک اس میں ناکام ہیں۔ ایک زمانے میں سیاسی مخالفین پر بھینس چوری کے مقدمات بنائے جاتے تھے لیکن عمران خان کے دور میں سیاسی مخالفین اور ناقدین کی کردار کشی کے لیے تمام حدود کو عبور کر لیا گیا۔
حامد میر کہتے ہیں کہ آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ کچھ ہفتے قبل سوشل میڈیا پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر کی کچھ ایسی ویڈیوز پھیلائی گئیں جن کے باعث ان کے خاندان کے کچھ لوگ شدید ذہنی صدمے کا شکار ہوئے۔ یہ ایک ایسا معاملہ تھا جس پر محمد زبیر کی پارٹی کے کچھ اہم رہنماؤں نے بھی ان کا مناسب دفاع نہیں کیا لیکن پھر نجانے کیسے ایک ادارے نے کچھ لوگ گرفتار کر لیے۔ گرفتار شدگان نے بتایا کہ محمد زبیر کی ویڈیوز خودساختہ تھیں اور یہ ان لوگوں نے خود سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیں۔ اس معاملے پر میری دو سے زیادہ اہم لوگوں سے بات ہوئی اور جو مجھے پتا چلا وہ بہت افسوسناک ہے۔ ابھی تک یہ ثبوت نہیں ملا کہ محمد زبیر کے خلاف یہ سازش کس کے حکم پر تیار ہوئی لیکن بہ ظاہر یہ لگتا ہے کہ کوئی نہ کوئی یہ چاہتا تھا کہ مسلم لیگ ن اور فوج ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہو جائیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت کے کچھ وفاداروں نے بعض صحافیوں اور سیاست دانوں کی ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کو ریکارڈ کر رکھا ہے اور بوقت ضرورت اس گفتگو کو سوشل میڈیا پر پھیلا کر صحافیوں کو بھی بدنام کرنے کی کوشش ہو گی لیکن لوگوں کے ٹیلی فون ریکارڈ کرنے والے یہ نہیں جانتے کہ وہ ناصرف خود قانون توڑ رہے ہیں بلکہ عدلیہ سمیت تمام ریاستی اداروں کی اہم شخصیات کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ان سب کے ٹیلی فون ٹیپ ہوتے ہیں۔ اسی قسم کے پیغامات دے کر عمران خان اپنی حکومت کو مضبوط نہیں بلکہ دن بہ دن کم زور کر رہے ہیں۔
حامد میر کہتے ہیں کہ عمران خان کے اتحادیوں کی حکومت کا بلوچستان میں خاتمہ ہو گیا ہے اور ان کے وزیرداخلہ نے کالعدم تحریک لبیک کے سامنے ہتھیار پھینک دیے ہیں، کل کو ان کے وزراء الیکشن کمیشن کے سامنے معافیاں مانگتے نظر آئیں گے پھر کچھ وزراء پنجاب میں بھی وہی کر دکھائیں گے جو عبدالقدوس بزنجو اور ظہور بلیدی نے کوئٹہ میں کر دکھایا اور اسلام آباد میں بھی وہ کچھ ہو سکتا ہے جس کی عمران خان کو بھنک پڑ چکی ہے۔ شاید اسی لیے وہ سیاسی شہید بننے کی کوشش کریں گے تاکہ تباہ حال معیشت کو اپنے سیاسی مخالفین کے گلے کا ہار بنا دیں لیکن اگر آئین و قانون کے اندر سے راستے تلاش کیے جائیں، تو شاید عمران خان ہار جائیں لیکن پاکستان جیت جائے گا۔

Back to top button