نگران حکومتیں الیکشنز تک قائم رہیں گی

پنجاب اور خیبر پختونخوا کی نگران حکومتوں کو 90 دن مکمل ہونے کے بعد غیر آئینی قرار دینے کے حوالے سے جہاں ایک طرف تحریک انصاف نے صدر مملکت کو خط لکھ دیا ہے وہیں دوسری طرف قانونی ماہرین کے مطابق پنجاب اور خیبرپختونخوا میں نگران حکومتیں دونوں صوبوں میں انتخابات اور منتخب حکومتوں کے قیام تک قائم رہیں گی، 90 روز کی مدت گزرنے کے باوجود دونوں نگران حکومتیں اپنا کام جاری رکھیں گی۔ الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق دونوں نگران حکومتوں کی تعیناتی کے دوران ان کی مدت کے بارے میں نہیں بتایا گیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حیات خان نے بتایا کہ نگران حکومتوں کا قیام آئین کے مطابق ہی کیا گیا ہے۔ یہ بات طے ہے نئے انتخابات کے انعقاد اور نئی حکومتوں کی جانب سے انتظام کار سنبھالنے تک دونوں صوبوں کی نگران حکومتیں قائم رہیں گی۔ قانونی ماہرین کے  مطابق نگران حکومتوں کی مدت اور تعیناتی کے حوالے سے قانون بالکل واضح ہے کہ نگران حکومت منتخب حکومت کے قیام تک اپنی ذمہ داریاں انجام دیتی رہیں گی۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق خواجہ طارق رحیم کیس صفحہ170فل بنچ اور محمد یاسین کیس پیراگراف5میں یہ اصول طے ہوچکا ہے کہ نگران حکومت صرف 90دن کیلئےنہیں بلکہ اگلی منتخب حکومت کے حلف لینے تک فرائض سرانجام دےسکتی ہیں۔

تاہم دوسری جانب تحریک انصاف کی طرف سے نگران حکومت کیخلاف پراپیگنڈہ زوروشور سے جاری ہے۔پی ٹی آئی کے عمرانڈو رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ نگراں حکومت کی مدت میں توسیع نہیں ہوسکتی، پنجاب میں 23 اپریل سے ایڈمنسٹریٹر کی تعیناتی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ فواد چوہدری نے کہا میں نے صدر مملکت کو خط لکھا ہے اور ان سے دو معاملات پر مداخلت کی اپیل کی ہے، ایک معاملہ الیکشن کمیشن پاکستان اور ان کی ایکسٹینشن یعنی نگران حکومتیں، وہ دوصوبوں میں اپنے بنیادی کام یعنی 90 روز میں الیکشن کرانے میں ناکام ہوگئیں، اس لیے اس پر آپ چیف الیکشن کمشنر سے رپورٹ طلب کریں۔ان کا کہنا تھا کہ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ نگران حکومتیں 90 روز کے لیے مقرر کی جاتی ہیں، 22 اپریل کو پنجاب کی نگران حکومت کی مدت ختم ہوچکی ہے، اس کے بعد آئین خاموش ہے کہ صوبے پر کون حکومت کرے گا۔انہوں نے کہا کہ اس لیے سپریم کورٹ کو ریفرنس بھیجا جائے، کیونکہ ابھی جو فیصلہ آیا ہےاس کے مطابق صرف سپریم کورٹ کو یہ اختیار ہے کہ وہ الیکشن کو آگے بڑھاسکے، الیکشن کی ازخود توسیع آئین میں نہیں ہے، لہذا سپریم کورٹ نگران حکومتوں کو گھر بھیجے اور ایڈمنسٹریٹر مقرر کرے جو پنجاب اور کے پی میں معاملات کو سنبھالے اور الیکشن کے پروسس کو ریگولیٹ کرے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر صدر یہ ریفرنس بھیج دیتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ ہم سپریم کورٹ جا ر ہے ہیں جہاں ہم استدعا کریں گے کہ 23 اپریل سے پنجاب کو ایڈمنسٹریٹر کے حوالے کیا جائے، نگران حکومت کو گھر بھیج دیا جائے، کیونکہ وہ اپنی مدت کے بعد غیر آئینی ہوجائے گی۔

خیال رہے کہ فواد چوہدری نے عارف علوی کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نگران حکومتوں کے قیام کا مقصد 90 روز میں انتخابات کرانا تھا جس میں یہ ناکام ہو چکی ہیں لہٰذا معاملہ سپریم کورٹ کو بھجوایا جائے۔خط میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن کی جانب سے دستور سے انحراف کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب اور پختونخوا میں اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد دونوں صوبوں میں نگران حکومتیں قائم کی گئیں، دستور نگران حکومتوں کو صاف اور شفاف انتخابات کے انعقاد کا واحد فرض سونپتا ہے اور اس کے لیے 90 روز کی مہلت دیتا ہے۔ نگران حکومتیں ایک طرح سے الیکشن کمیشن آف پاکستان ہی کی توسیع ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دستور نگران حکومتوں کو اہم پالیسی فیصلہ سازی سے روک کر روزمرہ کے امور کی انجام دہی تک محدود کرتا ہے لیکن پی ڈی ایم حکومت اور الیکشن کمیشن کے غیرآئینی اور غیرقانونی اقدامات کے باعث انتخابات کے حوالے سے دستور کی طے شدہ مدت گزر گئی۔انہوں نے لکھا ہے کہ پنجاب اور پختونخوا میں دونوں نگران حکومتیں اپنی آئینی مدت پوری کرچکی ہیں۔ دستور نگران حکومتوں کی مدتِ کار میں توسیع کی اجازت نہیں دیتا۔ الیکشن کمیشن تمام قوانین اور معقولیت کے تمام معیارات کو روندتے ہوئے ان نگرانوں کو دونوں صوبوں پر مسلط کئے ہوئے ہے۔انہوں نے صدرِ مملکت سے استدعا کی ہے کہ آئین سے اس سنگین انحراف کا نوٹس لیں۔فواد چوہدری نے مطالبہ کیا ہے کہ صدرِ مملکت مشاورتی (ایڈوائزری) دائرہ اختیار کے تحت معاملہ عدالتِ عظمیٰ کو بھجوائیں۔انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ سے استدعا کی جائے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی نگران حکومتیں الیکشن کروانے کے اپنے مینڈیٹ کو پورا کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں اس لیے انتظامی معاملات کو چلانے کے لیے طریقہ کار واضح کیا جائے۔

Back to top button