نیازی نے 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملے کا منصوبہ کیسے بنایا؟

پی ٹی آئی قیادت سانحہ 9 مئی میں ہونے والی شرپسندانہ کارروائیوں کی ماسٹر مائنڈ نکلی۔ریاستی اداروں اور سرکاری املاک پر دھاوے کا منصوبہ عمران خان کی گرفتاری سے قبل بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق سانحہ نومئی کو ریاستی اداروں اور سرکاری املاک پر حملے اور جلاو گھیراو ، سوچی سمجھی شر پسندانہ سازش نکلے۔۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی انکوائری رپورٹ نے ابتدائی رپورٹ کی تائیدو توثیق کر دی ہے جس کے بعد اس رپورٹ کو ملکی اہم دستاویزات پر مبنی ریکارڈ کا باقاعدہ حصہ بنادیا گیا ہے۔ ابتدائی رپورٹ میں جس طرح سانحہ نومئی کوپہلے سے طے شدہ با قاعدہ منصوبہ بندی پر عملدرآمد قرار دیا گیا تھا، اب تفصیلی رپورٹ میں بھی اس کی تائید ہوگئی ہے۔

یادر ہے کہ یہ رپورٹ اس وقت منظر عام پر آئی ہے جب بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو عدت کے دوران نکاح کرنے کا جرم ثابت ہونے پر سات، سات برس قید اور پانچ پانچ لاکھ روپے کی سزا سنائی گئی ہے۔ جبکہ اس سے پہلے ان دونوں کو تو شہ خانہ کیس میں بھی قید اور جرمانے کی سزاسنائی گئی اور اس سےکچھ پہلے ہی قبل عمران خان اور مخدوم شاہ محمود کو سائفر کیس میں بھی سزاسنائی گئی تھی۔

محکمہ داخلہ کی اس رپورٹ کے مطابق عمران خان کی گرفتاری کی صورت میں ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے اور حملے کرنے کا منصوبہ پارٹی قیادت ہی کے کہنے پر بنایا گیا تھا اور یہ نومٹی سے پہلے ہی تیار کر لیا گیا تھا جوریاست کے خلاف اعلان جنگ تھا۔ رپورٹ کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی طرز پر کیے جانے والے ان حملوں کیلئے پارٹی قیادت کے فون اور سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو اکسایا گیا اور پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کے کہنے پر ریاستی اداروں پر حملے کے منصوبے پر عملدرآمد کیا گیا۔ جبکہ اس کی منصوبہ بندی لال حویلی میں ہوئی تھی جس کی تصدیق وعدہ معاف گواہ بننے والے پنجاب اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر واثق قیوم اور صداقت عباسی نے اپنے بیانات میں بھی کر دی ہے۔ اس پلاننگ کے تحت جی ایچ کیو، آئی ایس آئی کے دفاتر اور انسٹالیشنز کو ٹارگٹ چنا گیا تھا۔ اس پر عملدرآمد کرتے ہوئے کارکنوں کو اکسانے اور رہنمائی کرنے میں کئی پارٹی رہنما خاص طور پر حماد اظہر، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، غلام محی الدین، علی عباس، عندلیب عباس، میاں محمود الرشید، عمر سرفراز چیمہ، مراد راس، منصب اعوان اور اعظم خان نیازی وغیرہ پیش پیش رہے اور پی ٹی آئی شر پسندوں کو لیڈ بھی کرتے رہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سانحہ نومٹی سے پہلے ہی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے زمان پارک میں غیر ملکیوں اور مبینہ دہشت گردوں کی موجودگی کی نشاندہی کر دی گئی تھی۔ ان مسلح افراد میں سے زیادہ ترکو وانا اور ملحقہ علاقوں سے لایا گیا تھا۔ جبکہ زمان پارک میں خیمہ بستی بھی بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کی صورت میں بھر پور مزاحمت کیلئے بسائی گئی تھی۔ اور یہ شر پسندی مختلف اوقات میں سامنے آتی رہی جس میں متعدد پولیس اہلکار شدید زخمی بھی ہوئے تھے۔ نومئی سے قبل زمان پارک میں ایکس سروس مین کے ایکس سینئر گروپ کی طرف سے بانی پی ٹی آئی سے یکجہتی کیلئے پریس کانفرنس میں بھی کارکنوں کو یہ کہ کر اکسایا گیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کا موقف درست ہے اور لوگوں کو عسکری ادارے کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیئے۔ سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اس پریس کا نفرنس کی رپورٹنگ کے بعد اس پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا اور خاص طور پر نوٹ بھی کیا گیا تھا۔ تاہم یہ اندازہ نہیں تھا کہ در حقیقت کس سخت ترین منصوبہ بندی کیلئے اکسایا جا رہا ہے اور ایسا ہو بھی سکے گا ؟ ذرائع کے مطابق زمان پارک میں عمران خان کی گرفتاری کیلئے مختلف مواقع پر ہونے والے آپریشن کی جس طرح مزاحمت کی جاتی رہی اس دوران وہاں کی تمام سرگرمیاں لمحہ بالمحہ رپورٹ کی جارہی تھیں اور ان میں عسکری اداروں اور اہلکاروں پر حملوں کے خدشات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا تھا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے ایک سینئر کارکن کا کہنا ہے کہ نومئی کا واقعہ اگر چہ نہیں ہونا چاہئے تھا لیکن ہو گیا اور بہت بڑا ہوا۔ ملک کیلئے بھی اور پارٹی کیلئے بھی۔ یوں لگتا ہے کہ پارٹی کے اندر ایسے طاقتور قو تیں تھیں جو ایسا ہی کروانا چاہتی تھیں۔ ان کا بھی کسی وقت چہرہ سامنے آجائے گا۔ اب یہ ہے کہ متحرک کارکن پارٹی کی غلط حکمت عملی کی وجہ سے سائیڈ لائن ہوئے بیٹھے ہیں۔ جبکہ طوطے چوری کھانے کے بعد دوسری ڈالیوں پر جا بیٹھے ہیں اور مشکلات عام کارکن جھیل رہا ہے۔خیال رہے کہ محکمہ داخلہ پنجاب نے سانحہ 9مئی کی مفصل رپورٹ حکومت پنجاب کو جمع کرادی،قائمہ کمیٹی برائے لا اینڈ آرڈر نے سانحہ نو مئی رپورٹ کی توثیق کردی ہے،رپورٹ کو قوانین کے مطابق اب سرکاری دستاویزات کا باقاعدہ حصہ بنادیا گیا ہے،رپورٹ میں سانحہ نو مئی کو ریاست کے خلاف جنگ قرار دیا گیاہے۔

 17صفات پر مشتمل اس رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ بانی پی آٹی آئی کی گرفتاری پر جامع منصوبہ بندی کے ساتھ ریاست پر حملہ کیا گیا،رپورٹ میں 9مئی کے حملے کو تحریک طالبان پاکستان کی طرز پر حملے سے تشبیح دی گئی، رپورٹ میں بتایا گیا کہ تمام شواہد کے مطابق 9مئی کا منصوبہ پہلے سے مربوط شدہ تھااور پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کے کہنے پر ریاستی اداروں پر حملہ کیا گیا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ قیادت کا ایجنڈا صرف ریاستی اداروں پر حملہ تھا اورفوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی پہلے سی ہی کی گئی تھی،پی ٹی آٗئی کے ورکرز نے جی ایچ کیو بلڈنگ، کورہیڈ کوارٹر، آئی ایس آئی کے دفاتر پر حملہ کیا اور ایئر بیس، شہدا کی یادگار اور اس سے منسلک عمارتوں پر حملہ کیا گیاجبکہ جی ایچ کیو، آئی ایس آئی کے دفاتر اورانسٹالیشن پر حملہ پلان کا حصہ تھا،رپورٹ میں سانحہ 9مئی کا ذمہ دارا مرکزی قیادت کو ٹھہرایا گیا ہےجبکہ مرکزی قیادت کے ساتھ ساتھ مقامی قیادت بھی شامل تھی۔ رپورٹ کے مطابق پارٹی قیادت کے فون، اور سوشل میڈیا کے ذرئیعے لوگوں کو اکسایا گیا۔رپورٹ کے مطابق حماد اظہر ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، غلام مہیدین علی عباس، عندلیب عباس، میاں محمودالرشید،عمرسرفراز چیمہ،مراد راس، منصب اعوان، اعظم خان نیازی اور بجاش نیازی کے خلاف واضع ثبوت ہیں کہ وہ لوگوں کو ٹیلی فونز کے زریعے حملوں کے لیےاکسا رہے تھے۔۔رپورٹ میں سوشل میڈیا کے ذرئعے لوگوں کو اکسانے کا بھی ذکر کیا گیا۔رپورٹ میں سانحہ نو مئی کو ہونے والے نقصانات کا بھی ذکرکیا گیا۔ جس میں سرکاری گاڑیوں کے ساتھ پرائیوٹ وہیکلز اور سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ رپورٹ میں لاہو کینٹ میں واقع جناح ہاوس پر پی ٹی آئی کے ورکرز نے حملہ کرکے ایک ارب پچاس کروڑ کا نقصان پہنچایا ہے۔

دوسری جانب بانی پی ٹی آئی عمران خان اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے خلاف 9 مئی کے مقدمات میں پی ٹی آئی کے سابق اسپیکر پنجاب اسمبلی اور سابق رکن قومی اسمبلی وعدہ معاف گواہ بن گئے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ سابق اسپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم، سابق ممبر قومی اسمبلی صداقت عباسی اور عمر تنویر بٹ وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق صداقت عباسی، واثق قیوم اور عمر تنویر بٹ نے عدالت میں 154 کا بیان ریکارڈ کرا دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 53 میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار اجمل صابر بھی شیخ رشید کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں۔اجمل صابر نے اپنے بیان میں بتایا کہ شیخ رشید نے 6 مئی کو لال حویلی میں اجلاس بلایا تھا جہاں 9 مئی کے واقعات کی پلاننگ کی گئی تھی۔گواہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ 9 مئی کے واقعات کی پلاننگ شیخ رشید، راجہ بشارت، راشد شفیق، اعجاز خان، راشد حفیظ اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ایماء پر کی گئی۔

Back to top button