نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے تحت ایک بھی گھر نہ بن سکا
کپتان سرکار کی جانب سے غریب عوام کو 50 لاکھ گھر فراہم کرنے کے بلند و بانگ دعوؤں کے ساتھ شروع کی جانے والی نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم مکمل طور ناکام ہو گئی ہے کیونکہ تین برس گزر جانے کے باوجود اب تک ملک کے کسی بھی شہر میں ایک بھی گھر تعمیر نہیں کیا جا سکا۔ نیفڈا کہلانے والی نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تحت ابھی تک کسی بھی شہر میں ایک اینٹ بھی نہیں رکھی جا سکی حالانکہ 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے لیے ملک کے تمام بڑے شہروں میں غریب اور نادار لوگوں کے لیے مکانات اور فلیٹس بنانے کا اعلان کیا گیا تھا۔
روزنامہ جنگ کی تحقیقیاتی رپورٹ کے مطابق نیفڈا کے ترجمان نے رابطہ کرنے پر دعوی کیا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے تحت اب تک 20 ہزار گھر بنائے جا چکے ہیں جبکہ 45 ہزار گھر زیر تعمیر ہیں۔ تاہم جب اس دعوے کی تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ نیفڈا کا یہ دعوی جھوٹا ہے اور درحقیقت اس سکیم کے تحت ملک بھر میں اب تک ایک بھی گھر نہیں بنایا جا سکا۔ جب نیفڈا کے ترجمان سے پہلی مرتبہ رابطہ کیا گیا تو انکا کہنا تھا کہ انکے محکمے کے تحت تین میگا پراجیکٹس چل رہے ہیں جن میں ایک لاہور، ایک اسلام آباد اور ایک سرگودھا میں چل رہا ہے۔ تاہم تحقیقات کرنے پر مختلف سرکاری اداروں سے معلوم ہوا کہ نیفڈا آج تک ایک بھی فلیٹ تعمیر کرنے میں ناکام رہا ہے۔ نیفڈا کے ترجمان عاصم شوکت نے فرش ٹاؤن اسلام آباد کے کنسٹرکشن پراجیکٹ کو اپنے اہم منصوبوں میں سے ایک قرار دیا جس کا گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے دورہ بھی کیا تھا۔ دوسری جانب اسلام آباد کی کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایک الگ کہانی سناتی ہے اور اسکا دعوی ہے کہ فرش ٹاؤن میں ہونے والی تعمیرات کا نیفڈا کا ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
جب اس دعوے کی روشنی میں دوبارہ نیفڈا ترجمان کے ساتھ رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ نیفڈا ہاوسنگ سکیم کے کھاتے میں دے مختلف سرکاری اداروں جیسے کہ اسلام آباد میں سی ڈی اے اور لاہور میں ایل ڈی اے کو سبسڈی فراہم کر رہا ہے اور خود مختار فلاحی فاؤنڈیشنز جیسے اخوت اور ورکرز ویلفیئر فنڈ (WWF) کو بھی اس معاملے میں شامل کیا گیا ہے۔ نیفڈا ترجمان عاصم شوکت نے یہ دعوی بھی کیا کہ نیفڈا نے پاکستان بھر میں غریب لوگوں کے لیے اب تک 20 ہزار گھر بنائے ہیں جب کہ 45000 سے زیادہ گھر پہلے ہی زیر تعمیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ گھر اخوت فاؤنڈیشن اور ڈبلیو ڈبلیو ایف کی نیفڈا کے ساتھ مشترکا کوششوں سے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب اخوت فاونڈیشن کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ غریبوں کے لیے مکانات کی تعمیر سے متعلق تمام کام صرف ان کی فاؤنڈیشن کر رہی ہے جس میں نیفڈا کا کوئی کردار نہیں ہے۔ اسلام آباد میں وزارت ہاؤسنگ سے متعلقہ سینئر افسران نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فرش ٹاؤن میں فلیٹس اور اپارٹمنٹس کی تعمیر کے لیے نیفڈا کی جانب سے ایک روپے کی بھی فنڈنگ نہیں کی گئی اور نہ ہے سبسڈی دی گئی ہے۔
جب نیفڈا کے ترجمان عاصم شوکت سے رابطہ کیا گیس اور انہیں بتایا کہ اسلام آباد انتظامیہ اور اخوت فاؤنڈیشن والے انکے دعوے کی تردید کر رہے ہیں تو انہوں نے اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ نیفڈا صرف ایک چھتری کے طور پر کام کر رہا ہے جو ان تمام منصوبوں کی نگرانی کر رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ صرف غریب لوگوں کو پناہ گاہوں اور مکانات سے نوازنے کے ذمہ دار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا ماڈل مشک کلیم اپنے ہونے والے شوہر کو سب بتا دیں گی؟
تاہم دوسری جانب یہ ایک حقیقت ہے کہ حکومت کا 50 لاکھ گھر بنانے کے دعوے تو کئے چلے جا رہی ہے لیکن عملی طور پر اس حوالے سے ابھی تک کچھ بھی نہیں کیا جا سکا۔ لاہور، اسلام آباد اور سرگودھا میں نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کے تحت نیفڈا کے منصوبوں کا اعلان ہوئے ایک سال سے زائد ہو گیا۔ ان منصوبوں کی افتتاحی تقریب میں وزیر اعظم عمران خان نے خود شرکت کی لیکن ان کی تعمیر کے لیے ابھی تک ایک بھی اینٹ نہیں رکھی گئی۔
