نیب چیئرمین پر مشاورت ہوگی یا نہیں، حتمی فیصلہ کیا ہے؟

کپتان حکومت نے بظاہر اپنے پرانے موقف پر یو ٹرن لیتے ہوئے اب نیب چیئرمین کی تقرری کے حوالے سے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے ساتھ مشاورت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے پہلے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا یہ اصولی موقف تھا کہ دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے، لیکن وزیراعظم کسی بھی صورت نیب کے ملزم شہباز شریف کے ساتھ چیئرمین کی تعیناتی پر مشورہ نہیں کریں گے کیونکہ ایسا کرنا چور کی مرضی کا کوتوال لگانے کے مترادف ہو گا۔ فواد چوہدری نے یہ موقف 5 اکتوبر کے روز دوبارہ ایک پریس کانفرنس میں دہرایا لیکن وہ شاید نہیں جانتے تھے کہ دوسری جانب وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم اسی وقت اسکے برعکس یہ اعلان کر رہے تھے کہ نیب چیئرمین کی تعیناتی وزیراعظم اب اپوزیشن لیڈر کے مشورے سے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے یہ تجویز دی گئی تھی کہ شہباز سے مشاورت نہیں کی جانی چاہیے لیکن ہماری حکومت نے محسوس کیا کہ اگر انہیں مشاورت کی اجازت نہ دی گئی تو اپوزیشن اسے یک طرفہ فیصلہ قرار دے گی۔ فروغ نسیم نے کہا کہ نئے آرڈیننس کے تحت ٹرائل کورٹس کو ضمانت دینے یا مسترد کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔
اس سے پہلے وزیر قانون کی سربراہی میں ایک اجلاس ہوا جس میں موجودہ چیئرمین کو ایک آرڈیننس کے ذریعے نئے چیئرمین کی تعیناتی تک کام جاری رکھنے کی اجازت دینے کے لیے قومی احتساب آرڈیننس 1999 میں ترامیم پر غور کیا گیا۔ ادھر فواد چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ نے اپوزیشن سے کہا ہے کہ وہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو تبدیل کرے کیونکہ وہ متعدد بدعنوانی کے مقدمات میں ملوث ہیں تاکہ کوئی نیا قائد حزب اختلاف وزیراعظم کے ساتھ مشاورت کر سکے اور آئینی شرط پوری کی جاسکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ اپوزیشن لیڈر کو تبدیل کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو نئے چیئرمین کی تقرری کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیجا جائے گا جو ایوان کے دونوں اطراف کے اراکین اسمبلی پر مشتمل ہو گی۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ ’یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی چور اپنا تفتیشی افسر منتخب کرے‘۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم واضح ہیں کہ ہم نیب کے چیئرمین کے تقرر پرشہباز شریف سے مشورہ نہیں کریں گے اور کل ہم ایک آرڈیننس متعارف کرائیں گے جس سے حکومت کی یہ رکاوٹ دور ہو جائے گی۔
دوسری جانب نیب کے سابق پراسیکیوٹر جنرل عرفان قادر نے کہا کہ قومی احتساب آرڈیننس کے تحت چیئرمین اور پراسیکیوٹر جنرل احتساب کو ان کی مدت ختم ہونے پر کوئی توسیع نہیں دی جا سکتی اور انہیں سپریم کورٹ کے ججز کی برطرفی کی بنیاد پر ان کے عہدوں سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن اس صورت میں بھی چیئرمین نیب اور پی جی اے کے مقدمات سپریم جوڈیشل کونسل کو نہیں بھیجے جا سکتے، وہ فورم جو ججز کو ہٹانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ عرفان قادر نے بتایا کہ ان کے عہدے کی 3 سالہ مدت 2006 میں مکمل ہوگئی تھی اور اگلے پراسیکیوٹر جنرل دانشور ملک کے بعد انہیں دوبارہ پراسیکیوٹر جنرل احتساب تعینات کیا گیا تھا جسے سپریم کورٹ نے ’توسیع‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔ لہذا قانون کو گھما پھرا کر جاوید اقبال کو دی گئی کوئی بھی توسیع غیرآئینی ہوگی اور عدالت اسے مسترد کر دے گی۔
خیال رہے کہ چیئرمین نیب ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال کی چار سالہ مدت رواں ماہ کے دوسرے ہفتے میں ختم ہونے والی ہے، انہوں نے 10 اکتوبر 2017 کو عہدہ سنبھالا تھا۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی قیادت میں تب کی مسلم لیگ (ن) کی حکومت اور اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کے اتفاق رائے کے بعد جسٹس (ر) اقبال کو چیئرمین نیب مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم یہ اور بات کہ وہ بعد میں اسٹیبلشمنٹ کی کٹھ پتلی بن گئے۔
