نیب کی اشتہاری مہم کا حصہ بننے پر مہوش کو رگڑا

اداکارہ مہوش حیات سوشل میڈیا پر کرپشن کیخلاف نیب جیسے متنازعہ ادارے کی اشتہاری مہم کا حصہ بننے پر تنقید کی زد میں آ گئی ہیں اور ان پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے بھاری معاوضہ لیکر نیب کے حق میں عوام کے نام ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔
ناقدین کے مطابق قومی احتساب بیورو کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ اسے فوجی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کاروائیوں کے لیے استعمال کرتی ہے لہٰذا مہوش حیات کا نیب کے حق میں ویڈیو پیغام تنقید کی زد میں ہے۔ اپنے پیغام میں اداکارہ نے کہا تھا کہ میں پاکستان کو کرپشن فری بنانے میں قومی احتساب بیورو کی کاوشوں کو نہ صرف سراہتی ہوں بلکہ اُمید ظاہر کرتی ہوں کہ نیب قانون کے مطابق پاکستان کو کرپشن فری بنانے کے لیے اپنی کاوشوں کو جاری رکھے گا تاکہ ہمارا ملک ترقی کرسکے۔ یہ ویڈیو مہوش حیات کے اپنے اکاؤنٹ سے شیئر نہیں کی گئی بلکہ بلال پنوں نامی ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری کی گئی جو خود کو قومی احتساب بیورو کا ایک افسر بتاتے ہیں۔ لہذا یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ مہوش حیات نے یہ ویڈیو بھاری معاوضے کے عوض ریکارڈ کروائی حالانکہ نیب اب اپنی ساکھ کھو چکا ہے اور ایک متنازع ادارہ بن چکا ہے جس کی تصدیق سپریم کورٹ آف پاکستان کے کئی حالیہ فیصلوں سے بھی ہوتی ہے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب نے مہوش حیات سمیت کئی سلیبریٹیز سے رابطہ کیا تھا اور ان سے کرپشن کے خلاف لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کی درخواست کی تھی۔ تاہم ان کی اس ویڈیو کا الٹا رد عمل ہوا ہے اور لوگ مہوش حیات کو نیب جیسے متنازع سیاسی ادارے کی برانڈ ایمبیسیڈر بننے پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ ویڈیو معروف پاکستانی صحافی سید طلعت حسین نے بھی شیئر کی ہے جس کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے صارف احمد ولید نے لکھا کہ مہوش حیات بھی کرپشن کے خلاف نیب کے ہم قدم۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے مہتاب احمد نامی صارف نے تجویز دی کے اگر مہوش حیات قومی احتساب بیورو کی کارکردگی سے اتنی خوش ہیں تو ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ جسٹس جاوید اقبال اکتوبر میں ریٹائر ہو رہے ہیں لہذا انہیں اگلا نیب چئیرمین بننے کے لئے کوشش شروع کردینی چاہیے۔ صارف کا کہنا تھا کم از کم اتنا تو ہوگا کہ سیاسی مخالفین کو جب احتساب کے لیے نیب کے دفتر لایا جائے گا تو ان کے ساتھ مہوش حیات وہ سلوک تو نہیں کریں گی جو جسٹس جاوید اقبال کے دور میں کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر کچھ صارفین یہ بھی پوچھتے نظر آئے کہ مہوش نے اس ’اشتہار‘ میں کام کرنے کے کتنے پیسے لیے ہیں؟ لیکن مہوش حیات کی جانب سے اس سوال کا اب تک کوئی جواب نہیں آیا ہے۔
مہوش حیات کی ویڈیو پر رائے دیتے ہوئے سارہ نے کہا کہ وہ اصل میں کرپشن کے خلاف پیغام نہیں دے رہیں بلکہ سیاست میں انٹری کا اعلان کر رہی ہیں، ہمیں یہ دن بھی دیکھنا تھا۔ نیب پہلے اپنا احتساب تو کرلے پھر وہ مہوش کو آگے لگا کر احتساب کا لیکچر بھی دلوا دے۔ حسن نامی صارف نے کہا کہ اگر مہوش حیات اور نیب میں اتنی ہم آہنگی ہے تو میری چیئرمین نیب سے درخواست ہے کہ وہ اداکارہ کو چائے پر بلائیں۔ نسیم خان نے ٹوئیٹ کی کہ مہوش حیات کرپشن کیخلاف نیب سے تعاون کا بیان دے رہی ہیں حالانکہ ان کو خود بھی نیب کا مطلب پتہ نہیں ہوگا، یہ صرف دکھاوے کا ویڈیو پیغام ہے۔
یاد رہے کہ تمغہ امتیاز لینے والی مہوش حیات نہ صرف سیاست میں دلچسپی رکھتی ہیں بلکہ اپنے ایک انٹرویو میں وہ عملی سیاست میں آنے کا اشارہ بھی دے چکی ہیں۔ ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ سیاست میں آنے کا ارادہ تو رکھتی ہیں لیکن یہ نہیں پتا کہ اپنی جماعت بنائیں گی یا کسی موجودہ جماعت کا حصہ بنیں گی۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر ایک کرکٹر وزیراعظم بن سکتا ہے تو ایک اداکارہ اس عہدے پر کیوں فائز نہیں ہو سکتی۔
