نیٹ فلکس اور ایمازون پر پاکستانی ڈرامے اور فلمیں کیوں نہیں؟


کیا آپ کو وہ دور یاد ہے جب کیبل یا ڈش ٹی وی کا وجود نہیں ہوتا تھا اور پورے ملک میں صرف پاکستان ٹیلی ویژن پر چلنے والے ڈراموں کا سحر طاری رہتا تھا۔ ’وارث‘ جیسے ڈرامے شروع ہوتے ہی سڑکیں سنسان ہو جایا کرتی تھیں۔ اس دور کے ڈراموں کے ڈائیلاگ، کہانی اور کردار لوگوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیا کرتے تھے۔ تب پاکستان میں چینل بھی صرف ایک تھا اور اس پر دن بھر میں ڈرامہ بھی صرف ایک ہی چلتا تھا۔ آج پاکستان میں درجن بھر انٹرٹینمنٹ چینلز ہیں جن پر چلنے والے روزانہ کے ڈراموں کی تعداد بیس سے تیس ہے۔ تاہم یہ ڈرامے پی ٹی وی دور کے ڈراموں کے معیار تک پہنچنے میں مکمل ناکام نظر آتے ہیں۔
شاید اسی وجہ سے ناظرین پاکستانی ڈرامے چھوڑ کر نیٹ فلکس اور ایمازون پرائم جیسے ویب پلیٹ فارمز پر شفٹ ہو رہے ہیں اور وہاں چلنے والی فلموں اور ڈراموں کو زیادہ شوق سے دیکھنے لگے ہیں۔ اسی لیے سال 2021 میں پاکستانیوں نے جس سیریز کو گوگل پر سب سے زیادہ سرچ کیا وہ کوئی پاکستان ڈرامہ یا فلم نہیں بلکہ جنوبی کوریا میں بننے والی نیٹ فلکس کی سیریز ‘سکویڈ گیم’ تھی۔ کوئی پاکستانی اگر نیٹ فلکس یا ایمازون پرائم کا رُخ کرے تو اسے دنیا جہاں کے ڈرامے اور فلمیں مل جاتے ہیں۔ بس ویرانی ہے تو پاکستان کے خانے میں۔ جو کچھ ہے وہ یا تو پرانا ہے یا اوریجنل کونٹینٹ نہیں۔
نیک فلکس پر پاکستانی چینل ہم ٹی وی کے چند اچھے ڈرامے موجود ہیں لیکن یہاں نیٹ فلکس کی جانب سے بنایا گیا کوئی پاکستانی ڈرامہ یا فلم فہرست میں شامل نہیں۔ جس پر ذہن میں یہ سوال تو اٹھتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے ڈراموں اور فلموں کا اچھا ہونا محض اس بات سے ثابت نہیں ہوتا کہ وہ نیٹ فلکس یا ایمازون پر سٹریم کے لیے دستیاب ہیں۔ مشہور ہدایتکار اور ہم ٹی وی کی بانی سلطانہ صدیقی کا کہنا ہے کہ پاکستانی ڈرامے نیٹ فلکس پر موجود مواد کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’نیٹ فلکس پر ’زندگی گلزار ہے‘ کو بے حد پسند کیا گیا۔ جس کا مطلب ہے کہ ہمارے ڈراموں کو بھی لوگ شوق سے دیکھتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ٹی وی پر آج کل چلنے والے ڈرامے جیسا کہ ’پری زاد‘ اور ’ہم کہاں کے سچے تھے‘ بھی اگر نیٹ فلکس پر ہوں تو لوگ انھیں بہت پسند کریں گے۔‘
لیکن سلطانہ صدیقی کی رائے میں نیٹ فلکس جیسے بڑے پلیٹ فارمز کی جانب سے پاکستانی مواد نہ بنانے کے پیچھے کچھ اور وجوہات ہیں۔ ’ان کو لگتا ہے کہ شاید ہم بولڈ یا بے باک ڈرامے نہیں بنا سکتے، لیکن مسئلہ ہمارے اوپر عائد پابندیوں کا ہے۔ ہم نے بچوں کے ساتھ جنسی زیاتی کے موضوع پر ’اُڈاری‘ بنایا جسے پوری دنیا میں بہت سراہا گیا لیکن مجھے پیمرا کی جانب سے خط آ گیا۔ ہم مقابلے کی بات انڈیا کے ڈراموں اور فلموں سے کرتے ہیں لیکن ہمارے پاس ان جیسی آزادی نہیں۔‘
اداکارہ ثروت گیلانی نے نہ صرف ٹی وی ڈراموں میں کام کیا بلکہ وہ حال ہی میں انڈین او ٹی ٹی پلیٹ فارم زی فائیو کی مشہور پاکستانی ویب سیریز ’چڑیلز‘ میں مرکزی کردار میں نظر آئیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ ’ویب سیریز میں اداکار، ہدایتکار اور مصنف کے پاس زیادہ آزادی ہوتی ہے۔‘ ’آپ ویب سیریز میں ان موضوعات ہر بھی بات کر سکتے ہیں جس پر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایکٹر کے پاس بھی اداکاری کے لیے زیادہ آزادی ہوتی ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بہت دیر سے خیال آیا کہ اس کا مواد بھی نیٹ فلکس جیسے پلیٹ فارمز پر ہونا چاہیے۔ ’بہت سے پاکستانی اداکار، ہدایتکار اور دیگر لوگ ان پروڈکشنز کا حصہ ہیں، اگرچہ یہ مواد پاکستانی نہیں۔‘ ’انڈیا اس لحاظ سے ہم سے بہت آگے ہے۔ انھوں نے صحیح وقت میں اپنا مواد ایسی جگہ پہنچانا شروع کردیا جہاں دنیا بھر کے زیادہ سے زیادہ لوگ اسے دیکھیں۔ لیکن پاکستان بھی اب اس پر کام کر رہا ہے۔ اور پاکستان اچھی ویب سیریز بنا رہا ہے۔‘
انور مقصود نے کئی دہائیوں تک سخت سیاسی اور معاشرتی حقیقتوں کو مزاح کا تڑکا لگا کر عوام کو پیش کیا اور خوب داد وصول کی۔ مگر ان کا قلم اب پچھلے کافی عرصے سے خاموش ہے۔ وہ اپنے روایتی انداز میں کہتے ہیں کہ ’ملک میں اتنے ڈرامے ہو رہے ہیں تو مجھے ڈرامے لکھنے کی کیا ضرورت ہے۔‘ انور مقصود سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں ڈرامے کے گرتے معیار کی وجہ چینلز اور ڈراموں کی بھرمار ہے۔
’اتنے ڈراموں کے لیے اتنے اداکار کہاں سے آئیں گے۔ آپ جب چینل بدلتے ہیں تو لگتا ہے کہ ایک ہی ڈرامہ پر چینل پر چل رہا ہے۔ سب میں اداکار ایک ہیں، یہاں تک کے بستروں پر بیچھی بیڈشیٹ بھی کئی بار ایک ہی ہوتی ہے۔‘ انور مقصود کے مطابق پاکستان میں بہت سے اداکار اور ہدایتکار بہت اچھا کام بھی کر رہے ہیں۔ ’مسئلہ اچھے سکرپٹ کا ہے۔ اچھے مکالمے کا ہے۔ آج کل جو گفتگو گھروں پر موبائل پر ہوتی ہے، اسی کو سکرپٹ میں ڈائیلاگ کے طور پر سکرپٹ میں لکھ دیا جاتا ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ڈرامہ آپ کے ملک کے حالات کا عکاس ہوتا ہے۔ ’جیسے حالات ہمارے ملک کے ہیں ویسے ہی حالات ہمارے ڈراموں کے ہیں۔‘
لیکن انٹرٹینمنٹ کی صحافت سے وابستہ مدیحہ سعید کا کہنا ہے کہ نیٹ فلکس پر پاکستانی مواد نہ ہونے کے پیچھے کچھ اور بھی وجوہات ہیں۔ ’اگر آپ کوئی بھی پاکستانی ڈرامہ یا فلم اٹھائیں اور نیٹ فلکس کی بنائی ہوئی کوئی سیریز دیکھیں تو فرق صاف ظاہر ہوگا۔ مسئلہ صرف اچھی کہانی یا اداکاری کا نہیں ہے۔ تکنیکی مسائل جیسا کہ آواز اور ویڈیو کے معیار کے بھی کچھ مسائل ہیں۔‘ مدیحہ کے مطابق اس کے علاوہ ایک اہم وجہ پاکستانی مارکیٹ بھی ہے۔ ’آج بھی زیادہ تر پاکستانی ٹی وی پر ہی ڈرامے دیکھتے ہیں اور نیٹ فلکس پر مواد دیکھنے والے پاکستانیوں کی تعداد باقی دنیا سے بہت کم ہے۔ نیٹ فلکس کے دنیا بھر میں صارفین 180 ملین کے قریب ہیں جبکہ پاکستان میں ان کی تعداد صرف ایک لاکھ ہے۔ لوگوں کی سمارٹ فون اور انٹرنیٹ تک رسائی کے لحاظ سے پاکستان کا شمار ایشیا پیسفک ممالک میں آخری دو ملکوں میں ہوتا ہے۔ اس لیے ہم نیٹ فلکس کے لیے اتنی بڑی مارکیٹ نہیں ہیں جتنا انڈیا یا کوریا۔‘ مدیحہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نیٹ فلکس کے اتنے کم صارفین ہونے کے باوجود نیٹ فلکس یہاں سے 1.6 بلین روپے کا معاوضہ کماتا ہے، اس لیے اگر پاکستان اپنے مواد کا معیاد بہتر بنائے تو اس کے پاس ان پیٹ فارمز تک رسائی کا موقع بڑھ جائے گا۔

Back to top button