پاکستان کے رہائشی بنگالی اور بہاری خوار کیوں ہو گئے؟

سقوط ڈھاکہ کے بعد بنگالیوں اور بہاریوں کی بڑی تعداد کا بنگلہ دیش جانے کی بجائے اپنی بقیہ زندگی پاکستان میں ہی گزارنے کا فیصلہ کیا اب غلط ثابت ہو رہا ہے جس کی بنیادی وجہ انکے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں کی طرح کیا جانے والا سلوک ہے۔
یاد رہے کہ بلا تفریق مساوی حقوق کے نعرے پر بننے والی ریاست پاکستان میں بنگالیوں اور بہاریوں کو ’’ایلین قانون‘‘ کے تحت عارضی حقوق دیے جاتے ہیں۔ شہر کراچی میں بنگالیوں اور بہاریوں کی ایک بڑی تعداد 1971 کے بعد سے رہائش پذیر ہے، جو ملکی ترقی میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کو شناخت کے مسائل کا سامنا ہے، دوسرے لفظوں میں بنگالی یا بہاری ہونا ان کے لیے ایک گالی بن چکا ہے۔
کراچی کے علاقے لانڈھی کے بنگالی پاڑے میں مقیم عالم احمد اور ان کی بیٹی کا شناختی کارڈ 2016 سے بلاک ہو چکا ہے۔ عالم احمد نادرا کے دفتر کے چکر کاٹ کاٹ کر اب مایوس ہو چکے ہیں، 1971 کی جنگ کے بعد ریڈ کراس کے ذریعے پاکستان آنے والے 65 سالہ دلشاد عزیز کا وطن ہی نہیں خاندان بھی دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا، اسی طرح دلشاد عزیز بہاری ہیں اور ان کے والد، ایک بھائی اور دو بہنیں بنگلہ دیش میں ہی رہ گئے اور واپس نہ آ سکے۔ خاندان کے بٹ جانے کا دُکھ آج بھی دلشاد عزیز کے دل میں تازہ ہے، وہ 1984 سے لانڈھی میں رہائش پذیر ہیں اور اب ان کے بچے جو پاکستان میں پیدا ہوئے، لہکن وہ اب تک شناختی کارڈ حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں۔
محمد فیروز علی 1974 میں پاکستان تو آ گئے لیکن یہاں انہیں کئی برس تک پاکستانی شہری تسلیم نہیں کیا گیا، نہ تو سرکاری ملازمت پر بحال کیا گیا اور نہ ہی پینشن دی گئی، فیروز علی کو کئی برس کی کوششوں کے بعد قومی شناختی کارڈ تو مل گیا لیکن ان کے بھائی اب بھی اس سے محروم ہیں۔
اسی طرح محمد یوسف کا خاندان 1968 سے پاکستان میں آباد ہے۔ وہ لانڈھی میں پان کی دکان چلاتے ہیں لیکن شناخت کے بحران نے ان کے بچوں سمیت ہر اس بنگالی نوجوان سے جینے کا حق چھین رکھا ہے جو دوسروں کو حاصل ہے، یوسف کے مطابق شناختی کارڈ نہ ہونے کے سبب بنگالی نوجوانوں کو پولیس اگر پکڑ لے تو مصیبت اور بھی بڑھ جاتی ہے، کیونکہ ان کے پاس شناختی کارڈ نہیں ہوتا۔
قاری شفیع اللہ بھی بنگالی ہیں اور کئی دہائیوں سے لانڈھی میں آباد ہیں۔ وہ 25 برسوں سے ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھا رہے ہیں۔ ان کا شناختی کارڈ پہلے با آسانی بن گیا تھا لیکن جب دوبارہ اجراء کا مرحلہ آیا تو ان سے ایسی دستاویزات طلب کر لی گئیں جو ان کے پاس نہیں تھیں۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کی اعلیٰ عدالت نے 2008 میں 1971 سے سابقہ مشرقی پاکستان کے کیمپوں میں آج بھی رہائش پذیر تین لاکھ بے وطن مہاجرین کو شہریت اور ووٹ کا حق دیا تھا۔ 2002 میں جب نادرا کا قیام عمل میں لایا گیا تب بھی ملک بھر میں پرانے شناختی کارڈ اور ب فارم پر کارڈ کا اجراء کر دیا گیا تھا لیکن نادرا کے جاری کردہ کارڈ کی مدت جب 10 برس بعد پوری ہوئی تو ایسے شہری جو بہاری اور بنگالی تھے، انہیں دوبارہ اجراء پر مسائل کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان سے مذید پرانی دستاویزات طلب کی گئیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ رکاوٹ اس لیے بھی آئی کہ 1980 کے دہائی میں سوویت یونین اور افغان جنگ کے بعد لاکھوں افغان مہاجرین کی پاکستان آمد ہوئی جنہوں نے غیر قانونی طریقے سے پاکستان کی شہریت حاصل کی اور شناختی کارڈ بنوا لیے، اس مسئلے کو دیکھتے ہوئے جانچ پڑتال کا عمل شروع ہوا جس میں افغان شہریوں کی وجہ سے بہاری اور بنگالیوں کے ساتھ بھی ناروا سلوک روا رکھا جانے لگا۔
واضح رہے کہ پاکستان میں ایک ‘ایلین رجسٹریشن’ قانون موجود ہے جس کی رو سے وہ غیر ملکی جو پاکستان میں 90 روز یا اس سے زائد کا قیام رکھنا چاہتے ہوں انہیں یہ کارڈ جاری کیا جاتا ہے، حکومتِ پاکستان کے پاس رجسٹرڈ ہونے اور ان کی اجازت سے ایسے شہری کو سفر، تعلیم، روزگار اور بینک اکاؤنٹ کھولنے کا اختیار حاصل ہو جاتا ہے۔ لیکن شہریت اور ووٹ کا حق ‘ایلین’ شہری کو حاصل نہیں، یہ کارڈ افغان، بہاری اور بنگالی شہریوں کو جاری ہوئے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ امریکہ، کینیڈا کی طرز کا ایسا قانون ہے جس میں ایسے تارکین وطن یا مہاجرین کے بچوں جو اس ملک میں پیدا ہوں، انہیں قانونی طور پر شہریت کے حقوق حاصل ہو جاتے ہیں، پاکستان کے اس قانون کو نادرا بھی تسلیم کرتا ہے۔
