موسم سرما میں گیس بحران مزید بڑھنے کیوں جارہا ہے؟


ملک میں جیسے جیسے سردی بڑھ رہی ہے، گیس بحران میں مزید شدت آ تی جا رہی ہے اور اب تو حکومتی ذرائع نے تصدیق کر دی ہے کہ جنوری کے مہینے میں یہ بحران شدید تر ہو جائے گا جس کے بعد گیس تقریبا ناپید ہو جائے گی۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کئی ماہ پہلے ہی گیس بحران کے سنگین ہونے کے خدشات کا اظہار کر چکے تھے جو اب حرف بہ حرف درست ثابت ہو رہے ہیں۔ تاہم کپتان حکومت نے ان وارننگز کا کوئی نوٹس نہ لیا جسکا خمیازہ آج عوام بھگت رہے ہیں۔
ایک ماہ پہلے قومی اسمبلی میں سردیوں کے دوران گھریلو صارفین کو تین وقت بلا تعطل گیس فراہم کرنے کی یقین دہانی کروانے والے وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر اب شدید پر گیس بحران پیدا ہو جانے کے بعد کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچے نظر آتے ہیں۔ موصوف نے عوام کی جانب سے گیس غائب ہو جانے پر لعن طعن کا شکار ہونے کے بعد تسلیم کیا ہے ک گھریلو صارفین کو گیس کی شدید کمی کا سامنا ہے، انہوں نے کہا کہ سردیوں میں دیگر شعبوں سے گیس کی سپلائی گھریلو صارفین کی جانب موڑ دی جاتی ہے،
لیخن رواں برس ہم ایسا نہیں کر پائے کیونکہ سندھ ہائیکورٹ نے صنعتی شعبے کو گیس کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے حکمِ امتناعی دے رکھا ہے، وفاقی وزیر توانائی نے گیس بحران کی دوسری وجہ قدتی گیس ذخائر میں کمی کو قرار دیا، انہون نے کہا کہ پاکستان میں ہر برس سردیوں میں گیس کی قلت اس لیے ہوتی ہے کہ قدرتی گیس کے ذخائر سالانہ نو فیصد کم ہو رہے ہیں جبکہ طلب بڑھتی جا رہی ہے۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بحران کی ایک وجہ حکومتوں کی جانب سے نئے گیس کنکشنز کے اجراء پر پابندی ختم کرنا ہے جس سے گیس کی طلب میں اضافہ ہو گیا ہے، چنانچہ ملکی گیس ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں جبکہ پچھلے 15 برس میں تیل و گیس کا کوئی نیا ذخیرہ دریافت نہیں کیا جا سکا۔ ہچھلے برس تک گیس کی سالانہ پیداوار چار ہزار 200 بلین مکعب فیٹ تھی جو کم ہو کر تین ہزار 300 رہ گئی ہے، یوں گیس کی طلب بڑھ رہی ہے اور رسد کم ہو رہی۔ یوں اگر گیس کی کمی کو سالانہ نئی ڈیمانڈ سے ملا کر دیکھا جائے تو شارٹ فال یومیہ 400 ملین مکعب فٹ ہو جاتا ہے۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی اور لاہور میں گیس کی شدید کمی کی وجہ وہاں صنعتوں کو قدرتی گیس کی بلاتعطل فراہمی ہے جس کا عدالت نے حکم دے رکھا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے بروقت اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے لئے اقدامات کئے ہوتے اور این ایل جی کی مطلوبہ مقدار بر وقت امپورٹ کر لی ہوتی تو آج عوام گیس کے اتنے شدید بحران کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

Back to top button