کیا پاکستانی شوہروں کا ’’رن مریدی‘‘ کرنا کوئی جرم ہے؟

پاکستانی شوہروں کیلئے اہنی بیوی کی ہر بات ماننا، گھریلو کاموں میں اُن کی مدد کرنا، بیوی کا نوکری کا شوق پورا کروانا اور اسکی جگہ خود گھر رہ کر بچے پالنا کسی جرم سے کم نہیں سمجھا جاتا، یہ سب کرنے والوں کو ہمارے معاشرے میں ’’رن مرید‘‘ کا خطاب ملتا ہے جس پر مردوں کی اکثریت ناراضی کا اظہار کرتی ہے۔
’’رن مرید‘‘ مردوں کو سب سے زیادہ اپنے ہی رشتہ دار، والدین، بہن، بھائی کوستے اور طعنے دیتے ہیں، ایسے ہی مردوں میں اسلام آباد کے عامر احمد بھی شامل ہیں جوکہ بیوی کا پی ایچ ڈی کرنے اور نوکری کا شوق پورا کروانے کیلئے گھر رہ کر اپنے دو بچوں کی پرورش کر رہے ہیں۔ عامر احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ دوستوں اور عزیزوں کی محفل میں مجھ سے اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ ’آپ کیا کرتے ہیں؟‘ جب میں بتاتا ہوں کہ ’میں بچے پالتا ہوں تو اکثر لوگ آگے سے ہنستے ہیں، انھیں لگتا ہے کہ میں ان سے مذاق کر رہا ہوں۔ لیکن عامر کو خوشی ہے کہ وہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت بچوں کے ساتھ گزارتے ہیں، ان کا ماننا ہے کہ زندگی بہت چھوٹی ہے، بڑے ہوتے ہی بچے اِدھر اُدھر نکل جائیں گے اور آخر میں آپ کو یہی وقت یاد آنا ہے کہ کاش تب میں نے بچوں کے ساتھ وقت گزارا ہوتا، انھیں گلے لگایا ہوتا اور انکے ساتھ کھیلا ہوتا۔
لاہور سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ محمد عثمان نے بتایا کہ وہ گھر رہ کر نا صرف اپنے دونوں بچے پال رہے ہیں بلکہ گذشتہ کئی برسوں سے اپنی ڈاکٹر اہلیہ کی ان کے کیرئیر میں آگے بڑھنے میں مدد بھی کر رہے ہیں، عثمان کے مطابق جب آپ شادی کرتے ہیں تو ذمہ داریاں برابر ہوتی ہیں، اور بچہ صرف ماں کی ذمہ داری نہیں ہوتا کہ وہی اسے سنبھالے اور روئے تو ماں ہی اسے اٹھا کر چپ کروائے یا دودھ بنا کر دے، بچہ ماں اور باپ دونوں کی برابر ذمہ داری ہے۔ عثمان نے بتایا کہ میرے لیے ’’زن مرید‘‘ اور ’یار تُو تو فارغ ہو گیا ہے‘ جیسے الفاظ بھی استعمال کیے گئے۔ ایک دوست نے کہا ’تم تو گھر بیٹھ کر بیوی کی کمائی کھاتے ہو۔ ایک اور دوست کی والدہ نے کہا کہ تمھاری بیوی تو خوب رعب جماتی ہوگی تم پر کیونکہ کماتی جو ہے۔ حتیٰ کہ مجھے دوستوں کی جانب سے یہ تک کہا گیا کہ ’تم صرف ہمارے دائرے سے ہی نہیں بلکہ اسلام کے دائرے سے بھی نکل کے یو۔ لیکن عثمان کا کہنا ہے کہ انھیں خوشی ہے کہ ان کی بیوی نے ناصرف ان کا ساتھ دیا بلکہ ’کبھی مجھے یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ میں کُل وقتی نوکری نہیں کر رہا۔ وہ کہتے ہیں میں ہمیشہ سے یہی چاہتا تھا کہ میری بیوی مجھ سے محبت کرے اور مجھ پر اعتماد کرے۔ لہذا اب اب جب کہ میں سارا دن گھر پر ہوتا ہوں تو میری بیوی نہ صرف مجھ پر اعتماد کرتی ہے بلکہ محبت بھی۔ اس لیے مجھے چاہے لوگوں کی جتنی بھی باتیں سننا پڑیں مجھے کوئی پروا نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں عثمان نے بتایا کہ یہ کبھی نہیں ہوا کہ کسی دوست نے میرے اس عمل پر حوصلہ افزائی کی ہو ہاں یہ ضرور کہا کہ ’تمھاری وجہ سے اب ہماری بیویاں تمھاری مثال دیتی ہیں اور ہمیں بھی گھر کے کاموں پر لگا کر رن مرید بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔
