مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد اللہ خان انتقال کر گئے

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئیر رہنما سینیٹر<ن-لیگی-سینیٹر-مش…-خان-انتقال-کر-گ Mushahidullah Khan بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب طویل علالت کے بعد68 برس کی عمر میں اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔
سابق گورنر سندھ اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما محمد زبیر نے مشاہد اللہ خان کے انتقال کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ مشاہد اللہ خان کافی عرصے سے علیل تھے۔
مشاہداللہ خان کو مسلم لیگ (ن) کی جانب سے آئندہ سینیٹ انتخابات میں عام نشست پر الیکشن لڑنے کے لے ٹکٹ بھی جاری کیا گیا تھا۔
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے اپنی ایک ٹوئٹ میں متوفی سینیٹر کو سابق وزیراعظم نواز شریف کا ‘وفادار اور غیر معمولی ساتھی کہتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا۔
اپنے پیغام میں مریم نواز نے مزید کہا کہ ‘مھجے یہ افسوسناک خبر سن کر دھچکا لگا، ان کی پدرانہ شفقت اور محبت کبھی بھلائی نہیں جاسکتی، بہت، بہت بڑا نقصان۔
سینیٹر مشاہد اللہ کے بیٹے ڈاکٹر افنان کے مطابق ان کی نماز جنازہ بعد نماز ظہر اسلام آباد کے سیکٹر الیون ایچ میں ادا کی جائے گی۔
مشاہداللہ خان 1953 میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ مشاہد اللہ خان نے ابتدائی تعلیم اسلامیہ ہائی اسکول راولپنڈی سے حاصل کی جس کے بعد انہوں نے گورڈون کالج سے گریجویشن مکمل کیا اور پھر اردو لاء کالج کراچی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔
مشاہد اللہ کا شمار سینئیر لیگی رہنماوں میں ہوتا تھا۔ انھوں نے 1990 میں مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی، 2009 اور 2015 میں دو مرتبہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہو ئے۔ 2017 میں شاہد خا قان عباسی کی کابینہ میں دوبارہ وزیر بنے۔
مشاہداللہ شعلہ بیان مقرر تھے، وہ اپنے بیانات سے مخالفین کو پریشان کیے رکھتے تھے۔ مشاہداللہ شاعرانہ انداز میں مخالفین پر طنز کے نشتر چلانے میں مہارت رکھتے تھے۔
حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید خان نے بھی سینیٹر مشاہد اللہ خان کے انتقال پر افسوس اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ان کی کمی کو شدت سے محسوس کریں گے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button