ن لیگ نے بزدار کی جگہ پرویز الہی کو وزیر اعلی بنانے کی آفر کردی

مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف کی کلیدی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں پنجاب میں نون لیگ کی جانب سے وزارتِ اعلی کی پیشکش کی گئی ہے جس پر ق لیگ کی قیادت نے سنجیدگی سے غور شروع کردیا ہے۔ معاملات طے پانے کی صورت میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد لاکر چودھری پرویز الٰہی کو ن وزیراعلی پنجاب بنانے کا امکان ہے۔
باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کہ پاکستان مسلم لیگ قاف اور نواز لیگ کی قیادت مل کر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد لاکر ان ہاؤس تبدیلی کے لئے درپردہ معاملات طے کر رہی ہے اور ق لیگ نے دعویٰ کیا ہے کہ ن لیگ چوہدری پرویز الہی کو وزیراعلی بنانے پر بھی راضی ہے۔ اس حوالے سے معاملات حتمی مراحل میں داخل ہوچکے ہیں۔ مسلم لیگ نون پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ہے جبکہ حکومت سازی کے لئے اسے ق لیگ کے دس ووٹ اور دو آزاد اراکین کے ووٹ درکار ہیں۔ اگر دونوں جماعتوں میں شراکت اقتدار کا معاہدہ طے پا گیا تو چوہدری پرویز الہی وزیراعلی پنجاب ہوں گے جبکہ سپیکر اور سینئر وزیر کا عہدہ نون لیگ کے پاس ہوگا۔
پنجاب حکومت سے ناراض اور اسکی بڑی اتحادی جماعت قاف لیگ بار بار اس بات کا اعادہ کر رہی ہے کہ وہ عمران خان کی حکومت کو گرانے میں کوئی کردار ادا نہیں کرے گی۔ قاف لیگ کے ذرائع کہتے ہیں کہ چوہدری برادران بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیںں۔ وہ عمران خان کی مرکز میں حکومت گرانے کے عمل کا حصہ نہیں بنیں گے یعنی وہ زبان کے پکے رہیں گے۔ مگر پنجاب کے حوالے سے انہوں نے ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا۔ صوبہ پنجاب کے عوام کے مفاد میں اگر انہیں موقعہ دیا گیا تو وہ وزیر اعلیٰ بننے سے گریز نہیں کریں گے تاکہ صوبے کو اچھی گورننس فراہم کی جا سکے اور عوام کے مسائل حل کئے جا سکیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پنجاب میں بزدار حکومت کی مکمل ناکامی کے بعد ان ہاؤس تبدیلی کے حوالے سے مشاورت جاری ہے اور کسی بھی دن وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد آسکتی ہے کیونکہ عثمان بزدار کی تبدیلی کا مطالبہ نہ صرف اپوزیشن کررہی ہے بلکہ اتحادی اور پی ٹی آئی کے ارکان بھی کررہے ہیں۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ مقتدر حلقے بھی ایسا چاہتے ہیں کیونکہ عثمان بزدار ابھی تک سیکھنے کے مراحل میں ہیں اور پنجاب کی حالت بدترین ہوتی جارہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ کی مدد سے وزیر اعلی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بزدار کو تبدیل کرنے سے صاف انکار کردیا جس کے بعد اب سیاسی تبدیلی کے لیے سیاسی اور آئینی طریقہ کار آزمانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ ق کی قیادت کا مؤقف ہے کہ اب پانی سر سے اونچا ہوچکا ہے اور وزیر اعلی کی تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ اس نیک کام کے لیے جس سے بھی ہاتھ ملانا پڑے جائز ہے۔
یاد رہے کہ اپوزیشن کو پنجاب حکومت تبدیل کرنے کے لیے صرف 12ووٹ درکار ہیں۔
واضح رہے کہ اس وقت 368 کے پنجاب کے ایوان میں حکومت کے 195اور اپوزیشن کے 173ووٹ ہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی کی ق لیگ کے 10 ووٹ، اوکاڑہ سے آزاد رکن سیدہ جگنو محسن اور ملتان سے قاسم عباس کو ملاکر سادہ اکثریت بن جاتی ہے۔
ق لیگ کے مرکزی رہنماء کامل علی آغا یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ نون لیگ نے چوہدری پرویز الہی کو وزیر اعلی پنجاب بننے کی آفر کی ہے تاہم بعض حلقوں کا دعوی ہے کہ وزارت اعلیٰ کے حوالے سے تاحال ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ مسلم لیگ قاف ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہی ہے کہ چوہدری پرویز الہی عثمان بزار کی سیٹ سنبھالیں مگر دوسری جانب لیگی قیادت کا اصرار ہے کہ چونکہ ان کی جماعت کو اکثریت حاصل ہے اس لیے وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز کو ہونا چاہیے اور بدلے میں مسلم لیگ قاف کو ڈھیروں من پسند وزارتیں دی جائیں گی۔ پیپلزپارٹی کو بھی اسے اتحاد میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
تاہم پی ٹی آئی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ سب کہانیاں بے بنیاد ہیں اور بزدار بطور وزیراعلی قاف لیگ کی مدد سے اپنے پانچ سال پورے کریں گے۔
