بزدار کیخلاف بغاوت، تحریک انصاف میں 20اراکین کا فارورڈ بلاک بن گیا

پنجاب کے 20صوبائی اراکین اسمبلی نے بزدار سرکار کے خلاف فارورڈ بلاک بناتے ہوئے اپنے مطالبات کے حق میں مشترکہ آواز بلند کرنے کا اعلان کر دیا ہے.
حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے 20 ارکان پنجاب اسمبلی نے مسائل حل کرانے کیلئےحکومت پر دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے باقاعدہ گروپ بنالیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ارکان اسمبلی نے حلف اٹھایا ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے اور مل کر مطالبات منوائیں گے۔ گروپ نے وزیراعلیٰ پنجاب سے اپنے اپنے حلقوں کے لیے فنڈز اورعوامی منصوبوں کا مطالبہ کردیا ہے۔
پی ٹی آئی رکن پنجاب اسمبلی سردار شہاب نے بتایا کہ جنوبی اور وسطی پنجاب کے 20 ارکان نے اپنا علیحدہ گروپ بنایا ہے لیکن ہم تحریک انصاف کے ساتھ ہیں اورساتھ ہی رہیں گے۔ سردار شہاب نے بتایا کہ وہ تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے ہی آئندہ الیکشن لڑیں گے، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ان کی ملاقات میں عوامی مسائل کے حل پر بات ہوئی ہے۔ سردار شہاب نے تصدیق کی کہ حلقوں کے مسائل کے حل کے لیے بیس ارکان نے گروپ بنایا ہے۔ ہم نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات میں عوامی مسائل کے حل پر بات کی ہے جبکہ یہ درست ہے کہ ہم نے اکٹھے رہنے کا حلف بھی اٹھایا ہے۔
جن ارکان نے علیحدہ گروپ بنایا ہے تاحال ان کے نام سامنے نہیں آئے ہیں۔ تاہم یہ اطلاعات بھی ہیں کہ تحریک انصاف کا یہ فاورڈبلاک دراصل پنجاب اسمبلی کے سپیکر چوہدری پرویز الہی کے ایما پر بنایا گیا ہے اور اگر عثمان بزدار کے خلاف کوئی تحریک عدم اعتماد آتی ہے تو وہ پرویزالٰہی کا ساتھ دیں گے.
پنجاب میں پی ٹی آئی کے ساتھ ق لیگ اہم اتحادی ہے تاہم گزشتہ چند دنوں میں اتحادی جماعتوں نے اپنے مسائل حل نہ ہونے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پنجاب میں ق لیگ کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے اپنے ارکان بھی ترقیاتی فنڈز اور حلقے کے دیگر مسائل حل نہ ہونے پر ناراض ہیں۔
خیال رہے کہ وفاق اور پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی حکومت قائم ہے۔ وفاق میں پی ٹی آئی کے ساتھ ق لیگ، متحدہ قومی موومنٹ، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل ، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس شامل ہیں۔
یاد رہے کہ چند روز قبل وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے بھی وزیر اعلیٰ پنجاب کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ عثمان بزدار کی نالائقی کی وجہ سے تحریک انصاف کی ناکامی کا تاثر مضبوط ہو رہا ہے.فواد چوہدری نے مؤقف اپنایا تھا کہ پنجاب میں وزیراعلی عثمان بزدار ڈیلیور نہیں کر پا رہے جس کی وجہ سے تحریک انصاف کو مجموعی طور پر پریشر کا سامنا ہے اور حکومت کی ناکامی کا تاثر پیدا ہو رہا ہے۔ فواد چوہدری نے یہاں تک کہہ دیا کہ پنجاب میں نہ تو سیاسی طور پر ڈیلیور کیا جا رہا ہے اور نہ ہی انتظامی طور پر، جس کی وجہ سے ہمیں اجتماعی طور پر نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے.
یاد رہے کہ پنجاب اسمبلی میں بزدار حکومت صرف بارہ ووٹوں کی اکثریت سے قائم ہے جن میں سے دس ووٹ قاف لیگ کے ہیں اور اگر قاف لیگ وزیراعلی کی کرسی قابو کرنے کا فیصلہ کر لیتی ہے تو عثمان بزدار کا گھر جانا ٹھہر جائے گا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کپتان وسیم اکرم پلس کا ساتھ دیتے ہیں یا پارٹی کی ساکھ کو بچاتے ہوئے عثمان بزدار کی جگہ کسی اور کو سامنے لاتے ہیں.
واضح رہے کہ اس وقت 368 کے پنجاب کے ایوان میں حکومت کے 195اور اپوزیشن کے 173ووٹ ہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی کی ق لیگ کے 10 ووٹ، اوکاڑہ سے آزاد رکن سیدہ جگنو محسن اور ملتان سے قاسم عباس کو ملاکر سادہ اکثریت بن جاتی ہے۔
l 212635 100817 updates

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button