وزیراعظم آزاد کشمیر نے نام کے ساتھ نیازی کیوں لگایا؟


وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم نیازی کا تعلق آزاد کشمیر پونچھ کے دولی قبیلے سے ہے جو کہ مغلوں کی ذیلی شاخ ہے۔ لیکن ان کا نیازی ذات یا قبیلے سے کوئی تعلق نہیں۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ وہ اپنے نام کے ساتھ نیازی کیوں لگاتے ہیں؟ دراصل نیازی وزیراعظم آزاد کشمیر عبدالقیوم کا تخلص ہے جس کے ساتھ ایک دلچسپ کہانی جڑی ہے۔
کہانی کچھ یوں ہے کہ 90 کی دہائی کے اوائل میں سردار عبدالقیوم پونچھ کی ضلع کونسل کے رکن تھے اور مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عبدالقیوم خان آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم تھے۔ ریاست کے وزیراعظم اور پونچھ کی ضلع کونسل کے رکن کا نام یکساں ہونے کی وجہ سے لوگوں کے لیے ان کے اخباری بیانات اور سرکاری احکامات میں فرق کرنا مشکل ہو رہا تھا اور ضلع پونچھ کی انتظامیہ کئی مرتبہ ضلع کونسل کے رکن کے احکامات کو وزیر اعظم کے احکامات سمجھ کر ان پر فوری عمل درآمد کر دیتی تھی۔ کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم خان نے فون پر کسی کو کام کہا تو اگلے شخص نے انہیں دوسرا قیوم سمجھ کر لفٹ ہی نہ کروائی۔ چنانچہ سابق وزیر اعظم سردار عبدالقیوم نے اس مشکل کا حل نکالنے کے لیے پونچھ کے ضلع کونسل کے رکن عبدالقیوم کو اپنے نام کیساتھ اضافہ کرنے کی تجویز دی۔ یوں انہوں نے اپنے نام کے ساتھ نیازی بطور تخلص لکھنا شروع کر دیا اور سردار عبدالقیوم نیازی بن گئے۔
واضح رہے کہ نیازی ان کا خاندانی نام نہیں اور نہ ہی عبدالقیوم کے خاندان میں کوئی دوسرا شخص اپنے نام کے ساتھ نیازی لکھتا ہے۔ اسی لیے حالیہ انتخابی مہم کے دوران 17 جولائی 2021 کو باغ میں انتخابی جلسے میں پی ٹی آئی کے نامزد امیدواروں کی فہرست پڑھتے وقت جب سردار عبدالقیوم نیازی کا نام سامنے آیا تو وزیر اعظم عمران خان نے بھی حیرت کا اظہار کیا تھا۔ عمران خان نے اس موقعے پر رک کر یک دم حیرت سے کہا تھا کہ ’ یہ نیازی یہاں کیسے آ گیا، میں بڑا حیران ہوں۔ پھر بولے کہ ویسے ہم نیازی ساری جگہ پھیل گئے ہیں‘۔
یاد رہے کہ سردار عبد القیوم نیازی کا تعلق کنٹرول لائن پر واقع گاؤں درہ شیر خان سے ہے۔ سردار عبد القیوم نیازی ’’دولی مغل‘‘ قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور نیازی انکا عرف ہے۔ عبدالقیوم نیازی اولیاء کرام سے خاص عقیدت رکھتے ہیں، ان کا شمار شاہ سلیمان نوری حضوری کے خاص مریدین میں ہوتا ہے۔ شاہ سلمان نوری حضوری کا مزار پنجاب کے شہر سرگودھا کی تحصیل بھلوال میں ہے جو سلسلہ قادریہ کے صوفی بزرگ ہیں ۔
4 اگست 2021 کو اچانک آزاد کشمیر کے وزیراعظم بن جانے والے سردار عبدالقیوم نیازی 33 ووٹ لے کر منتخب ہوئے جبکہ حزب اختلاف کے امیدوار پی پی پی کے لطیف اکبر نے 15 ووٹ لیے۔ اسمبلی کے کل ارکان کی تعداد 53 ہے جس میں ووٹنگ کے وقت 48 ارکان موجود تھے۔ سردار عبدالقیوم نیازی آزاد کشمیر کے پونچھ ڈویژن میں واقع علاقے عباس پور کے ایک سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ درہ شیر خان نامی گاؤں میں 1959 میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے گریجوایشن تک تعلیم حاصل کی۔ ان کا خاندان 1947 میں انڈین زیر انتطام کشمیر سے ہجرت کر کے لائن آف کنٹرول کے اس جانب آیا تھا۔ ان کا گاؤں درہ شیر خان پاکستانی اور انڈین کشمیر کے درمیان واقع لائن آف کنٹرول کے ساتھ متصل ہے اور اکثر کراس بارڈر فائرنگ کی زد میں رہتا ہے۔
سدرار عبدالقیوم نیازی نے الیکشن2021 میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر حلقہ ایل اے 18 عباس پور سے 24 ہزار841 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کے مدمقابل مسلم لیگ ن کے چوہدری یاسین گلشن نے 16 ہزار 64 ووٹ حاصل کیے۔ عبدالقیوم اس سے قبل آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کا حصہ تھے۔ وہ 2016 کے الیکشن کے بعد تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے۔ انہوں نے آزاد کشمیر کے 2006 الیکشن میں کامیابی حاصل کی تھی اور ان کے پاس2011 تک کابینہ میں مختلف وزارتوں کے قلمدان رہے۔ اس سے قبل ان کے بڑے بھائی سردار مصطفیٰ خان بھی 1987 اور 1991 میں رکن قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔
قیوم کے انتخاب سے پہلے آزاد کشمیر کی وزارت عظمی کے لیے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری، چوہدری انوار الحق، خواجہ فاروق اور سردار تنویر الیاس کے نام بہت زیادہ گردش میں رہے، لیکن سردار عبدالقیوم خان نیازی کے بارے میں بہت کم لوگوں نے بات کی۔ تاہم حیرت انگیز طور پر عثمان بزدار کی طرح اچانک قرعہ فال قیوم کے نام نکل آیا۔

Back to top button