کیا شہباز اپنے بڑے بھائی کے خلاف بغاوت کرنے والے ہیں؟

نواز شریف اور شہباز شریف میں بڑھتی ہوئی اختلافات کی خلیج اور دونوں کی جانب سے سر عام اظہار اختلاف کے بعد اب ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ کہیں انکا نتیجہ شریف خاندان کے اندر ہی بغاوت کی صورت حال پیدا نہ کر دے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ شہباز شریف نے کھل کر ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں اپنے بڑے بھائی نواز شریف کے مزاحمتی بیانیے سے اختلاف کیا ہے اور اپنا مفاہمتی بیانیہ آگے بڑھانے پر اصرار کیا ہے۔
موجودہ صورت حال میں شہباز شریف سمجھتے ہیں کہ ان کے بڑے بھائی نواز شریف کے ووٹ کو عزت دلوانے کے مزاحمتی بیانیے سے کچھ حاصل نہیں ہو سکا اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا تو ان کی لیگی ساتھی اور ووٹرز ان سے منہ پھیر لیں گے۔ تاہم دوسری جانب نے نواز شریف یہ سمجھتے ہیں کہ شہباز شریف 2018 کے الیکشن سے بھی پہلے سے جو مفاہمتی بیانیہ لے کر چل رہے ہیں اسکا نتیجہ مذید نیب کیسز کے اندراج اور بار بار گرفتاری کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
لاہور سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی عبادالحق انڈیپنڈنٹ اردو کے لئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں میں اختلافات اور اندرونی توڑ پھوڑ کا عمل کوئی نئی بات نہیں۔ حالات کی تبدیلی کے ساتھ ہی یہ عمل شروع ہوجاتا ہے۔ اس عمل میں سیاسی رفاقت اور وفاداری تبدیل ہوتی ہے بلکہ کئی مرتبہ بہن بھائی اور ماں بیٹی بھی ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں جو سیاسی جماعت سب سے زیادہ تقسیم ہوئی وہ ملک کی خالق جماعت مسلم لیگ ہے۔ مسلم لیگ کا ایک کے بعد ایک دھڑا وجود میں آیا۔ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے حالیہ انٹرویو کے بعد اب نواز لیگ میں ایک نئی تقسیم کی پیش گوئیاں شروع ہوگئی ہیں۔
عبادالحق کہتے ہیں کہ مفاہمتی بیانیے کے سرخیل شہباز شریف نے حال ہی میں 2018 کے انتخابات میں اپنی جماعت کی ناکامی کا ذمہ دار پارٹی کی حکمت عملی کو ٹھہرایا اور کہا کہ اگر بہتر حکمت عملی اپنائی جاتی تو نہ صرف نواز لیگ ایک بار پھر اقتدار میں آتی بلکہ نواز شریف دوبارہ وزیر اعظم بھی بنتے۔ اس طرح شہباز نے بظاہر اپنے بڑے بھائی کے بیانیے کی نفی کر دی ہے۔ دوسری جانب نواز شریف نے شہباز کے بیان کے اگلے روز ہی اس تاثر کی نفی کی اور اپنے بیانیے کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ نواز شریف کے بقول جدوجہد انتخابی عمل میں کامیابی کے لیے نہیں ہوتی بلکہ کسی اصول اور نظریے کی خاطر ہوتی ہے۔
شریف برادران کے بیانات کے بعد یہ بات مکمل طور پر عیاں ہوگئی ہے کہ اس وقت نہ صرف نواز لیگ میں بلکہ شریف خاندان کے اندر بھی بیانیے کا اختلاف سنگین صورت اختیار کرگیا ہے اور پہلی مرتبہ شہباز شریف نے کھل کر اپنے بھائی سے اظہار اختلاف کر دیا ہے۔ شہباز شریف دراصل نواز شریف کے مزاحمتی بیانیے کو مذید آگے لے کر چلنے کی بجائے انتخابی بیانیہ اپنانا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں یہ خدشہ ہے کہ اگر یہی روش جاری رہی تو پھر وہ کشمیر کی طرح پاکستان کی پارلیمنٹ میں بھی اپوزیشن لیڈر کی کرسی کھو دیں گے اور ان کی جگہ کوئی اور جماعت اچک لے گی۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف، اسٹیبلشمنٹ سے محاذ آرائی قومی مذاکرات کے ذریعے ختم کرنے کے خواہاں ہیں۔ شہباز شریف یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے بھائی کے بیانیہ سے کچھ حاصل نہیں ہوا اور یہ سلسلہ یوں چلتا رہا تو ان کی جماعت کے لوگ ان سے منہ پھیر لیں گے۔ لیکن نواز شریف یہ سمجھتے ہیں کہ شہباز شریف کا مفاہمتی بیانیہ پارٹی کو کمزور کرنے اور اسکی ساکھ خراب کرنے کا باعث بنا اور حاصل وصول بھی کچھ نہیں ہوا۔
عبادالحق کہتے ہیں کہ ان حالات میں سیاسی تجزیہ کار پہلی مرتبہ ان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ نواز شریف اور شہباز شریف میں بڑھتی ہوئی اختلافات کی خلیج کہیں خاندان کے اندر ایک بغاوت کی صورتحال نہ پیدا کر دے۔ انکا کہنا ہے کہ سیاست میں کوئی بات انہونی نہیں ہوتی۔ بےنظیر بھٹو ماں کے سامنے اور مرتضی بھٹو بہن کے سامنے کھڑے ہوگئے تھے۔ لاہور کے الحمرا ہال میں اس وقت بے نظیر بھٹو نے ایک قرارداد کے ذریعے اپنی والدہ نصرت بھٹو کو پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن کے عہدے ہٹا دیا اور وزیر اعظم ہوتے ہوئے پارٹی کی شریک چیئرپرسن سے چیئرپرسن بن گئیں۔ خود بےنظیر بھٹو کے بھائی مرتضی بھٹو سیاسی طور پر اپنی بہن کے مدمقابل آگئے تھے اور انکو للکارنا شروع کر دیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی بیوہ نے بہن بھائی کی اس سیاسی لڑائی میں اپنے بیٹے کا ساتھ دیا اور بیٹے کی انتخابی مہم چلائی۔ مرتضی بھٹو نے پیپلزپارٹی ش کے نام سے اپنی سیاسی جماعت قائم کی جس کو آج ان کی بیوہ دیکھ رہی ہیں۔
اسی طرح گجرات کے چوہدری برادران اور بھٹو خاندان میں سیاسی اختلاف سے زیادہ ذاتی عناد تھا لیکن پھر آصف زرداری کی حکومت میں چوہدری پرویز الہی نائب وزیر اعظم بنے جس کے بارے میں کبھی کسی نے سوچا بھی نہیں گیا تھا۔ اسی طرح سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار کھوسہ مسلم لیگ ن میں تھے اور ان کے بیٹے نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اسی طرح اسد عمر تحریک انصاف کے اور ان کے بھائی زبیر عمر مسلم لیگ ن کے اہم سینیئر رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔
عبادالحق اپنے تجزیے کے آخر میں کہتے ہیں کہ مغلیہ شاہی خاندان میں بھائیوں کی بھائیوں کے ساتھ جنگ و جدل کے قصے سب جانتے ہیں۔ سب سے زیادہ نیک کہلانے والے بادشاہ اورنگزیب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ’اس بادشاہ نے نہ کوئی نماز چھوڑی اور نہ ہی کوئی بھائی چھوڑا۔‘ ویسے بھی جھگرے وراثت یا جائیداد پر ہی ہوتے اور پاکستان میں سیاسی جماعتیں بھی ایک وراثت ہی سمجھی جاتی ہیں.
