وزیراعظم کا ڈی جی ISI کے امیدواروں کے انٹرویو کرنے کا فیصلہ


پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ وزیر اعظم عمران خان نے ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے کے لیے امیدوار افسران کے انٹرویو لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس فیصلے کا بنیادی مقصد وزیراعظم کی جانب سے فوجی قیادت کو اپنی اتھارٹی دکھانا ہے۔
حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ آئی ایس آئی کے نئے ڈائریکٹر جنرل کے نام کا اعلان آئندہ چند میں متوقع ہے کیونکہ وزیراعظم عمران خان اس عہدے کیلئے پینل میں شامل تین افسران کا انٹرویو لینا چاہتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے حوالے سے اس پراسیس پر عمل کیا جا رہا ہے جو وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان طے پایا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹرویوز کے بعد وزیراعظم ایک مرتبہ پھر اپنا ووٹ ندیم انجم کے پلڑے میں ڈال سکتے ہیں جنہیں کہ فوجی قیادت نے اس عہدے کے لئے چنا تھا۔ تاہم اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ وزیر اعظم کسی اور فوجی جرنیل کو نیا ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کرکے اپنی اتھارٹی ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ تاہم شیخ رشید جیسے وفاقی وزراء کا خیال ہے کہ اگر وزیراعظم نے ایسا کیا تو اس سے ان کے فوجی قیادت سے تعلقات میں ایک دراڑ پیدا ہو جائے گی۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اعلان کیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی آتی کے عہدے کے حوالے سے مشاورت کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور نئے تقرر کا پراسیس شروع ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ سول اور ملٹری قیادت نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ تمام ادارے متحد ہیں اور ملک کے استحکام، ساکھ اور ترقی کیلئے اتفاق رائے رکھتے ہیں۔ تاہم ان کا اصرار تھا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کا اختیار وزیر اعظم کا ہے جس سے ان خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ شاید وزیراعظم اپنی مرضی کا نیا ڈی جی تعینات کریں گے۔
اسی لیے وزیراعظم چاہتے ہیں کہ آرمی چیف کے تجویز کردہ پینل میں شامل تینوں افسران کا انٹرویو لیا جائے۔ ایسا کرکے وزیراعظم ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کا ایک طریقہ کار بھی طے کرنا چاہتے ہیں جس سے مستقبل میں بھی اپنایا جائے۔ یاد رہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کا طریقہ کار کوئی واضح نہیں ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ وزیر اعظم اور آرمی چیف مل کر کر یہ فیصلہ کرتے ہیں۔ تاہم دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر وزیراعظم نے فوجی قیادت کی جانب سے نامزد کردہ ندیم احمد انجم کی بجائے کسی اور جرنیل کو آئی ایس آئی کا سربراہ بنانے کا فیصلہ کیا تو یہ ان کے سیاسی مستقبل کے لیے کوئی نیک شگون ثابت نہیں ہو گا۔

Back to top button