علیمہ خان کی سلائی مشینوں کا سچ سامنے آ گیا

معروف تحقیاتی ویب سائٹ فیکٹ فوکس کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا سلائی مشینوں کے ذریعے بڑی آمدنی کمانے کا دعویٰ ایف بی آر کے ریکارڈ سے غلط ثابت ہوگیا ہے جس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ علیمہ دراصل عمران خان کی بے نامی ہیں۔ سنیئر صحافی احمد نورانی کی فیکٹ فوکس پر شائع تحقیقاتی سٹوری میں بتایا گیا ہے کہ علیمہ خان نے اپنی کمپنی کاٹن کنکشن پرائیویٹ لمیٹڈ سے اپنی ذاتی آمدنی پر جو ٹیکس ادا کیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے پاس بمشکل اتنا پیسہ تھا کہ وہ پاکستان میں بھی اچھی سرمایہ کاری کرسکتیں لہذا انکی جانب سے اربوں روپے مالیت کی غیر ملکی جائیدادیں بنانے کا معاملہ مشکوک ہے۔ احمد نورانی کے مطابق علیمہ نے جب 2004 میں نیو جرسی امریکہ میں جائداد خریدی، اس برس انہوں نے صرف 49914 روپے ٹیکس ادا کیا تھا۔
علیمہ خان کی 1995 سے 2010 تک کے ٹیکس ریکارڈ کی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انکے کاروبار سے آمدنی برائے نام ہی تھی۔ علیمہ خان نے گو کہ نیو جرسی فلیٹوں کی ملکیت کا اقرار کر لیا ہے تاہم، ان کا کہنا ہے کہ ان کا کاٹن کنکشن پرائیویٹ لمیٹڈ یا سی سی ایل کے نام سے ٹیکسٹائل کا کاروبار ہے، جس کی سالانہ برآمدات اربوں روپے کی ہیں۔ لیکن دوسری جانب اس مدت کے دوران ان کے کاروبار سے متعلق ایف بی آر کے ٹیکس ریکارڈ، جس میں متحدہ عرب امارات اور امریکا میں لگژری جائیدادیں خریدی گئیں، ان کے دعوے کو غلط ثابت کرتی ہیں۔ سال 1995 سے 2010 کے دوران جب یہ تمام غیر ملکی لگژری جائدادیں خریدی گئیں تو سال بہ سال ان کی آمدنی پر اس کاروبار سھ جو ٹیکس ادا کیا گیا وہ اس وقت سی سی ایل کا 50 فیصد شیئر تھا۔ انہوں نے اپنی ذاتی آمدنی پر جو ٹیکس ادا کیے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے پاس بمشکل اتنا پیسہ تھا کہ وہ پاکستان میں بھی اچھی سرمایہ کاری کرسکتیں۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ اور شوکت خانم ہسپتال کی ڈائریکٹر علیمہ خان کا دعویٰ ہےکہ انہوں نے سلائی مشینوں کی کمائی سے اندرون اور بیرون ملک جائیدادیں بنائیں اور انکی تمام جائیدادیں ظاہرکی ہوئی ہیں۔ لیکن اپوزیشن رہنمائوں کا مؤقف ہے کہ یہ جائیدایں دراصل عمران کی ہیں کیونکہ سلائی مشینوں کے بزنس سے اتنا پیسہ کمانا ناممکن ہے۔ اپوزیشن کا یہ بھی الزام ہے کہ عمران نے اپنے خیراتی ادارے شوکت خانم کینسر ہسپتال سے پیسے نکال کر یہ جائیدادیں بنائی ہیں۔ واضح رہے کہ جب 2019 میں پاکستانیوں کی بیرون ملک جائیدادوں اوراکاؤنٹس سے متعلق کیس میں وزیراعظم کی ہمشیرہ علیمہ خان سپریم کورٹ میں پیش ہوئی تھیں تو انہوں نے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں دعویٰ کیا تھا کہ میں نے امریکہ اور دبئی سمیت اپنی تمام جائیدادیں ظاہر کی ہوئی ہیں۔ جب ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ نے مشینوں کی کمائی سے یہ جائیدادیں بنائیں؟ تو انہوں نے کہا کہ جی ہاں، پاکستان میں بہت سی خواتین سلائی مشین سے روزگار کما رہی ہیں، لیکن میری مشینوں کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ علیمہ نے مزید کہا کہ میری ویلتھ اسٹیٹمنٹ چیک کر لیں، میں بیس سال سے یہی کام کر رہی ہوں، آپ ریکارڈ چیک کرلیں تمام چیزیں ریکارڈ پر موجود ہیں، انکا کہنا تھا کہ افسوس کی بات ہے کہ جب کوئی خاتون کام کرتی ہے تو ہم اس کی سلائی مشینوں کا بھی مذاق اڑاتے ہیں۔ وزیر اعظم کی ہمشیرہ کا کہنا تھا کہ سلائی مشینیں ہماری ایکسپورٹ کا بڑا حصہ ہیں اور لاکھوں لوگ یہ کام کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فارن ایکسچینج ایکسپورٹ سے آرہا ہے اور میرے معاملے میں سلائی مشینوں سے آ رہا ہے۔ تب ایک اور صحافی نے سوال کیا تھا کہ آپ کو اپوزیشن کی جانب سے عمران خان کا بے نامی دار ٹھہرایا جا رہا ہے؟ اس پر علیمہ خان نے جواب دیا کہ میں اس حوالے سے اپنا بیان دے چکی ہوں، مجھے عمران کی طرف سے نہیں بلکہ والدین کی طرف سے حصہ ملا ہے۔
واضح رہے کہ دبئی میں پاکستانیوں کی جائیدادوں کے معاملے پر سپریم کورٹ کی ہدایت پر قائم کمیٹی نے 893 مالکان کو نوٹس بجھوائے تھے جن میں سے 450 افراد نے جائیدادوں کی ملکیت تسلیم کرلی تھی جب کہ 443 افراد نے اس حوالے سے کوئی جواب جمع نہیں کرایا تھا۔ بعدازاں اس قسم کی اطلاعات سامنے آئیں کہ وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے دبئی میں اپنی جائیدادوں کے حوالے سے ایف بی آر کو ٹیکس جمع کرا دیا ہے۔ان رپورٹس کے مطابق انہوں نے دبئی میں اپنے پرتعیش فلیٹ ‘دی لافٹس ایسٹ۔ 1406’ کی 25 فیصد تخمینی مجموعی قیمت اور 25 فیصد جرمانے کی رقم ٹیکسوں کی مد میں جمع کروائی۔ بتایا جارہا ہے کہ علیمہ خان کی پراپرٹی کی مالیت تقریباً 7 کروڑ 40 لاکھ روپے ہے اور ان کا فلیٹ دبئی کے قلب میں برج خلیفہ سے متصل ہے جو انتہائی مہنگا علاقہ ہے۔ متعلقہ حکام کے مطابق ٹیکسوں اور جرمانے کی شکل میں علیمہ خان پر دُہرا جرمانہ عائد کیا گیا تھا اور ایف بی آر اور ایف آئی اے حکام سے معاملات طے کرنے کے لیے علیمہ خانم کی قانونی ٹیم کو چار ہفتے لگے۔علیمہ خان نے ایف آئی اے کو دیئے گئے اپنے حلفیہ بیان میں بتایا تھا کہ مذکورہ فلیٹ بیرون ملک کاروبار سے حاصل آمدنی سے خریدا گیا۔
احمد نوارانی کی تحقیقاتی سٹوری کے مطابق علیمہ خان نے نیو جرسی کی جائیداد 5اگست، 2004 کو خریدی تھی، جو کہ مالی سال 2004-2005کے دوران تھی۔ اس دوران سی سی ایل کے کاروبار پر 1لاکھ 88 ہزار 721روپے ٹیکس ادا کیا گیا۔اس کاروبار سے سالانہ منافع کو دو شیئر ہولڈرز کے درمیان تقسیم کیا جانا تھا ، یعنی علیمہ خان اور ان کے کاروباری شراکت دار، اس طرح علیمہ خان کا ذاتی ٹیکس جو کہ اس مالی سال کے دوران تھا وہ 49 ہزار 914 روپے تھا۔ ایس ای سی پی ریکارڈ کے مطابق، علیمہ خان کاٹن کنکشن پرائیویٹ لمیٹڈ کی شیئر ہولڈر اور ڈائریکٹر رہیں ۔اس کے علاوہ وہ سارک بزنس ایسوسی ایشن برائے گھریلو ملازمین لمیٹڈ اور پاکستان کمپلائنس انی شیٹو کی ڈائریکٹر بھی تھیں۔ فی الحال وہ کوٹ کوم سورسنگ پرائیویٹ لمیٹڈکی سی ای او ہیں، جس میں ان کے بیٹے شاہ ریز عظیم اور شیر شاہ خان ڈائریکٹرز ہیں۔ دستاویزات سے واضح ہے کہ 1990 کی دہائی اور 2000 کی دہائی میں علیمہ خان کا واحد کاروبار کاٹن کنکشن پرائیویٹ لمیٹڈ تھا۔واضح رہے کہ کاروبار کا جو منافع ظاہر کیا گیا ہے وہ شیئر ہولڈرز کا مشترکہ منافع ہے۔ مالی سال 1994-95 کے دوران سی سی ایل کا کل منافع یا سی سی ایل کی آمدنی 6 لاکھ 96 ہزار 107 روپے ظاہر کی گئی جبکہ 1880 روپے ٹیکس ادا کیا گیا۔ 1995-96 میں سی سی ایل کی آمدنی 6 لاکھ 17 ہزار 591 روپے ظاہر کی گئی اور 19149 روپے ٹیکس ادا کیا گیا۔ اسی طرح آئندہ برسوں کے دوران بھی ادارے کی آمدنی یا منافع غیر معمولی یا اربوں روپے کی بجائے چند لاکھ روپوں تک محدود رہا۔ لہازا انکا سلائی مشینوں کی کمائی سے امریکہ میں مہنگی ترین جائیداد خریدنے کا دعوی سمجھ سے بالاتر ہے۔
