کیا ہائبرڈ نظام حکومت اپنے خاتمے کی طرف گامزن ہے؟


حکومتی اور عسکری قیادت کی جانب سے تشکیل دیا جانے والا ہائبرڈ نظام حکومت تین برس تک کامیابی سے ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرنے کے بعد بالآخر نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے معاملے پر بکھرتا ہوا نظر آتا ہےاور ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے مابین اختیارات کی یہ رسی کشی بالآخر موجودہ سیاسی نظام کا شیرازہ بکھیر بھی سکتی ہے۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار زاہد حسین نے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ ملک کے سیاسی منظرنامے پر سیکیورٹی ایجنسیوں کے اس قدر گہرے سائے ہیں کہ سویلین اختیار برائے نام ہی رہ جاتا ہے۔ مگر موجودہ سیاسی انتظامی ڈھانچے کو واقعتاً ہائبرڈ حکمرانی کا پہلا تجربہ قرار دیا جاسکتا ہے جو اسٹیبلشمنٹ کے فراہم کردہ تختے پر ٹکا ہے۔ چند چھوٹی خرابیوں کے باوجود یہ انتظام گزشتہ 3 برسوں سے لرزتی مخلوط حکومت کو سہارا دیتے ہوئے بڑی حد تک کارگر ثابت ہوا ہے۔ تاہم حالیہ ہفتوں کے دوران اس انتظام میں چند دراڑیں پڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ آئی ایس آئی چیف کی تعیناتی پر وزیرِاعظم اور سیکیورٹی اداروں کی قیادت کے مابین بتائی جانے والی تکرار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیان خلیج گہری ہوتی جارہی ہے۔
زاہد حسین کہتے ہیں کہ اس بات پر تو کوئی شک نہیں کہ وزیرِاعظم نے اپنا اختیار جتانے کے لیے غلط معاملے کا انتخاب کرلیا ہے۔ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو ان کے عہدے پر برقرار رکھنے سے متعلق عمران خان کے مؤقف نے انکے سیاسی عزائم سے متعلق سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ فوجی قیادت نے ردِعمل دیتے ہوئے بظاہر وزیرِاعظم کی منظوری کے بغیر اور اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نئے چیف کی تقرری کا نوٹییفکیشن جاری کردیا جس نے ٹکراؤ کی راہ ہموار کردی۔ ٹکراؤ کا نتیجہ چاہے جو بھی ہو مگر اس نے سول اور فوجی قیادت کے درمیان گہری ہوتی خلیج منکشف کردی ہے۔ چند دیگر ایسے معاملات بھی ہیں جن کی وجہ سے پیچیدگیاں بڑھ گئی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کارکے مطابق اس وقت ملک کی فوجی اور حکومتی قیادت اہم خارجہ اور سلامتی امور کے معاملات پر ایک پیج پر نظر نہیں آتی۔ یہ بات باعثِ تجسس ہے کہ ہائبرڈ ڈھانچے میں اس وقت کشیدگی دیکھنے کو ملی ہے جب ملک کے اندر انتخابی ماحول بننے لگا ہے۔ پی ٹی آئی کے ذرائع کے مطابق انتخابات میں حصہ لینے سے قبل حکمراں جماعت کو اپنے اوپر لگی ‘سلیکٹڈ’ کی مہر کو مٹانا ضروری ہے۔ مگر پارٹی قیادت کے لیے سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ سے مکمل طور پر ناطہ توڑنا کوئی آسان ثابت نہیں ہوگا جس کی حمایت اقتدار حاصل کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔
زاہد حسین کہتے ہیں کہ محدود اکثریت کی حامل ایک غیر مستحکم مخلوط حکومت اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرانے کی متحمل نہیں ہو سکتی اور یہ امر خصوصاً ایسی حکومت کے لیے اور بھی کٹھن ثابت ہوگا جس نے جمہوریت کے تقاضوں کو زیادہ اہمیت نہ دی ہو۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران وزیرِاعظم عمران خان کی محاذ آرائی کی پالیسی نے جمہوری اداروں کو کمزور کیا ہے۔ ان کی جانب سے منتخب اداروں کی ہونے والی توہین سب کے سامنے ہے۔ اہم آئینی معاملات پر بھی اپوزیشن کو اعتماد میں لینے اور غیر معمولی خارجہ و سلامتی پالیسیوں پر قومی اتفاق رائے قائم کرنے سے انکار نے سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو کھلا میدان دے دیا ہے اور یوں اس کی اقتدار کے مختارِ کُل کی حیثیت کو تقویت ملی ہے۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایک منقسم حزبِ اختلاف بھلے ہی حکومت کے لیے بڑا چیلنج نہ ہو لیکن غیر جمہوری رویہ حکومت کی سیاسی حیثیت کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ گزشتہ چند مہینوں کے دوران حکومت نے پارلیمنٹ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صدارتی آرڈینینس کے ذریعے کئی قوانین کا نفاذ کیا ہے۔
سب سے متنازع اقدام نیب ضابطوں میں ترمیم کے ذریعے موجودہ چیئرمین نیب کی مدت میں توسیع دینا ہے جس کی ساکھ اور غیر جانبداری پر سوال اٹھایا جاتا رہا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کے یکطرفہ احتساب نے کرپشن کی روک تھام کے ادارے کو متنازع بنادیا ہے اور داغدار احتسابی عمل کی سربراہی کرنے والے شخص کو توسیع دینے سے مخالفین کے الزامات کو تقویت ملی ہے۔ اس الزام میں کسی حد تک صداقت موجود ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت سویلین ریاستی اداروں کو منظم انداز میں تباہ کر رہی ہے۔ حکومت چیف الیکشن کمشنر کے خلاف طے شدہ مہم کے تحت ایک آئینی ادارے یعنی الیکشن کمیشن آف پاکستان کو متنازع بنا رہی ہے۔ منصفانہ اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے انتخابی ضابطوں میں اصلاحات لانے کے لیے حزبِ اختلاف کے ساتھ بیٹھنے کے بجائے پی ٹی آئی حکومت انتخابی عمل میں یکطرفہ تبدیلیاں مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کے اعتراضات کو نظر انداز کرتے ہوئے وزیرِاعظم اگلے انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کی ضد لگائے بیٹھے ہیں۔ ملک میں اس سسٹم کا تجربہ پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔ حزبِ اختلاف نے الیکٹرانک ووٹنگ کی تجویز کو مسترد کردیا ہے۔ ووٹنگ کے عمل میں تبدیلی سے متعلق کسی بھی قسم کا یکطرفہ فیصلہ آئندہ انتخابات کو متنازع بنادے گا اور پہلے سے بگڑے ہوئے جمہوری عمل کو سنگین نقصان پہنچائے گا۔ گورننس کے فقدان کے باعث حکومت زیادہ سے زیادہ آمرانہ عوامل کا سہارا لے رہی ہے۔
زاہد حسین کاکہنا ہے کہ پاکستان میں اقتصادی مندی اور آسمان کو چُھوتی مہنگائی جیسے اہم مسائل پر دھیان دینے کے بجائے عمران حکومت تفرقہ انگیز روش برقرار رکھے ہوئے ہے۔ دوسری طرف خطے میں تیزی سے بدلتے زمینی و سیاسی منظرنامے کے پیشِ نظر ملک کو سنگین خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ مگر لگتا ہے کہ حکومت کو صورتحال کی سنگینی کا احساس ہی نہیں ہے۔ ایسا نظر آتا ہے کہ اہم قومی امور پر کوئی واضح پالیسی اختیار کرنے کے بجائے پاپولسٹ بیانیہ اختیار کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ پریشان کن معاملہ تحریکِ طالبان پاکستان سے مذاکرات اور انہیں معافی دینے بارے وزیرِاعظم کا بیان ہے۔ عام معافی کی اس پیش کش سے حکومت کی انسدادِ دہشتگرد پالیسی پر سوال کھڑا ہوجاتا ہے۔ مفاہمتی عمل سے سیکیورٹی فورسز کی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں حاصل کی جانے والی تمام کامیابیاں رائیگاں جائیں گی۔
زاہد حسین کہتے ہیں کہ اب جبکہ ملک کو مشکل ترین چیلنجوں کا سامنا ہے تو ایسے میں وزیرِاعظم تواتر کے ساتھ اخلاقیات اور تاریخِ اسلام پر درس دینے لگے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ انہیں معاشرے میں ‘بڑھتی ہوئی بے حیائی’ جیسے معاملات کی زیادہ فکر رہنے لگی ہے۔ انہوں نے حال ہی میں نئی اسلامی اتھارٹی قائم کی ہے جو ملک کے تعلیمی نظام اور میڈیا کی مانیٹرنگ کرے گی۔ لیکن اس طرح کے فیصلے ملک کو آگے نہیں لے جاسکیں گے بلکہ پیچھے کی طرف ہی دھکیلیں گے۔

Back to top button