ممالک سے ‘امتیازی سلوک‘ ختم اور تمام کورونا ویکسین پر زور

ورلڈ میڈیکل ایسوسی ایشن (ڈبلیو ایم اے) نے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ امتیازی سلوک بند کریں اور تمام ویکسینز لگوانے والے مسافروں کو اپنے ملک میں آنے کی اجازت دیںگے۔
چند ممالک، جن میں سعودی عرب بھی شامل ہے، نے بوسٹر شاٹس کی پالیسی متعارف کرائی ہے جس کے تحت چینی ویکسین لگوانے والے افراد کو سفر کے لیے کسی امریکی یا برطانوی ویکسین کی ایک خوراک لینا ضروری ہے۔
دوسری جانب ماہر صحت اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے ایک فرد کو ویکسین دینے کے لیے ایک سے زیادہ برانڈز کے استعمال کی مخالفت کی ہے۔
بدھ کے روز اپنی کونسل کے ورچوئل اجلاس میں منظور کی گئی ایک قرارداد میں ورلڈ میڈیکل ایسوسی ایشن نے کہا کہ چند ممالک کے شہریوں کو غیر ملکی سفر میں مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
کیونکہ ان کی ویکسینز کو مکمل تحفظ کے ثبوت کے طور پر قبول نہیں کیا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایسوسی ایشن کا خیال ہے کہ یہ ان مسافروں کے خلاف ایک مؤثر امتیازی سلوک کا باعث بن رہا ہے جن کو ویکسین دی گئی ہے، یہ بین الاقوامی تعاون اور کاروبار کو محدود کر رہا ہے
اور بنیادی طور پر غریب ممالک اور خطوں کو نقصان پہنچا رہا ہے‘۔
قرارداد میں کہا گیا کہ ’چند معاملات میں یہ ویکسین شدہ لوگوں سے تیسری اور چوتھی خوراک کی درخواست کی وجہ بنی ہے، ڈبلیو ایم اے تمام حکومتوں پر زور دے رہا ہے کہ وہ فوری طور پر منصفانہ، ہم آہنگ اور غیر امتیازی قوانین کو اپنائیں تاکہ محفوظ اور مساوی سفری مواقع کو فعال کیا جاسکے۔
پی ایم اے کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ ان کی ایسوسی ایشن نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل اور ڈبلیو ایم اے کے سیکرٹری جنرل سے درخواست کی ہے کہ وہ اس مسئلے سے نمٹیں تاکہ بیرون ملک سفر کے خواہشمند افراد کو رکاوٹوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ ’پی ایم اے کی درخواست کے جواب میں ڈبلیو ایم اے نے اپنی کونسل کے اجلاس میں ایک قرارداد پیش کی اور کووڈ 19 کے سفری امتیاز کے خاتمے کا مطالبہ کیا‘۔
انسداد خسرہ مہم
جہاں پاکستان اگلے ماہ دنیا کی سب سے بڑی خسرہ روبیلا (ایم آر) مہم چلانے کا ارادہ رکھتا ہے وہیں ایک اعلیٰ سطح کا ’شراکت دار وفد‘ ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہے۔
وفد کا بنیادی مقصد ڈبلیو ایچ او اور یونیسیف جیسی تنظیموں کی جانب سے چلائی جانے والی حفاظتی مہم میں حصہ لینے والی مقامی ٹیموں کے ساتھ بات چیت کرنا ہے۔
وفد ملک کے ایکسٹینشن پروگرام آف امیونائزیشن (ای پی آئی) اور انسداد پولیو مہمات کا جائزہ لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔
یہ محکمہ تعلیم، نجی شعبے اور زیادہ سے زیادہ ورکرز، خاص طور پر خواتین ویکسینیٹرز کو بھرتی کرکے خسرہ روبیلا کے خلاف مہم کو زیادہ مؤثر بنانے کے اقدامات تجویز کرے گا۔
