آئل ریفائنریز کیلئے 10 سالہ ٹیکس چھوٹ ختم ہوگئی،

آئل ریفائنریز کیلئے 10 سالہ ٹیکس چھوٹ ختم، ریفائننگ انڈسٹری کے ساتھ بات چیت کے بعد پیٹرولیم ڈویژن نے 10 سالہ ٹیکس چھوٹ کا تحفظ ختم کرتے ہوئے موجودہ آئل ریفائنریز کے فنانس اپ گریڈ میں حکومتی شراکت کو کم اور تعمیل کی ضروریات کو بڑھایا ہے۔

جس میں 20 سال کے لیے ٹیکس چھوٹ شامل تھی ۔ موجودہ ریفائنریز کو اس قسم کا تحفظ دینے سے انکار کردیا تھا۔

پیٹرولیم ڈویژن نے اب ’سی سی او ای‘ کی جانب سے ملک میں چلنے والی پرانی ریفائنریز کو دی جانے والی مراعات کے حوالے سے اٹھائے گئے دونوں اعتراضات ختم کر دیے ہیں۔

علاوہ ازیں 10 سالہ ٹیکس چھوٹ ختم کر دی گئی ہے اور حتمی مسودے میں پہلے سے حکومتی شراکت کو 30 فیصد کر دیا گیا ہے کیوں کہ کمیٹی نے 40 فیصد کو مسترد کردیا تھا۔

یہ شراکت پیٹرول اور ڈیزل پر 10 فیصد کسٹم ڈیوٹی کے ذریعے حاصل کی جانی ہے اور موجودہ ریفائنریز کے اپ گریڈ کو فنانس کرنے کے لیے خصوصی ریزرو اکاؤنٹ میں رکھی جانی چاہیے۔

نظر ثانی شدہ پالیسی کے تحت ریگولیٹر یا حکومت پاکستان کی جانب سے موجودہ ریفائنریز کے لیے ریٹ آف ریٹرن کی کوئی ضمانت نہیں ہوگی اور ریفائنریز کو غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹ کھولنے اور چلانے کی اجازت ہوگی۔
پالیسی کے تحت انہیں اجازت دی جائے گی کہ وہ برآمدی آمدنی کا ایک خاص حصہ غیر ملکی کرنسی میں رکھیں اور اگر ہو تو آپریشنل ضروریات کو پورا کریں۔

ہر ریفائنری کی جانب سے اپ گریڈیشن/موڈرنائزیشن/توسیع کے لیے ایک ‘خصوصی ریزرو اکاؤنٹ’ نیشنل بینک میں کھولے گئے اکاؤنٹ کے علاوہ رکھا جائے گا۔

نظر ثانی شدہ ٹیرف ڈھانچے (ریفائنریز کے لیے موجودہ قیمتوں کا طریقہ کار سے اوپر) کی بنیاد پر ریفائنریز کی کمائی گئی کوئی بھی بڑھتی ہوئی آمدنی (خالصتاً ٹیکس) ‘خصوصی ریزرو اکاؤنٹ’ میں منتقل کی جائے گی۔

یہ کمپنی اکاؤنٹس کی کتابوں میں الگ سے ظاہر ہوگا جو خصوصی طور پر اپ گریڈیشن، موڈرنائزیشن یا توسیعی منصوبوں کے لیے استعمال ہوگا اور منافع کی تقسیم یا نقصانات کی ایڈجسٹمنٹ یا موجودہ ریفائنری کے کسی دوسرے عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہوگا۔

ریفائنریز متعلقہ اپ گریڈیشن، موڈرنائزیشن یا توسیعی منصوبے کے لیے ای پی سی کا کانٹریکٹ ملنے کے بعد ‘اسپیشل ریزرو اکاؤنٹ’ سے (رقم) نکالنے کی حقدار ہوں

Back to top button