وزیراعلیٰ جام کمال کا 20 اکتوبر دھڑن تختہ ہونے کا امکان

بلوچستان کی سیاست پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ 20 اکتوبر کے روز عدم اعتماد کے ووٹ کے نتیجے میں وزیر اعلیٰ جام کمال خان علیانی کا دھڑن تختہ ہونے کا قوی امکان ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ باپ پارٹی کے کرتا دھرتا چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بالآخر وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے مقابلے میں اپنی پارٹی کے ناراض اراکین کے پلڑے میں وزن ڈال دیا ہے، اسکے علاوہ عمران خان نے بھی جام کمال کو سیاسی کمک دینے سے معذرت کرلی ہے جس کے بعد جام کمال کا بچنا ممکن نظر نہیں آتا۔
تاہم جام کمال کا دعویٰ ہے کہ پارٹی کے بیشتر ناراض اراکین ان کے خلاف ووٹ نہیں دیں گے اور وہ بدستور وزیراعلیٰ کی کرسی پر براجمان رہیں گے۔ خیال رہے کہ اس وقت بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کو 23 ارکان کی حمایت حاصل ہے اور تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 33 ارکان کی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ جام کمال سے ناراض اراکین کی تعداد کم از کم 14 ہے۔ اس صورت حال میں جام سے کسی کمال کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال اور ناراض ارکان کے اسلام آباد سے واپسی کے بعد سیاسی گرما گرمی کوئٹہ منتقل ہوچکی ہے۔ اب بظاہر دونوں فریقین نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ 20 اکتوبر کو اسمبلی میں اپنی اکثریت دکھا کر ہی اس کا فیصلہ کریں گے۔ بلوچستان عوامی پارٹی ناراض اراکین کا کہنا ہے کہ جام کمال اگر مقابلہ کرنے کا شوق رکھتے ہیں تو مقابلہ کر لیں، جبکہ سپیکر بلوچستان اسمبلی اور ناراض رکن میر عبد القدوس بزنجو نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے دن پتہ چل جائے گا کہ اکثریت کس کے پاس ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ جام کمال پارٹی سے استعفیٰ دے چکے ہیں اب وہ پارٹی کے صدر نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ رواں ماہ کی 20 تاریخ کو تحریک عدم اعتماد کو بلوچستان اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا۔
دوسری جانب ترجمان حکومت بلوچستان لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اپنی موجودہ آئینی مدت پوری کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان صوبے کے پہلے بھی وزیر اعلیٰ تھے اور آئندہ بھی رہیں گے۔ لیاقت شاہوانی نے کہا کہ جو عناصر بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوں گے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی شروع دن سے ہی یہی کوشش رہی ہے کہ بلوچستان کی مخلوط حکومت اور اتحادی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں لیکن کچھ عناصر شروع سے ہی بلوچستان کی ترقی اور وزیر اعلیٰ کے مخالف رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے خلاف سازش ہرگز کامیاب نہیں ہوگی۔
تاہم بلوچستان کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں اسلام آباد میں ناراض ارکان کو کامیابی ملی ہے۔ جام کمال مدد حاصل کرنے اور مخالف گروپ کے سیاسی قائدین کو غیر جانبدار رہنے کی کوشش کرنے آئے تھے۔ بلوچستان کی سیاست اور حالات پر نظر رکھنے والے اسلام آباد میں مقیم سینیئر صحافی اور تجزیہ کار بلال ڈار نےبتایا کہ موجودہ صورت حال میں وزیراعلیٰ کو اپنی وزارت بچانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناراض ارکان اور وزیراعلیٰ جام کمال کی اسلام آباد میں ملاقاتیں بھی اسی ضمن میں تھیں۔ بلال ڈار کے بقول جام کمال نے وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات کی اور ان سے بحران سے نکلنے میں مدد مانگی۔ بلال ڈار نے بتایا کہ وزیراعظم نے جام کمال کو کہا کہ ہم اتحادی ہیں اور رہیں گے، لیکن جو موجودہ سیاسی بحران ہے وہ آپ کے جماعت کا اندرونی مسئلہ ہے۔ ہم اس لڑائی میں شامل نہیں ہوسکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ذرائع نے انہیں بتایا تھا کہ پی ٹی آئی کے ارکان بھی ملاقات میں موجود تھے اور انہوں نے جام کمال کو یاد دلایا کہ وہ جب بھی کوئٹہ کا دورہ کرتے ہیں تو بلوچستان کے پارلیمانی رہنما شکایات کے انبار لے کر آتے، جس کی وجہ سے جماعت کو بھی نقصان پہنچا۔
خیال رہے کہ بلوچستان اسمبلی کے ارکان کی تعداد 65 ہے اور قائد ایوان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 33 ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔ بلوچستان میں اپوزیشن اراکین، جس کی تعداد 23 ہے، وہ گذشتہ تین سال سے وزیراعلیٰ جام کمال سے نالاں رہے ہیں اور انہوں نے اس کے خلاف دھرنا دیا اور اسمبلی میں داخل ہونے سے انہیں روکنے کی کوشش بھی کی، جس پر ان کے خلاف مقدمہ بھی درج ہوا تھا۔تحریک اعتماد جمع ہونے کے بعد اس کی سات دنوں کی مدت 19 اکتوبر کو پوری ہو رہی ہے۔ تاہم 12 ربیع الاول کو تعطیل کے باعث امکان ہےکہ بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 20 کو طلب کیا جاسکتا ہے۔
