وزیراعلی پنجاب اور چیف سیکرٹری میں چپقلش عروج پر

پنجاب میں وزیر اعلی عثمان بزدار اور چیف سیکریٹری میجر ریٹائرڈ اعظم سلمان کی باہمی چپقلش کی وجہ سے صوبے میں گورننس مکمل طور پر جام ہو چکی ہے۔ وزیراعلی کا یہ گلہ ہے کہ چیف سیکٹری ان کو وزیراعلی نہیں مانتے جبکہ چیف سیکرٹری کا یہ گلہ ہے کہ وزیر اعلی تمام فائلز روک کر بیٹھے رہتے ہیں جس سے معاملات رکے رہتے ہیں۔
پنجاب میں جب سے کپتان کے وسیم اکرم پلس عرف شیر شاہ سوری کی زیر قیادت حکومت قائم ہوئی ہے چیف سیکرٹری اور وزیراعلیٰ کے درمیان کوئی مثالی تعلق اور تعاون دیکھنے میں نہیں آیا جس کے نتیجے میں صوبے میں گورننس کی ناکامی کا تاثر گہرا ہوتا چلا جارہا ہے۔ یہ تاثر اس لیے بھی مضبوط ہوتاجارہاہےکہ گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران کئی بار اعلیٰ اور نچلی سطح تک بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کی جاتی رہی ہے۔
گورننس کی ناکامی کے اسی تاثر کو زائل کرنے کے لیے دو ماہ پہلے صوبے کی بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرکے ایک سابق میجر اعظم سلمان کو نیا چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس تعینات کرکے مرضی کی ٹیم دی گئی تھی تاکہ ان کی زیر قیادت گورننس کو بہتر بنایا جا سکے۔
وزیراعلی عثمان بزدار کے قریبی ذرائع کے مطابق نئے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کی تعیناتی کے بعد سے ان کا انتظامی معاملات میں عمل دخل نہ ہونے کے برابر ہے لیکن پھر بھی گورننس بہتر نہیں ہوسکی اور اس کی ناکامی کا ذمہ دار اب بھی وزیراعلی کو ہی قرار دیا جا رہا ہے حالانکہ وہ اس وقت نام کے وزیراعلی بن چکے ہیں۔ دوسری طرف سول اور پولیس بیورو کریسی کا یہ کہنا ہے کہ انہیں عہدے تو دے دئیے گے لیکن اختیارات نہیں ملے جس وجہ سے وہ اپنی پرفارمنس دکھانے میں ابھی تک ناکام ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں وفاق کی جانب سے پنجاب میں گورننس بہترکرنے کے لیے مقررکیاگیا تھا لیکن صوبے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر یعنی وزیراعلی کے عدم تعاون کی وجہ سے وہ ناکام ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
ان حالات میں سوال یہ ہے کہ کیا اس بار بھی کیا بیوروکریسی تبدیل ہوگی یا ایوان وزیر اعلیٰ میں تبدیلی آئے گی؟ یاد رہے کہ قاف لیگ اور حکومتی وزیر چوہدری فواد کی جانب سے وزیراعلی عثمان بزدار کی پرفارمنس پر اظہار مایوسی کے باوجود وزیراعظم عمران خان نے پنجاب کے وزیر اعلی کو بدلنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ان کا بھی یہی موقف ہے کے اگر صوبے کے معاملات نئی بیوروکریسی چلا رہی ہے تو پھر گورننس کی ناکامی کی ذمہ داری وزیراعلی پر کیسے عائد ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ پنجاب کے نئے چیف سیکٹری میجر اعظم سلیمان آرمی چیف جنرل باجوہ کے بیج میٹ ہیں اور انہیں اسٹیبلشمنٹ کی خواہش پر پنجاب میں یہ اہم ترین عہدہ دیا گیا تھا۔
تاہم ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید چیمہ نے اس تاثر کو رد کیا ہے کہ وزیر اعلی اور چیف سیکرٹری کے مابین کسی قسم کے کوئی اختلافات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کہا وزیر اعلیٰ اور بیوروکریسی میں بہترین تعلقات ہیں اور دونوں مل کر گڈ گورننس کی کوشش میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’چیف سیکرٹری اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے کیوں کہ انہیں وزیر اعظم نے تعینات کیاہے تاکہ پنجاب میں گورننس بہتر کی جا سکے۔ لہذا وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اپنے لیڈر کے تعینات کیے گئے افسر سے کیسے تعلقات خراب کر سکتے ہیں؟‘ انہوں نے کہاکہ ’بعض سیاسی معاملات پر وزیر اعلیٰ کو پارٹی اراکین اور اتحادیوں کے مسائل سے متعلق سفارش کرنا پڑتی ہے تو چیف سیکرٹری میرٹ کے خلاف کوئی کام نہیں کرتے جس پر وزیر اعلیٰ بھی زیادہ دباؤ نہیں ڈالتے۔‘
لیکن سچ تو یہ ہے کہ پنجاب میں جب سے پی ٹی آئی کی حکومت بنی ہے اس وقت سے ہی انتظامی لحاظ سے ہی حکمران جماعت کو چیلنجز کاسامناہے۔ مبصرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ڈیڑھ سال کے عرصے میں پنجاب کے اعلیٰ ترین عہدے چیف سیکرٹری کے لیے تین بار تبدیلی ہوئی جب کہ آئی جی پنجاب بھی چوتھی مرتبہ تبدیل کیے گئے ہیں لیکن اس بار بھی صورتحال قابو میں دکھائی نہیں دے رہی۔
دراصل میجرریٹائرڈ اعظم سلمان اور آئی جی پنجاب شعیب دستگیر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو اعتماد میں لیے بغیر تعینات کیے گئے اس لیے وہ وزیر اعلیٰ کی سفارش پر کسی افسر کی تقرری یاتبادلہ نہیں کرتے جس سے وزیر اعلیٰ ناخوش ہیں۔ واقفان حال کہا تو یہ بھی دعوی ہے کہ انہی معاملات کی وجہ سے وزیر اعلیٰ پنجاب اور چیف سیکرٹری کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوچکی ہے جس کی وجہ سی ایم ہاؤس میں اہم فائلیں روک کر کام میں رکاوٹ ڈالی جاری ہے۔ لہذا اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو ان امکان یہی ہے کہ بیوروکریسی کی بجائے وزیر اعلیٰ پنجاب کو گھر جانا ہو گا۔ اور اگر وزیراعظم عثمان بزدار کو تبدیل نہ کرنے کے موقف پر ڈٹے رہے تو پھر ان ہاؤس تبدیلی سے وزیراعلی کے جانے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button